صدر اسلامی مرکز
Al-Risala, February 1989, pp. 29–34
By Maulana Wahiduddin Khan
نئی دہلی کے افغانی سفارت خانہ سے مجھے ان کا خط مورخہ ۴ اکتوبر ۱۹۸۸ ملا جس میں فرسٹ سیکرٹری کے دستخط تھے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی اسلامی وزارت اور وہاں کی مجلس علماء کے اشتراک سے ایک انٹرنیشنل سیرت کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔ یہ کانفرنس ۲۲ - ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۸ کو کابل مجھے دعوت دی گئی تھی کہ میں اس کانفرنس میں شرکت کروں اور وہاں سیرت کے یونیورسل پہلو پر ایک مقالہ پیش کروں۔ اس دعوت کے مطابق کابل (افغانستان) کا سفر ہوا۔
۲۰ اکتوبر کو صبح پونے پانچ بجے کا وقت تھا۔ فضا میں ابھی سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اچانک باہر سے ہارن کی آواز آئی۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ کل شام کو "ٹیکسی اسٹینڈ" سے ٹیلیفون پر کہا گیا تھا کہ ہم کو صبح پونے پانچ بجے ایک ٹیکسی کی ضرورت ہے۔ اس کے مطابق ٹیکسی والا ٹھیک چار بج کر 45 منٹ پر ہمارے گیٹ کے سامنے موجود تھا، نہ ایک منٹ پہلے اور نہ ایک منٹ بعد۔
ٹیکسی والا اپنے پیشہ کے معاملہ میں امتیازیادہ پابند کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنے پیشہ کو اپنے ذاتی انٹرسٹ کی چیز بنا رکھا ہے۔ کوئی معاملہ جب آدمی کے لئے ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ بن جائے تو اس کے بارہ میں وہ ہر بات کو بتائے بغیر جان لیتا ہے۔ اس کے لئے اس کی تمام ذہنی اور عملی قوتیں جاگ اٹھتی مسلمانوں نے اسلامی دعوت کے معاملہ کو اپنے ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں اسلامی دعوت کے معاملہ میں وہ کردار نظر نہیں آتا جس کا ایک نمونہ ٹیکسی والے کے یہاں ملتا ہے۔ گھر سے ایرپورٹ کے لئے روانہ ہوا تو سڑک کے دونوں طرف سر سبز درختوں کی قطاریں مسلسل چلی اس کو دیکھ کر مجھے ۱۹۸۳ کا سفر یاد آیا جب کہ الشیخ علی الحویتی (قاضی شارجہ) مجھے اپنے رہائشی مکان پر لے گئے تھے جو کہ شہر سے تقریبا ۲۱ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ سفر پور اکا پورار تیلی میدان دہلی کا سفر اگر سر سبز ماحول میں تھا تو شاربہ کا یہ سفر صحرائی ماحول میں۔ اس دنیا میں درخت اس لئے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر شکر کرے۔ "صحرا" اس لئے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر صبر کرنا سیکھے۔ آدمی دونوں قسم کی چیزوں کو دیکھتا ہے مگر وہ ان سے نہ شکر کا سبق لیتا ہے اور نہ صبر کا۔
دہلی میں دو ایرپورٹ ہیں اور دونوں کے درمیان کافی فاصلہ ہے۔ ٹیکسی والے نے ہم کو قریب کے
ہوائی اڈہ (پالم ایئر پورٹ) پر پہنچا دیا۔ یہاں معلوم ہوا کہ کابل کا جہاز اگلے ہوائی اڈہ (اندر ایئر پورٹ) سے جائے چنانچہ پالم سے واپس ہو کر دوبارہ آگے کے لئے روانہ ہوئے۔ چوں کہ ہم گھر سے کسی قدر پہلے روانہ ہو گئے تھے اس لئے اس تاخیر سے کوئی نقصان نہیں۔ اسی قسم کے اتفاقات ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وقت سے پہلے روانہ ہوتا کہ اگر راستہ میں تاخیر کا کوئی اتفاقی سبب پیش آجائے تب بھی وقت پر اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔ اس تجربہ کے بعد مجھے حضرت ابو ہریرہ کی وہ حدیث یاد آئی جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے: قال رسول صلی الله عليه وسلم: مَنْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی کو خَافَ أَدْلَجَ وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ اندیشہ ہوتا ہے وہ رات سے اپنا سفر شروع أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللهِ غَالِيَةٌ أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ کرتا ہے، اور جو رات سے اپنا سفر شروع کرتا ہے وہی اللهِ الْجَنَّةُ (دن میں) اپنی منزل پر پہنچتا ہے۔ بس لو کہ اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے، سن لو کہ اللہ کا سودا جنت ہے۔
دنیا کے مقصد کو پانا ہو یا آخرت کے مقصد کو پانا، دونوں ہی میں خصوصی اہتمام کرنا ضروری ہے خصوصی اہتمام کے بغیر نہ دنیا کا مقصد صحیح طور پر حاصل کیا جا سکتا اور نہ آخرت کا۔ جہاز کو مقررہ وقت کے اعتبار سے ساڑھے سات بجے روانہ ہونا تھا۔ تمام مسافر جہاز میں بیٹھے ہوئے اُڑان کا انتظار کر رہے تھے کہ آدھ گھنٹہ بعد پائلٹ نے ہوائی جہاز کے ایڈریس سسٹم پر اعلان کیا کہ جہاز کے ایک پہیہ میں پریشر کم پایا گیا ہے۔ اس لئے اس کو بدلا جا رہا ہے۔ آپ اس دیری کے لئے ہمیں معاف دیری بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ جہاز نہ روانہ ہوا تو گھڑی میں ساڑھے دس بج رہے تھے۔ مقررہ وقت سے دو گھنٹہ بعد دہلی سے کابل تک جہاز کو پہنچنے کے لئے ڈھائی گھنٹہ درکار تھا۔ مگر دہلی میں پہیہ کی اصلاح میں دو گھنٹے لگ گئے۔
جہاز کے ساتھ یہ جو حادثہ پیش آیا، اس کا جھٹکا“ جہاز سے زیادہ جہاز کے مسافروں کو برداشت کرنا پڑا۔ کسی نے سہی کہا ہے کہ چلتی ہوئی سواری پر مسافر کی حیثیت شاک ابزار ہر (جھٹکا سہنے والے) کی ہوتی ہے:
Passengers are shock absorbers on moving vehicles. ایئر پورٹ کے اندر داخل ہوئے تو ایسا معلوم ہوا گویا ہم ایک اور ملک میں پہنچ گئے ہیں۔
ہر چیز کا معیار مختلف تھا۔ ایئر پورٹ کے باہر اگر دیسی ہندوستان “ کا منظر تھا تو ایئر پورٹ کے اندر ”دیسی ہندوستان “ کا۔ ہر ملک خواہ وہ کتنا ہی غریب ہو، یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے ایئر پورٹ کو بین الاقوامی معیار پر بنا لے۔ ” ایئر پورٹ “ گویا ہر ملک کا ایک تہذیبی جزیرہ ہے۔
ایک سیاح تھوڑے دنوں کے لئے ہندوستان آیا۔ اس نے ان مقامات کا سفر کیا جہاں ہوائی جہاز اس کو لے جاسکتا تھا۔ اس نے لال قلعہ اور تاج محل جیسی قابل دید چیزوں کا مشاہدہ کیا اور پھر اپنے ملک کو واپس چلا گیا۔ اس سیاح کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس نے ہندوستان کے تہذیبی جزیرہ کو دیکھا، وہ وسیع تر ہندوستان کو نہ دیکھ سکا۔ ایسی حالت میں عجب نہیں کہ وہ واپس جاکر لکھے : ہندوستان کے لوگ بہت خوش قسمت ہیں۔ وہ ہوائی جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔ جب وہ زندہ ہوتے ہیں تو وہ لال قلعہ میں رہتے ہیں، اور جب مرتے ہیں تو تاج محل میں دفن ہوتے ہیں ـــــ مصنوعی مشاہدہ اور حقیقی مشاہدہ میں کتنا زیادہ فرق ہے۔
