ایک واقعہ
Al-Risala, February 1989, pp. 16–19
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے ایک شہر کا واقعہ بتایا جو ۱۹۸۸ میں پیش آیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے شہر میں ہندو فرقہ پرست عناصر نے تین روزہ جلسہ کیا۔ اس میں ایک بہت بڑا بک اسٹال بھی رکھا گیا تھا۔ اس اسٹال پر دوسرے دل آزار لٹریچر کے ساتھ ستیارتھ پرکاش اور رنگیلارسول جیسی کتابیں بھی مسلمانوں نے ان کتابوں کو دیکھا تو ان کے اندر سخت غصہ اور اشتعال پیدا ہوا۔ نے فوراً ایک جوابی جلسہ کیا جس میں تقریباً ۵ ہزار مسلمان شریک ہوئے ۔ مقررین نے پرجوش تقریریں پورا مجمع غصہ اور اشتعال سے بھر گیا ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ یہاں سے اٹھ کر سیدھے ہندوؤں کے اجتماع میں جائیں گے اور وہاں شامیانہ کو توڑیں گے اور کتابوں کو جلا ڈالیں گے۔ عین اس وقت ایک سنجیدہ مقرر اسٹیج پر آیا اس نے ایک تقریر کی ۔ یہ تقریر نہایت کامیاب یہ تقریر مسلمانوں کے مجمع پر ٹھنڈی بارش بن کر برسی ۔ اور ہندو اجتماع کے لیے ایک ایسا شعلہ ثابت ہوئی جس نے براہ راست مداخلت کے بغیر ان کے سارے منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔
مقرر نے کہا کہ اپنی بات کو میں علامہ اقبال کے ایک لطیفے سے شروع کرتا ہوں۔ اس لطیفے کو اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس سے واقعۂ سبق لے سکیں تو وہ آپ کے لیے اس قسم کے تمام فسادات اور شرارتوں کا تیر بہدف علاج ہے۔
لاہور میں علامہ اقبال کے محلہ میں زیادہ عمر کے ایک صاحب تھے جو اکثر علامہ اقبال سے ملنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ ایک روز انھوں نے پوچھا کہ چڑھونی کی حقیقت کیا ہے۔ کیسے ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ (مثلاً کریلا) سے چڑھنے لگے۔ علامہ اقبال نے اس سوال کا کوئی براہ راست جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وہ صاحب واپس چلے گیے۔
اگلے دن علامہ اقبال نے اپنے ملازم کو ان صاحب کے گھر یہ کہہ کر بھیجا کہ جاؤ ان سے آم کا اچار مانگ لاؤ۔ ملازم نے جا کر ان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ نکلے تو اس نے کہا کہ علامہ اقبال نے آم کا اچار مانگا ہے۔ انھوں نے یہ کہہ کر ملازم کو رخصت کر دیا کہ میرے پاس آم کا اچار نہیں ہے۔ کے بعد علامہ اقبال نے دوبارہ ملازم سے کہا کہ ان کے یہاں جاؤ اور آم کا اچار مانگ لاؤ۔ اور دوبارہ ان کو علامہ اقبال کا پیغام پہنچایا۔ انھوں نے کسی قدر تیزی کے ساتھ کہا کہ میں نے تم کو بتا دیا کہ میرے پاس آم کا اچار نہیں ہے۔ علامہ اقبال ہر دو گھنٹہ کے بعد اس آدمی کو مذکورہ صاحب کے پاس آم کا اچار مانگنے کے لیے بھیجتے رہے اور ملازم ہر بار سخت تر لہجہ میں مذکورہ صاحب کا جواب لے کر واپس آتا رہا۔
یہاں تک کہ آخری بار جب ملازم ان کے یہاں گیا تو ان کی شدت غصہ میں تبدیل ہوگئی۔ نے آستین چڑھا کر ڈنڈا اٹھایا اور ملازم کو مارنے کے لیے دوڑے ۔ اب ملازم آگے آگے بھاگ رہا ہے اور وہ صاحب ڈنڈا لیے ہوئے اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔
محلہ کے لڑکوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کو تجسس پیدا ہوا کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے۔ پوچھ کچھ کرنے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ یہ آم کے اچار کا قصہ تھا۔ اب "آم کا اچار" مذکورہ صاحب کی چڑھونی بن گئی۔ اور محلہ کے لڑکوں کو بھی ایک دلچسپ مشغلہ ہاتھ آگیا۔ وہ صاحب جب بھی گھر سے باہر نکلتے، لڑکے ان کے پاس آکر کہتے " آم کا اچار"۔ یہ کہہ کر لڑکے بھاگتے اور وہ بزرگ لڑکوں کے پیچھے دوڑتے۔ آکر انھوں نے یہ کیا کہ وہ ڈنڈا لے کر باہر نکلنے لگے۔ جب بھی وہ گھر سے نکلتے ان کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا
لڑکے آم کا اچار کہہ کر بھاگتے اور یہ ڈنڈا اٹھائے ہوئے ان کے پیچھے دوڑتے ۔ میں ایک روز ایسا ہوا کہ تیز بھاگتے ہوئے وہ ایک گڑھے میں گر پڑے اور ان کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ مہینوں کے علاج کے باوجود ان کی ہڈی درست نہ ہوسکی ۔ جس ڈنڈے سے انہوں نے لڑکوں کو مارنے کے لیے بنایا تھا ۔ وہ ان کی سہارے کی لاٹھی بن گئی جس کو ٹیک کر وہ چلتے تھے۔ وہ اسی حالت پر باقی رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ۔
مقرر نے مسلمانوں کے مذکورہ جلسہ میں جب یہ لطیفہ سنایا تو مسلمانوں کا جوش اچانک ہنسی میں تبدیل ہو گیا ۔ مقرر نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ فریق ثانی نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ کچھ چیزوں کو ہماری چڑھونی بنا لیا ہے ۔ مثلاً خاص طرح کے نعرے لگانا ، خاص طرح کے مضامین شائع کرنا ، وغیرہ وہ لوگ ہم کو چڑھاتے ہیں اور ہم چڑھ جاتے ہیں۔ اگر ہم شعوری طور پر اس بات کو جان لیں کہ فریق ثانی جو کچھ کرتا ہے وہ دراصل چڑھونی کا معاملہ ہے اور چڑھونی کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ اگر چڑھے تو وہ چڑھونی ہے ، اور اگر نہ چڑھے تو اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ وہ ایسا پٹاخہ ہے جو پھسہ سا کر
میں مسلمانوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ یہ طے کر لیں کہ فریق ثانی خواہ آپ کو کتنا ہی چڑھائے اور خواہ کیسی ہی چڑھونی آپ کے خلاف استعمال کرے ، آپ کسی حال میں بھی نہیں چڑھیں گے۔ آپ ہمیشہ ایسی چیزوں سے اعراض کر کے گزر جائیں گے ۔ اگر آپ ایسا کریں تو یقینی ہے کہ فسادات کی ساری عمارت دھڑام سے گر جائے گی ۔
فسادات کے خلاف اس تیر بہدف نسخہ کا پہلا کامیاب تجربہ خود مذکورہ شہر میں ہوا۔ مسلمان جو اپنے جلسہ گاہ سے اٹھ کر فریق ثانی کے جلسہ میں جاتے ۔ وہاں ان کی کتابوں کو جلاتے اور پھر زیادہ بڑے پیمانے پر خود جلائے جاتے ، ان کا موڈ بالکل بدل گیا۔ ایک کہانی جو المیہ پر ختم ہوتی وہ اچانک طربیہ کی صورت میں بدل گئی۔
اس کے بعد مسلمان ٹھنڈے ہو کر سیدھے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔ مسلمانوں کا اس طرح لوٹنا فریق ثانی کے جلسہ پر بجلی بن کر گرا۔ مسلمانوں نے ان کی کتابوں سے کوئی دل چسپی نہیں لی اور جہاں تک ہندوؤں کا تعلق ہے ، وہ پہلے ہی اس کو خریدنے والے نہ تھے۔ ان کا وسیع پنڈال بھی آدمیوں سے خالی
نتیجہ یہ ہوا کہ تین دن کا اجتماع دو ہی دن میں ختم ہوگیا۔ تمام کتابیں اور تمام دل آزار لٹریچر غیر فروخت شدہ حالت میں گاڑیوں میں لاد کر واپس گیا تاکہ دوبارہ ردی خانہ میں جا کر فروخت
یہ فسادات کو ختم کرنے کا تیر بہدف نسخہ ہے۔ یہ یقینی طور پر ہر قسم کے فرقہ وارانہ فسادات کا میری رائے ہے کہ مسلمان اس واقعہ کو آڈیوٹیپ یا ویڈیوٹیپ پر ریکارڈ کر کے تیار رکھیں اور جہاں بھی فرقہ وارانہ فساد کا اندیشہ ہو فوراً وہاں پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو سنائیں یا اس کی تصویریں دکھائیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد فسادات کا سلسلہ اس طرح ختم ہو جائے گا جیسے جلتی آگ پر پانی ڈالا جائے اور وہ سجھ کر رہ جائے۔
اسلامی شریعت میں عورت کا مقام اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل از: مولانا وحیدالدین خاں ( صفحات ۲۹۲ ، قیمت ۳۵ روپیہ )