Hellfire from the heavens
Al-Risala, February 1989, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک خوفناک ہوائی حادثہ کی رپورٹ ہے جو ۲۸ اگست ۱۹۸۸ کو مغربی جرمنی میں پیش آیا ۔ کے قریب ریمسٹین ائیر بیس (Ramstein Air Base) پر ایک ہوائی مظاہرہ (Air Show) ہو رہا تھا۔ جس میں جدید ترین قسم کے دس فوجی جہاز حصہ لے رہے تھے۔ اس نمائش کا نام دل کے درمیان تیر (Arrow through the heart) رکھا گیا تھا۔ تقریباً ۳ لاکھ (300,000) آدمی اس خصوصی مظاہرہ کو دیکھنے کے لیے جمع تھے۔
نقشہ ذیل کے مطابق ، دس جہازوں نے فضا میں اڑ کر دل کی تصویر بنائی۔ یہ سب جیٹ جہاز تھے جو ۳۵۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک جہاز کو پرواز کے دوران الگ ہوکر "دل" کے اندر سے تیر کی مانند پار ہونا تھا۔ جہاز کے ماہر پائلٹ نے حسب پروگرام جہاز کو اڑایا۔ مگر حساب کی معمولی اس نقشہ کو دیکھیئے ۔ دس ہوائی جہاز ایک ساتھ اڑ کر اوپر پہنچتے پھر ان میں سے دس جہاز ایک طرف اور ۴ جہاز دوسری طرف جا کر اپنے پیچھے سے لال ، سفید اور ہرے رنگ کا دھواں نکالتے ہوئے فضا میں دل کی شکل دیا پان کے پتے کی شکل بناتے ان میں سے ایک جہاز بیچ سے الگ ہو کر پیچھے کی طرف جاتا ہے اور پھر واپس ہو کر " دل " کے اندر سے پار ہو کر باہر نکل جانا چاہتا نیچے "ستارہ" کے مقام پر وہ دوسرے جہاز سے ٹکرا جاتا کیوں کہ مقررہ حساب کے خلاف وہ کسی قدر جلد اور کسی قدر نیچے آگیا تھا۔
غلطی سے یہ جہاز (تیر) دوسرے جہازوں کے مقام اتصال پر چند سیکنڈ پہلے پہنچ گیا۔ نیز یہ کہ اس جہاز (تیر) کو دوسرے جہازوں کی سطح پرواز سے کسی قدر بلندی پر اڑنا تھا۔ مگر اس کی سطح پرواز مقام اتصال پر عین دہی ہو گئی جو مقابل کے دوسرے جہاز کی تھی ۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ "تیر" فضاسے پار ہونے کے بجائے مقابل کے جہاز سے ٹکرا گیا۔ میں فوراً آگ لگ گئی۔ عام حالات میں فوجی جہازوں کی یہ غیر معمولی نمائش لوگوں کے اندر زبر دست جوش ومسرت پیدا کرنے کا سبب بنتی۔ مگر مذکورہ حادثہ کے بعد وہ جہنمی لمحات (Hellish mintues) میں تبدیل ہوگئی۔
یہ جہاز رانی کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ بھیانک ہوائی حادثہ تھا۔ تین جہازوں کے پائلٹ اپنے جہازوں کے ساتھ فوراً ہلاک ہوگئے۔ نمائش دیکھنے والوں میں تقریباً ۴۰ آدمی جل کر مر گئے۔ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ یہ حادثہ اتنا اچانک تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ بھی کوئی تماشہ ہے۔ ایک شخص نے کہا:
I thought it was just some kind of special effect. اس ہوائی مظاہرے کی تصویریں ٹیلی ویژن پرلی جارہی تھیں۔ چنانچہ شروع سے آخر تک تمام مناظر رنگین تصویروں کی صورت میں ریکارڈ ہوگئے۔ ٹائم کی مطبوعہ تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ جہازوں کے ٹکراتے ہی زبردست آگ لگ گئی۔ جہازوں کے جلتے ہوئے ٹکڑے کھڑی ہوئی کاروں پر گرتے ہیں اور کاریں جلنے لگتی ہیں۔ تماشائیوں کے مجمع کے اوپر آگ سرخ بادل کی طرح امنڈ پڑتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آسمان سے جہنمی آگ کا بہت بڑا گولہ گر پڑا ہو ۔
خوشیاں اچانک غم میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ لوگ بد حواسی کے عالم میں ادھر اُدھر بھاگ رہے ایک شخص نے کہا کہ۔ میں چیخ پڑاکہ ہائے خدا۔ میں نے اوپر دیکھا تو وہاں آگ کے سوا اور کچھ نہ تھا :
"I yelled, 'Oh, God,' and looked over my shoulder and saw nothing but fire."
یہ ہوائی مظاہرہ انتہائی تربیت یافتہ فوجی پائلٹ انجام دے رہے تھے۔ منتظمین کو ان کی
مہارت پر اتنا اعتماد تھا کہ وہاں کوئی ایمبولنس کار تک موجود نہ تھی ۔ وہ اس قسم کے حادثہ کی بالکل امید نہیں رکھتے تھے ۔ چنانچہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال پہنچانے میں سخت مشکل پیش آئی ۔ اس انسانی واقعہ میں بہت بڑا خدائی سبق ہے ۔ وہ یہ کہ ’ دل کے درمیان سے تیر ‘ گزارنے کا جو عمل جرمنی کے ہوا بازوں نے بہت چھوٹے پیمانہ پر کرنا چاہا اور وہ اس میں ناکام رہے ۔ عمل بہت زیادہ بڑے پیمانہ پر وسیع کائنات میں ہر آن ہورہا ہے ، مگر یہاں کسی قسم کا حادثہ پیش
آسمان میں ستاروں کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی تمام سمندروں کے کنارے ریت کے ذروں کی تعداد ہے ۔ یہ تمام ستارے ہر لمحہ نہایت تیزی سے حرکت کر رہے ہیں ۔ مگر ان میں کبھی ٹکراؤ نہیں ایک کہکشاں جس کے اندر اربوں کی تعداد میں بڑے بڑے ستارے ہوتے ہیں ، وہ حرکت کرتی ہوئی دوسری کہکشاں کے اندر داخل ہوتی ہے اور پھر اس کے پار ہوجاتی ہے ، مگر دونوں کہکشاؤں کے ستارے آپس میں نہیں ٹکراتے ۔
یہ واقعہ کھلا ہوا ثبوت ہے کہ کوئی بہت بڑا انتظام کرنے والا ہے جو اس کائنات کا انتظام کر رہا ہے ۔ ایک اتھاہ قوتوں والا انتظام کار اگر اس دنیا کے پیچھے نہ ہو تو سارا کائناتی کارخانہ اسی طرح تباہ و برباد ہو کر رہ جائے جس طرح جرمنی کی ہوائی نمائش تباہ ہو کر رہ گئی ۔ میوات کا سفر صفحات ۲۲۰ ھدیہ ۔