ہوائی جہاز جب بلند ہو کر فضا میں اُڑتا ہے، اس وقت آپ نیچے زمین کی طرف دیکھیں تو زمین کی سطح پر ہر چیز معمولی دکھائی دیتی ہے ـــــ مکانات چھوٹے چھوٹے گھروندوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ سڑکیں پھیلی ہوئی لکیر کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ سمندروں میں تیرتے ہوئے جہاز دیا سلائی کی ڈبیا معلوم بڑے بڑے پہاڑ اس طرح دکھائی دیتے ہیں جیسے کہ وہ صرف ٹیلے ہوں۔ اونچے کھڑے ہوئے درخت پودے کی مانند نظر آتے ہیں۔
میں نے اس منظر کو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ ہوائی جہاز ” عالم سفلی “ سے اوپر اٹھ کر ” عالم علوی “ میں سفر کر رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ مادی مشاہدہ ایک روحانی حقیقت کی تمثیل ہے۔ مومن کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے کہ اس کا جسم بظاہر عالم سفلی میں ہو، مگر اس کی روح یا اس کا فکری وجود عالم علوی میں سفر کر رہا ہو ۔ موجودہ دنیا میں اس طرح اپنے آپ کو بلند کرنا در حقیقت حیات دنیا سے گزر کر حیات آخرت کا تجربہ کرنا ہے۔ آج کی دنیا میں یہ تجربیاتی طور پر ہوتا ہے۔ موت کے بعد کی زندگی میں یہ تجربہ واقعی طور پر ہوگا۔
جہاز میں آج کے اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات مطالعہ کے لئے موجود تھے۔ اخبار اٹھایا تو ہر ایک کی پہلی سرخی ایک سخت ہوائی حادثہ کے بارہ میں تھی۔ نو بھارت ٹائمز ۲۰ اکتوبر کی پہلی سرخی یہ تھی :
دو دومان درگھٹاؤں میں 164 مرے : ٹائمس آف انڈیا (۲۰ اکتوبر) کی پہلی آٹھ کالی سرخی یہ تھی : 164 killed as IA, Vayudoot planes crash یہ ہندوستان کی شہری ہوابازی کی تاریخ میں دوسرا سب سے زیادہ ہولناک حادثہ تھا۔ پہلا شدید حادثہ وہ تھا جو ۲۳ جون ۱۹۸۵ کو پیش آیا۔ ایئر انڈیا کا ایک جہاز (کنشک) ایک بم کے پھٹنے سے تباہ ہوگیا تھا اور بحر الکاہل میں گر پڑا تھا۔ موجودہ حادثہ دو الگ الگ جہازوں کا تھا مگر وہ ایک ہی دن ہوا۔ احمد آباد میں اور دوسرا گوہاٹی میں۔ دونوں موسم کی خرابی کی بنا پر ہوئے۔ احمد آباد میں تباہ ہونے والا جہاز جب ہوائی اڈے کے اوپر پہنچا تو وہاں فضا میں سخت کہر کی وجہ سے اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ زمین پر دیکھ نہ سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ (۲۰ اکتوبر ) کے مطابق جہاز ہوائی اڈہ کے اندر اترنے والی سڑک پر اترنے کے بجائے باہر ایک کھیت میں اتر گیا اور وہاں درختوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا :
Instead of landing at the airstrip, it crashed into a field in the outskirts of the city. اسی طرح چند دن پہلے اخبار کے صفحہ اول پر ایک تصویر تھی جس میں ایک ٹوٹا ہوا جہاز آگ کے شعلوں کی نذر ہورہا تھا۔ یہ یوگنڈا کی کمپنی (Ugandan Airlines) کی فلائٹ نمبر775 تھی۔ بوئنگ جہاز لندن سے براستہ روم یوگنڈا جا رہا تھا۔ اس پر عملہ سمیت ۵۲ مسافر سوار تھے۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۸ کی شام کو اسے کچھ دیر کے لئے روم کے ہوائی اڈہ پر اترنا تھا۔ یہاں شدید کہر چھایا ہوا تھا۔ جہاز کا پائلٹ رن وے کو صاف طور پر دیکھ نہ سکا۔ چنانچہ جہاز ایک پختہ عمارت (Hangar) سے ٹکرا گیا۔ ٹکراتے ہی جہاز آگ کا ایک گولابن گیا۔ بیشتر لوگ اسی وقت تقریباً ۲۰ آدمی اُس حالت میں اسپتال میں پہنچائے گئے کہ ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اور بدن آگ کے اثر سے جھلسا ہوا تھا۔
