Al-Risala · February 1989

قال اللہ، قال الرسول

Al-Risala, February 1989, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں منکرین حق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ــــــــ اور انھوں نے شروع کیا تم سے پہلی بار (وَھُم بَدَءُ اکم اَوَّلَ مَرَّةٍ ، التوبہ (۱۳) مفسرین نے اس کی تشریح میں یہ قول نقل کیا ہے کہ البادئ اظلم (شروع کرنے والا زیادہ ظالم ہے )

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

عن ابی ھریرۃ ، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اذا قلت لصاحبک يوم الجمعة انصت علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن تم اپنے ساتھی والامام يخطب فقد لغوت سے کہو کہ چپ رہو جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو (متفق عليه) تو تم نے لغو کام کیا۔

قرآن کی مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو آدمی آپس میں لڑجائیں تو ان میں سے جس شخص نے ٹکراؤ میں پہل کیا ہے ، وہ زیادہ بڑا ظالم قرار پائے گا۔ اجتماعی زندگی میں اختلاف یا شکایت کے مواقع آتے ہیں۔ مگر ایسے مواقع پر آدمی کو پرامن تدبیر پر رکے رہنا ہے۔ لیے کسی حال میں یہ جائز نہیں کہ وہ حد کو پار کر کے ٹکراؤ اور تصادم کے میدان میں داخل ہوجائے۔ اوپر جو حدیث نقل کی گئی، اس سے ایک اور اسلامی اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر ایک آدمی غلطی کر بیٹھے تو دوسرے آدمی کو چاہیے کہ وہ اس سے اعراض کرے، وہ ہرگز نہ جوابی غلطی نہ کرے ۔ جوابی غلطی ، ایک غلطی کو دو غلطی بنا دیتی ہے ۔ وہ اس برائی میں مزید اضافہ کر دیتی ہے جس کو برداشت نہ کر کے اس کے خلاف اقدام کیا گیا تھا۔

یہ خدا اور رسول کا حکم ہے۔ اس کے مطابق آدمی کو پہلی غلطی سے بھی بچنا ہے اور دوسری جوابی غلطی سے بھی ۔ کیوں کہ پہلی غلطی کرنے والا اگر ظالم ہے تو دوسری غلطی کرنے والا لائی ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا ظلم کرنے والا وہ ہے جو جارحیت کا آغاز کرے۔ اور سب سے زیادہ لغو کام کرنے والا وہ ہے جو ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کرے۔ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کو ظلم سے بھی بچنا ہے اور لغو کام کرنے سے بھی۔

اسلام اولاً فساد کی پہل کرنے والوں کو روکتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص پہلی نادانی کر بیٹھے تو اسلام کا تاکیدی حکم یہ ہے کہ فریقِ ثانی ہرگز دوسری نادانی نہ کرے ۔

ہندوستان میں ہولی کے دن ایک ہندو کچھ مسلمانوں کے اوپر رنگ ڈال دیتا ہے۔ ہو کر لڑنے لگتے ہیں۔ اور پھر ساری بستی میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتا ہے۔ پاکستان کے ایک ہوٹل میں کسی مسئلہ پر تکرار ہوتی ہے۔ ایک پٹھان کچھ مہاجرین کے اوپر گرم چائے کی پیالی پھینک دیتا ہے۔ یہ مہاجرین مشتعل ہو کر لڑ پڑتے ہیں۔ اور اس کے بعد پورے شہر میں مہاجر مسلمان اور پٹھان مسلمان کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے۔

ان واقعات میں بلاشبہر فساد کا آغاز کرنے والا ہندوستان میں ہندو اور پاکستان میں پٹھان مگر قرآن کی رو سے دیکھئے تو دونوں جگہ فساد کو بڑھانے کی ذمہ داری فریق ثانی پر عائد ہوتی ہے۔ میں مسلمان کے اوپر اور پاکستان میں مہاجر کے اوپر۔ کیوں کہ دونوں جگہ فریق ثانی نے یہ کیا کہ فریق اول کے جس واقعہ پر قرآن نے عفو و درگزر کا حکم دیا تھا ۔ اس کو انھوں نے انتقام اور جوابی کارروائی کا عنوان بنایا۔

موجودہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے مذکورہ نوعیت کے چھوٹے چھوٹے واقعات بہ حال ہر جگہ پیش آئیں گے، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک ۔ تخلیقی منصوبہ کا فطری نتیجہ ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو بنایا ہے۔ اسی لیے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو اعراض کے خانہ میں ڈال دو۔ اس کو اشتعال اور انتقام کا مسئلہ نہ بناؤ۔ اب جو شخص ایسانہ کرے وہ بلاشبہ غلطی پر ہے ۔ کیوں کہ وہ خدا کے نظامِ تخلیق پر راضی نہیں ہوا۔

ہندوستان اور پاکستان میں جو لوگ عفو و درگزر کے اصول کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، وہی لوگ "پٹرو ڈالر" کے ملکوں میں جاکر مبالغہ کی حد تک عفو و درگزر کے اصول کی پابندی کرتے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں قرآن کے حکم کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اہمیت پٹرو ڈالر کے حکم کی ہے۔ اس سے زیادہ عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود یہ لوگ اپنے آپ کو قرآن کا مومن کامل سمجھتے ہیں ۔

Printed page