زندگی حادثات سے اتنی زیادہ بھری ہوئی ہے کہ آدمی اگر حادثات کو یاد رکھے تو اس کے اعصاب پھٹ جائیں اور پھر وہ کوئی سفر یا دوسرا کوئی اقدامی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ذہن کی وہ صفت ہے جس کو قدیم زمانے میں فراموشی کہا جاتا تھا ، اور موجودہ زمانہ
میں اس کو لاشعور کا معاملہ کہا جاتا ہے۔
جدید نفسیاتی تحقیقات بتاتی ہیں کہ انسان جب رات کو سوتا ہے تو اس کا ذہن خود کار مشین کی طرح ایک خاموش کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ یاد رکھنے کے قابل باتوں کو تو زندہ شعور کے خا میں باقی رکھتا ہے، اور دوسری تمام باتوں کو دماغ کے پچھلے خانہ (لا شعور) میں ڈال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے ساتھ دن میں ایک سخت واقعہ پیش آتا ہے، شام کو وہ اس حال میں سوتا ہے کہ وہ اعصابی تناؤ میں مبتلا ہوتا ہے۔ مگر صبح کو جب وہ اٹھتا ہے تو وہ تروتازہ ہو جاتا ہے۔ اگر انسانی ذہن عام مشینی کمپیوٹر کی مانند ہوتا اور تمام پیش آنے والی باتوں کو یکساں طور پر اپنی یادوں میں لئے رہتا تو انسان کے لئے زندگی گزارنا ہی ناممکن ہو جاتا۔
اخبار میں ایک عبرت انگیز خبر پڑھی جو نیویارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ مطابق 17 اگست ۱۹۸۸ کا ہوائی حادثہ جس میں جنرل ضیاء الحق، امریکی سفیر اور دوسرے بہت سے ”وی آئی پی“ ہلاک ہوئے، اس کے سبب کے بارہ میں امریکہ اور پاکستان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ پاکستان مصر ہے کہ یہ تخریب کاری (Sabotage) کا نتیجہ تھا۔ جب کہ امریکی ماہرین جنہوں نے حادثہ کے تمام پہلوؤں کا نہایت دیدہ ریزی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حادثہ کا سبب جہاز میں مشینی خرابی۔ (Mechanical failure) تھا۔ امریکہ نے واقعہ کو صرف تکنیکل حقیقت کے اعتبار سے دیکھا۔ واقعہ کا صرف وہی سبب دکھائی دیا جو فی الواقع تھا۔ جب کہ پاکستان کو اس حادثہ سے سیاسی اور قومی فائدہ اٹھانا نہ تھا۔ اس لئے اس نے ماہرین کی رپورٹ کی اشاعت کو ”عوامی مفاد“ کے خلاف قرار دے کر اعلان کر دیا کہ اس کا سبب تخریب کاری تھا۔
امریکی حکام نے تاریخ نگاری کے اصول کو اختیار کیا، پاکستانی حکام نے تاریخ سازی کے طریقہ کو، اور دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز پائی جاتی ہے وہ یہی تاریخ سازی ہے۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ کے مسلمان لکھنے والے تو شاید تاریخ سازی کے سوا کچھ اور جانتے ہی نہیں۔ ملاپ (20 اکتوبر ۱۹۸۸ء) میں دسہرہ کی مناسبت سے اداریہ تھا: من کارادن کب جلے گا۔ میں ایڈیٹر نے لکھا تھا کہ ”آج دسہرہ کے دن سارا دیش خوشیاں منا رہا ہے۔ کیوں کہ آج کے دن بھگوان رام نے راون روپی برائیوں کو ختم کرکے فتح حاصل کی تھی۔ لیکن دکھ کی بات، یہ ہے کہ صرف پتلا ہی جلایا جاتا ہے
اور باقی برائی جوں کی توں قائم رہتی ہے۔
ایک مسلمان اگر میلاد النبی کے جلسوں پر تبصرہ کرے تو وہ بھی اسی قسم کے الفاظ لکھے گا کہ میلادالنبی کے جشن میں رسول اللہ کے بارہ میں پر جوش تقریریں ہوتی ہیں مگر رسول اللہ کی سنت پر عمل نہیں کیا جاتا۔ میرے نزدیک یہ دونوں تبصرے بالکل بے فائدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخی اعتبار سے دسہرہ کی کوئی اصل نہیں۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ دینی اعتبار سے میلاد النبی کے جشن اور جلوسوں کی کوئی اس لئے دونوں مبصروں کو سرے سے ان رسموں ہی کو لغو قرار دینا چاہئے۔ ہندو مصلح کو یہ کہنا چاہئے کہ دسہرہ کا میلا ایک تاریخی بدعت ہے، اس لئے اس کو ختم کرو۔ اسی طرح مسلمان مصلح کو یہ کہنا چاہئے کہ جشن میلاد النبی" ایک دینی بدعت ہے، اس لئے اس کو بند کرو۔ مگر ایسا کہنے کی ہمت نہ ہندو مصلح میں ہے اور نہ مسلمان مصلح میں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسی زبان بولتے ہی وہ اپنی قوم میں نکو بن جائیں گے۔ مگر اصلاح کا کام ہمیشہ نکو بننے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو نکو بننے کا حوصلہ نہ ہو، انھیں مصلح کا کریڈٹ لینے کی کوشش بھی نہیں کرنا چاہئے۔
جہاز میں ایک عرب مسافر سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ ایک عربی اخبار الوطن (۱۹ اکتوبر یہ کویت سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر ایک چھوٹا سا مضمون چوکٹے میں تھا۔ یہ سوال کے انداز میں تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے: هل تعرفون ما العلاقة بين صمت الانظمة العربية على تقسيم لبنان والمثل العربي القائل بأن الصمت علامة الرضا۔ آپ جانتے ہیں کہ لبنان کی تقسیم پر عرب حکومتوں کی خاموشی اور اس عربی مثل میں کیا نسبت ہے کہ خاموشی رضا مندی کی علامت ہے۔
الوطن العربی کی ایک اور خبر میں بتایا گیا تھا کہ عرب دنیا کی آبادی، تازہ اعدادوشمار کے مطابق، ۱۵۶ ملین ہے (۱۵۶مليون عدد سكان العالم العربی)، یہاں بھی میرا خیال ہے کہ مذکورہ سوال ۱۵۶ ملین عربوں سے کرنے کے بجائے لبنان کے ان مسلمانوں سے کرنا چاہئے جنھوں نے انتہائی نادان سیاست اختیار کر کے وہ صورت حال پیدا کی جو بالآخر تقسیم تک جا پہنچی۔ یہ تقسیم اگر مکمل ہو گئی تو تقسیم کے بعد اس کا جو حصہ مسلمانوں کو ملے گا وہ گویا عرب دنیا کا "بنگلہ دیش" ہوگا۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۸۸ کی صبح کو جب انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ 451 مجھے لئے ہوئے کابل کی طرف جارہی
انھوں نے کہا کہ انڈ نے پاکستان (کراچی، لاہور) کے لئے جو ہوائی سروس جاری کی ہے، وہ ایئر انڈیا بین الاقوامی ہوائی ادارہ کے تحت نہیں ہے، بلکہ انڈین ایئر لائنز (ملکی ہوائی ادارہ) کے تحت اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا نے ابھی تک ہم کو ایک مستقل ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا، وہ ہم کو اپنی وسیع تر سلطنت کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔
دوسری طرف انڈیا کا حال یہ ہے کہ میں ۱۵ اگست، ۱۹۸۸ کو نئی دہلی کے ایک اجتماع میں شریک ہوا۔ میں پاکستان کے قائم مقام سفیر کو چیف گیسٹ کی حیثیت سے بلایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان نا جنگ معاہدہ (No-war pact) کی انتہائی شدید ضرورت ہے تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کی طرف سے بے فکر ہوکر اپنے ترقیاتی کاموں میں لگ سکیں۔ مگر، ان کے بیان کے مطابق، دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان نا جنگ معاہدہ پر صرف اس لئے اب تک دستخط نہ ہوسکے کہ انڈیا کا اصرار تھا کہ مسودہ میں ایک دفعہ یہ بڑھائی جائے کہ پاکستان کسی بیرونی ملک کو اپنی زمین پر فوجی بیس بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔ میرے نزدیک پاکستان اور ہندوستان دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف شبہات کا شکار مگر انڈیا کے بارہ میں پاکستان کا شبہہ بھی غلط ہے اور پاکستان کے بارہ میں انڈیا کا شبہہ بھی غلط ہے۔ شبہات ایسے ہی بے بنیاد ہیں جیسے کہا جائے کہ انڈیا یا افغانستان کو اپنے ملک کا ایک صوبہ سمجھتا ہے، حتی کہ بنکاک پورٹ بلیر، سنگاپور، مالدیپ وغیرہ کو بھی، کیوں کہ اس نے ان تمام جگہوں پر ایر انڈیا کے بجائے انڈین ایئر لائنز کے تحت اپنی ہوائی سروس جاری کر رکھی ہے۔
ایک معاملہ کو شبہ کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ بھا جلے تو دہ بھیا تک بن جاتا ہے۔ اسی معاملہ کو شبہات سے اوپر اٹھ کر دیکھیں تو وہ معمولی قسم کا ایک سادہ واقعہ معلوم ہوگا۔
”تھوڑی دیر بعد ہمارا جہاز کابل کے ہوائی اڈہ پر اترے گا“ اناؤنسر نے اعلان کیا۔ میں جہاز بالکل نیچے آگیا اور ہوائی اڈہ کی زمین صاف دکھائی دینے لگی۔ اتنے میں اچانک ہوائی جہاز اوپر اٹھنے لگا۔ اس نے فضا میں بلند ہو کر چند چکر لگائے اور پھر کسی قدر تاخیر کے ساتھ ہوائی اڈہ پر اترا۔ وجہ غالباً یہ تھی کہ کچھ فوٹو گرافر ہوائی جہاز کا فوٹو لینے کے لئے رن وے پر آگئے تھے۔ اترنے کی صورت میں چوں کہ ان سے ٹکراؤ کا اندیشہ تھا، اس لئے پائلٹ نے جہاز کا رخ دوبارہ اوپر کی طرف کر دیا۔ اور ہوائی اڈہ کا چند
چکر لگا کر دوبارہ نیچے آیا۔
جہاز میں بیک وقت دونوں صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ وہ اوپر جاکر دوبارہ نیچے آسکتا ہے ، اسی طرح وہ نیچے آکر دوبارہ اوپر کی طرف اٹھ سکتا ہے۔ یہی دو گونہ صفتیں زندگی کے وسیع تر سفر کے لئے بھی درکار ہیں۔ لوگ صرف ایک رخ پر بڑھنا جانتے ہوں ۔ وہ اوپر جاکر نیچے نہ اتریں، یا نیچے آکر دوبارہ اوپر نہ جاسکیں، ایسے لوگ کبھی کامیابی کے ساتھ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتے۔
ہوائی اڈہ پر اترا تو نظر آیا کہ اوپر ہر طرف فوجی ہیلی کا پٹرا ڑ رہے ہیں۔ یہ اہتمام سیکیورٹی کی غرض سے کیا گیا تھا۔ میں نے فضا میں دیکھا تو اڑتے ہوئے ہیلی کاپٹر بار بار کوئی چیز گرارہے تھے جو باہر آتے ہی آگ کے گولے کی طرح جل اٹھتی تھی۔ ایک منٹ کے بعد وہ سفید دھوئیں کی لکیر کی طرح فضا میں پھیل جاتی تھی۔ یہ واقعہ نفس میں بار بار ہورہا تھا۔
ایک افغانی سے میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ "پہاڑوں " کی طرف سے لوگ امریکہ کے بنے ہوئے اینٹی ائیر کرافٹ مزائل مارتے ہیں جن کو اسٹنگر (Stinger) کہا جاتا ہے۔ ان اسٹنگروں میں یہ صفت ہے کہ وہ گرم ہیٹر کی طرف تیزی سے جاتے ہیں جس رخ پر انہیں پھینکا گیا ہے ، وہاں سب سے زیادہ گرم چیز ہوائی جہاز کا انجن ہے۔ چنانچہ وہ انجن کا پیچھا کر کے اس کو مارتے ہیں۔ شروع میں اسٹنگر ہوائی جہازوں کو مار گرانے کا بالکل یقینی ذریعہ تھے۔ مگر اس کے بعد روسیوں نے ایک چیز ایجاد کر کے اسٹنگر کو بڑی حد تک بے اثر بنادیا ہے۔ اس ایجاد کا نام فش (Fish) ہے۔ جب اس کو ہیلی کاپٹر کے باہر پھینکا جاتا ہے تو وہ بھڑک کر جل اٹھتا ہے۔ یہ جلنے والا مادہ جہاز کے انجن سے زیادہ گرم ہوتا ہے۔ چنانچہ جب اسٹنگر کو اس کی طرف پھینکا جاتا ہے تو وہ جہاز کے انجن کی طرف جلنے کے بجائے جلتے ہوئے گرم مادہ کی طرف جاکر اس سے ٹکرا جاتا ہے۔ اس طرح ہوائی جہاز بچ کر آگے نکل جاتا ہے۔
یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے: یہاں ہر شخص دوسرے شخص کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ زیر نشانہ آدمی کی کامیابی ہے کہ وہ نشانہ بننے سے بچ کر رہے وہ حکماءِ زندگی کے ذریعہ اپنے آپ کو نشانہ بننے سے بچا لے
اس علاقہ میں ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، عرب اور افغانستان شمار کئے جاتے ہیں۔ میرا تعلق، ایک اعتبار سے خاندانی ہے۔ میرے مورث اعلی حسن خاں مرحوم ایک افغانی پٹھان تھے۔ غالباً ۱۵ ویں صدی عیسوی میں اپنا وطن چھوڑ کر ہندوستان چلے آئے۔ اس زمانہ میں افغانستان کے ہم جو افراد اکثر ہندوستان کا رخ کیا کرتے تھے۔
حسن خاں مرحوم چترال کے رہنے والے تھے۔ چترال کا علاقہ پہلی صدی قبل مسیح میں چینیوں نے فتح ۱۱ ویں صدی عیسوی میں یہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ علاقہ پہلے افغانستان کا حصہ تھا۔ ۱۸۸۹ء میں وہ انگریزوں کی ماتحتی میں آیا۔ ۱۹۴۷ء سے وہ پاکستان کا حصہ ہے۔
ایک افغانی جرنلسٹ مسٹر سرور سے میں نے کہا کہ میرے افغانی مورث اعلی افغانستان کو چھوڑ کر جونپور ( ہندوستان) گئے۔ اس وقت وہاں ایک افغان (سلطان مشرقی) کی حکومت تھی۔ میرے مورث اعلی کھیتاسرائے کے جنگل میں پہنچے تو وہاں ایک شیر سامنے آگیا۔ ان کے پاس اس وقت صرف ایک تلوار تھی۔ تلوار سے انھوں نے شیر کا مقابلہ کیا اور اس کو مار ڈالا۔ ان کی اس بہادری کی خبر سلطان مشرقی تک پہنچی تو اس نے ان کو اپنے دربار میں بلایا اور اس علاقہ میں انھیں جاگیر عطا کی۔ میں نے سرور صاحب سے پوچھا کہ کیا اب بھی افغانستان میں ایسے لوگ ہیں جو تلوار کے ذریعہ شیر کو مار سکیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے ایک عزیز کا واقعہ بتایا کہ ایک بار جنگل میں ان کی ٹکر ایک شیر سے ہو گئی ۔ اس وقت ان کے پاس ایک بڑی چھری تھی ۔ اسی چھری سے انھوں نے شیر کو مار ڈالا۔ اگرچہ اس مقابلہ میں وہ خود بھی کافی زخمی ہوئے ۔
پٹھانوں (افغانی باشندوں) کی تصویر قدیم زمانہ میں " طاقتور بیوقوف" کی تھی۔ پٹھانوں کی بیوقوفی کے بارہ میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔ مثلاً ایک پٹھان کی کسی نے دعوت کی اور اس میں اسے برفی کھلائی۔ پٹھان کو برفی پسند آگئی۔ وہ بازار میں نکلا تو چاہا کہ مزید برفی حاصل کرے۔ ایک دکان پر سفید صابن کی ٹکیاں برائے فروخت رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے سمجھا کہ یہی برفی ہے اور اس کو خرید لیا۔ گھر پر لاکر کھانا شروع کیا تو وہ بہت بدمزہ تھیں۔ پٹھان منہ بگاڑ بگاڑ کر برفی کے ہم شکل صابن کو کھا رہا تھا۔ اس کے بعد جو سوال و جواب ہوا وہ یہ تھا: