آئیں گے غسال کا بل سے کفن جاپان سے
Al-Risala, February 1989, pp. 38–44
By Maulana Wahiduddin Khan
تاہم موجودہ زمانہ میں روس کا افغانستان پر حملہ پٹھانوں کے لئے اس اعتبار سے مفید ثابت ہوا ہے کہ اس نے ان کی سابقہ تصویر بدل دی۔ پہلے اگر ان کی تصویر "طاقتور بے وقوف" کی تھی تو اب ان کی تصویر "طاقتور مجاہد" کی بن گئی اب وہ پوری مسلم دنیا میں ہیرو کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ افغانوں کی بہادری مشہور ہے۔ یہاں بھی ان کی بہادری کے کئی قصے سننے میں آئے۔ میں نے ایک افغانی نوجوان آصف اللہ شمس (عمر ۳۰ سال) سے پوچھا کہ افغانی لوگ اتنے بہادر اور اتنے نڈر کیوں ہوتے انھوں نے جواب دیا کہ ہم لوگوں کو بچپن سے اپنے گھر میں اور اپنے ماحول میں یہی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ کوئی افغان لڑکا یا کوئی افغان آدمی اگر بزدلی کی بات کہے تو فوراً اس کو یہ سننے کو ملے گا کہ تم بے غیرت ہو، تم کو شرم نہیں آتی کہ تم افغانی ہو اور تمہارے اندر افغانیت نہیں:
تو بی غیرت هستی، نمی شرمی افغان هستی و افغانیت نداری۔
مسٹر سالم علی اور ایک انگریز عالم حیوانات کرنل مینز زاگَن (R. Meinertzhagen) چڑیوں کے مطالعہ کے لئے ۱۹۳۵ میں افغانستان گئے۔ انھوں نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ وہ چند ہفتے وہاں مقیم وہ افغانی چڑیوں کی تلاش میں دور دور کے علاقوں میں نکل جاتے۔ سفر کے دوران اکثر ایسا ہوتا کہ وہ اپنا کھانے پینے کا سامان راستہ پر یا سڑک کے کنارے رکھ دیتے اور اپنی دور بینوں کے ساتھ جنگلوں میں چلے جاتے یا پہاڑوں پر چڑھ جاتے۔ جب وہ لوگ اپنا کام کر کے واپس آتے تو وہ تعجب کے ساتھ پاتے کہ ان کا سامان بدستور اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ کھیبیوں کے سوا کسی اور نے ان کو نہیں چھوا ہے: Salim Ali, The Fall of Sparrow, 1987, p. 100. یہ خصوصیت آج بھی افغانیوں میں موجود ہے۔ افغانی آج بھی ایک باکہ دار قوم ہیں تاہم اسی کے ساتھ جان غیر کو مارنا ان کے یہاں اتنا ہی جائز ہے جتنا کہ مال غیر کو لینا نا جائز ہے۔ کابل شہر پہاڑوں کے درمیان آباد ہے۔ بلندی سے دیکھیں تو پورا شہر درختوں اور باغوں
کے جھرمٹ میں نظر آتا ہے“۔ فطرت کی دنیا کتنی حسین ہے! ”اس کو دیکھ کر میں نے سوچا “ مگر ان انسانی دنیا ئیں نہیں“ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت“ پابند“ ہے اور اس کے مقابلہ میں انسان“ آزاد ہے“۔ دنیا میں اس کی مخلوقات کا حسن یہ ہے کہ وہ نظام خداوندی کی پابند بن کر رہے۔ فطرت اس کی مکمل پابندی کرتی ہے اس لئے وہ حسین ہے ، انسان اس کی پابندی نہیں کرتا اس لئے وہ حسین نہیں۔
خدا نے چاہا کہ انسان کی صورت میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرے جو آزاد ہوتے ہوئے بطور خود اپنے آپ کو نظام خداوندی کا پابند بنالے۔ وہ آزادانہ پابندی والے حسن کا نمونہ پیش کرے مگر انسان، کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر، اس خدائی منصوبے میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ آزادی کے باوجود پابندی کا نمونہ نہ اس نے پیش نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں درخت حسین ہے ، مگر انسان حسین نہیں۔ ایک مفکر کے الفاظ میں : اس دنیا میں ہر چیز حسین ہے ، مگر یہاں کی صرف ایک چیز حسین نہیں ، اور وہ انسان ہے۔ ۲۱ اکتوبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز یہاں کی مسجد ” جامع وزیر محمد اکبر خاں میں پڑھی۔ یہ مسجد یہاں کی سب سے خوبصورت مسجد بتائی جاتی ہے۔ خطبہ سے پہلے امام صاحب نے فارسی زبان میں ایک تقریر کی۔ نے اس آیت سے آغاز کیا : کنتم خیرا مة اخرجت للناس (شما امت بہتر است)، انھوں نے کہا کہ امروز حقِّیت اسلام به دنیا واضح است آج اسلام کی حقانیت دنیا پر واضح ہے، مگر ہم خود اسلام کے لئے نہیں اٹھتے۔ انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ آج افغان عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں۔ بچے یتیم ہو رہے ہیں ۔ گھر اجڑ رہے ہیں۔ کاروبار برباد ہو گئے۔ حالانکہ اسلام دین ترحم است۔ آخر میں انھوں نے رقت آمیز انداز میں یہ دعا کی :
خدایا اسلام را اتفاق نصیب کن، خدایا اسلام را برادری نصیب کن۔
مسجد میں ایک بات مجھے بہت پسند آئی کہ تمام لوگ صفوں میں مل کر بیٹھے۔ جب جماعت کھڑی ہوئی تو تمام صفیں بیک وقت کھڑی ہو گئیں۔ وہ صورت پیدا نہیں ہوئی جو دہلی میں نظر آتی ہے کہ جماعت کھڑی ہوتے ہی آگے آئیے آگے آئیے ، کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ جو بعض اوقات قرأت شروع ہونے تک جاری میرے اپنے تجربہ میں دہلی کا مسلمان سب سے زیادہ غیر منظم ہے۔ حتی کہ مسجد کی ہفتہ وار نماز میں بھی ایک ہی بے نظمی سالہا سال سے جاری ہے ، اس میں کوئی کمی یا اصلاح نظر نہیں آتی۔ نماز سے فراغت کے بعد مسجد سے نکلے تو فقیروں کی جماعت دروازہ پر کھڑی ہوئی تھی۔ ان میں بڑی
تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ ان کے پھٹے کپڑوں اور میلے جسموں کے پیچھے خوبصورت افغان چہرے جھلک تعلیم کی کمی اور معاشیات کی بربادی افغانستان میں اپنی آخری حد کو پہنچ رہی ہے۔ ہندوستانی روپیہ چلتا ہے۔ ایک روپیہ پنہ افغانی روپیہ کے برابر ہے۔ اس سے یہاں کی اقتصادی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
مسجد کے دروازہ کے باہر ایک بوڑھا افغانی انار اور سیب بیچ رہا تھا۔ لکڑی کی پرانی گاڑی کے اوپر ایک طرف پھل تھے اور دوسری طرف ترازو اور اس کے ساتھ پتھر کے باٹ۔ گاہکوں کی آمد سے بے پروا ہو کر وہ ہاتھ میں تسبیح لئے کھڑا تھا اور ” سیب لو سیب “ یا ” انار لو انار “ جیسی آوازیں لگانے کے بجائے خاموش تسبیح خوانی میں مشغول تھا۔ افغانستان میں جہازوں کی گڑگڑاہٹ اور بم کے دھماکوں کے سوا مجھے زندگی ہر جگہ ٹھہری ہوئی نظر آئی۔
افغانستان میں پشتو اور دری، دو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں جس زبان کو فارسی کہا جاتا ہے اس کو افغانستان میں دری کہتے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ دری اور پشتو زبانیں ایک دوسرے سے الگ بھی ہیں اور ایک دوسرے سے ملتی جلتی بھی۔ دو تقابلی فقرے سے اس فرق کو سمجھا جا سکتا ہے : من چائی می خورم زه چای خورم من خانه دارم زه کور لرم کابل میں میرا قیام جس ہوٹل در روم 328) میں تھا، اس کو مقامی لوگ اپنی زبان میں میلمہ پال ہوٹل کہتے مگر اس نام کی بنا پر اس کو افغانی ہوٹل سمجھنا ایسا ہی ہوگا جیسے قاہرہ میں " نصر " کار کو دیکھ کر کوئی شخص سمجھے کہ یہ مصری صنعت کی بنائی ہوئی کار ہے۔ مسلم ملکوں میں بہت سی جدید چیزیں ہیں جن کے نام بظاہر مقامی مسلم زبان میں ہوتے ہیں، مگر حقیقتاً وہ خالص مغربی ہوتی ہیں۔
اس ہوٹل کا اصل نام ” انٹر کانٹینٹل ہوٹل “ ہے۔ یہ دراصل مغربی سرمایہ کے تحت قائم شدہ ایک عالمی تجارتی تنظیم ہے جس کا رجسٹرڈ نام Inter-Continental Hotels ہے۔ اس کے تحت یروشلم سے لے کر نیو یارک تک درجنوں شہروں میں ہوٹل قائم ہیں۔ اسی طرح ابوظبی، عمان، قاہرہ ، دبئی ، اصفہان ، کابل، مکہ، مسقط ، ریاض، شارجہ، طائف ، تہران ، کراچی، لاہور وغیرہ
میں بھی اس کے ہوٹل چل رہے ہیں۔ "ہوٹل" اپنے جدید معنوں میں ایک زبردست انڈسٹری ہے اور موجودہ زمانہ کی دوسری انڈسٹری کی طرح مسلمان یہاں بھی بہت پیچھے ہیں۔
میرے کمرہ کے دروازہ پر دستک ہوئی۔ کھولا تو ایک افغانی عالم اندر داخل ہوئے وہ روانی کے ساتھ عربی بول رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں عرب انداز کی تسبیح تھی جس پر مسلسل ان کی انگلیاں چل رہی تھیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ افغانستان میں مسلمانوں کا حال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر لحاظ سے بہت اچھا (خالی من جميع الجهات) انھوں نے بتایا کہ صرف کابل میں ۴۰ مسجدیں ہیں۔ البتہ دینی درس گاہ صرف ایک ہے۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ آخر میں میں نے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے اس طرح اپنا نام بتایا :
حجة الاسلام الشيخ محمد عوض صادقی، معین وزارة الشئون الدينية والأوقاف۔
ایک روز ناشتہ کی میز پر میرے ساتھ ایک افغانی بھائی بھی تھے۔ میز پر مختلف قسم کے کھانے کے سامان موجود تھے۔ اس کے ساتھ ایک پیالہ میں شکر کے ڈلے تھے جو چائے میں ڈالنے کے لئے رکھے ہوئے میں نے افغانی بھائی سے پوچھا کہ یہاں عام افغانی کا روزانہ ناشتہ کیا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت اپنی ڈبل روٹی میں مکھن لگا رہے تھے۔ وہ اچانک ٹھہر گئے۔ انھوں نے شکر کے پیالہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: روٹی اور شکر۔
گفتگو کے دوران میں نے ان سے مزید پوچھا کہ افغانستان میں اتنی زیادہ جہالت ہے۔ لوگ اپنے بچوں کو پڑھاتے کیوں نہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ عام افغانی کو اپنی روٹی کے لئے اتنی زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے کہ بچوں کو پڑھانا اس کے بس میں نہیں۔ افغانی لوگ بے حد محنتی ہوتے ہیں۔ پاس نہایت قیمتی زمینیں ہیں۔ اس کے باوجود افغانی قوم جہالت اور غربت کی شکار ہے۔ کے مطابق امیر امان اللہ خاں کے بعد یہاں کوئی قابل ذکر تعمیری کام نہیں ہوا۔ کابل میں میں ایک افغانی سے ملا۔ اس نے اپنا نام محمد سرور بتایا۔ وہ مجھ سے قطعا واقف نہ تھا۔ حتی کہ اس نے میرا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اس سے میں نے پوچھا کہ افغانی لوگ امیر امان اللہ خاں کے بارہ میں کیا رائے مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ امان اللہ خاں کے بارہ میں عام افغانیوں کی عین وہی رائے ہے جو خود میری رائے ہے۔ اس افغانی نے اپنی زبان میں کہا:
آزادی افغانستان توسط امان اللہ خاں غازی در سال ۱۹۱۹ تامین گردید۔ و مردم افغان اورا بدیدہ قدر می نگرند۔ و هیچ کس در افغانستان اورا بد نمی بیند۔ و در راه اعمار افغانستان او بسیار کوشش زیاد نموده است۔
یعنی امان اللہ خان کے ذریعہ ۱۹۱۹ میں آزادی حاصل ہوئی ۔ افغانستان کے لوگ ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ افغانستان میں کوئی بھی شخص ان کو برا نہیں سمجھتا۔ افغانستان کی تعمیر کی راہ میں انھوں نے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں۔
۲۴ اکتوبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر میرے ساتھ دو تعلیم یافتہ افغانی تھے۔ ایک نے اپنا نام راشد بتایا دوسرے نے کمال۔ میں نے ان سے امیر امان اللہ خاں کے بارہ میں پوچھا۔ دونوں نے ان کی بہت تعریف کی ۔ میں نے پوچھا کہ پھر ان کے زوال کا سبب کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ یورپ گئے۔ نے جدید تعلیم کو دیکھا اور اس کی اہمیت کو محسوس کیا۔ واپس آئے تو انھوں نے چاہا کہ افغانستان میں اصلاحات کریں اور جدید تعلیم کو یہاں رائج کریں۔
انھوں نے کہا کہ "ملاؤں" کا طبقہ ان کے خلاف ہو گیا۔ افغانی علماء کی اکثریت ان کو کافر اور بے دین امیر امان اللہ خاں میں اتنی اعلیٰ خصوصیات تھیں کہ پھر بھی شاید ان کے مخالفین کامیاب نہ ہوتے۔ مگر امیر امان اللہ خاں کی ایک غلطی نے انھیں موقع دے دیا، اور وہ ان کی جلد بازی تھی۔ انھوں نے چاہا کہ جدید اصلاحات افغانستان میں فوراً نافذ ہو جائیں۔ مثلاً انھوں نے پہلے ہی مرحلہ میں کچھ افغانی لڑکیوں کو زرنگ کی تعلیم کے لئے یورپ بھیج دیا۔ اس طرح کا کام اگر وہ رفتہ رفتہ کرتے تو کچھ نہ ہوتا، کیونکہ عوام ان سے خوش تھے۔ راشد صاحب نے بتایا کہ میری ماں نے امیر امان اللہ خاں کو دیکھا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ امان اللہ بہت اچھے اخلاق کے آدمی تھے۔ راستہ چلتے ہوئے بے تکلف عوام سے ملتے اور انھیں پیسہ اور تحفہ پیش کرتے۔ ہر ایک سے یکساں طور پر معاملہ کرتے۔
مگر اس وقت افغانی خاندانوں میں پردہ کا بہت شدت سے رواج تھا۔ جب انھوں نے افغانی لڑکیوں کو نرس کی ٹریننگ کے لئے یورپ بھیجا تو "ملاؤں" کو موقع مل گیا۔ انھوں نے ان کے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ اس وقت بھی امان اللہ خاں کی شرافت تھی کہ انھوں نے مخالفین کو دبانے کے لئے پولیس اور فوج کی طاقت استعمال نہیں کی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ خود اپنی قوم کے خلاف مار دھاڑ کریں۔
از خود ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
امیر اماس اللہ خاں نے ملکی اشیاء رواج دینے کی مہم چلائی۔ انھوں نے کہا کہ اپنے ملک کا کپڑا پہنو۔ اگر کوئی افغانی یا کوئی افسر بیرون ملک کے کپڑے پہنے ہوئے نظر آیا تو انھوں نے فوراً اس کے قریب جا کر اولاً اس کی تعریف کی اور پھر اپنی جیب سے چھوٹی قینچی نکال کر کپڑے کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا اور کہا کہ نمونہ گھر یہم ہم تمہارے کپڑے کا ایک نمونہ لے رہے ہیں، اس طرح اس کے کپڑے کو برباد کر دیتے ۔ امان اللہ خاں راتوں کو اکیلے گھومتے تھے۔ چوں کہ کابل میں رات کو اکیلے نکلنا منع تھا، ایک مرتبہ ایک سپاہی نے ان کو گرفتار کر لیا۔ تاہم امان اللہ خاں نے ناخوش ہونے کے بجائے اس کی فرض شناسی پر اس کو انعام دیا۔ امان اللہ خاں نے اپنے ملک میں تعلیم جاری کی، سائنس کی تعلیم کے لئے لڑکوں کو لندن بھیجا۔ ان افغانی طلبہ کے ساتھ انھوں نے ایک عالم بھی حکومت کے خرچ پر روانہ کیا۔ انھوں نے یہ تاکید ہی ہدایت کی کہ ان کے اسکول کے عیسائی لڑکے جب چرچ جائیں تو افغانی لڑکے اس وقت قرآن کی تلاوت کریں (۴۹)
امیر امان اللہ خاں ۱۹۱۹ سے ۱۹۲۹ تک افغانستان کے حکمراں تھے۔ اس کے بعد ملک میں ان کے خلاف بغاوت ہوئی۔ یہاں تک کہ انہیں ملک چھوڑ کر باہر چلا جانا پڑا۔ اسی جلا وطنی کی حالت میں ۲۵ اپریل ۱۹۶۰ کو نیو یارک میں ان کا انتقال ہو گیا۔
امان اللہ خاں کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا خاص الزام ان کے اوپر یہ تھا کہ وہ خلاف شرع طریقے ملک میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً وہ چاہتے تھے کہ افغان عورتیں گھر سے باہر نکل آئیں اور بے پردہ ہو کر مردوں کے ساتھ کام کریں۔
مگر یہی پٹھان تھے جنھوں نے ان سے تقریباً سو سال پہلے سید احمد شہید بریلوی کے معاملے میں اس سے بالکل مختلف روش اختیار کی۔ سید صاحب نے پٹھانوں کے علاقے میں اسلامی امارت قائم کی اور شرعی قوانین (زکوٰۃ وغیرہ کا قانون جاری کیا۔ مگر پٹھانوں نے شرعی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی امیر امان اللہ خاں کے خلاف بغاوت کو اگر دینی حمیت یا اسلامی جہاد کہا جائے تو سید صاحب کے خلاف بغاوت کو کیا نام دیا جائے گا۔
بیسویں صدی میں مسلم دنیا کو تین ایسے حکمراں ملے جو واقعی معنوں میں مدبر تھے اور دور جدید
کی حکومت کو چلانے کی اعلی صلاحیت رکھتے تھے۔ افغانستان کے امان اللہ خاں (۱۹۶۰ ۔ سعودی عرب کے ملک فیصل (۱۹۷۵۔ ۱۹۰۶) اور پاکستان کے محمد ایوب خاں (۱۹۷۴۔ حکمرانوں کو پوری طرح کام کرنے کے مواقع نہ مل سکے۔ ان تینوں کی قاتل، براہ راست یا بالواسطہ طور پر، موجودہ زمانہ کی نام نہاد اسلامی سیاست تھی۔ حقیقت ہے کہ اس اسلامی سیاست سے اسلام کو جتنا نقصان پہنچا ہے اتنا کسی اور چیز سے اس کو نہیں پہنچا۔
بعض باتیں قومی امنگوں کے اعتبار سے بہت سنگین معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن انھیں باتوں کو اگر خالص حقیقت کے اعتبار سے جانچا جائے تو وہ بالکل مختلف نظر آئیں گی۔ مثال کے طور پر انگریز جب ہندوستان پر قابض ہوئے تو وہ مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ اپنی نو آبادیاتی سلطنت کو افغانستان تک وسیع کرسکیں ۔ اس کا مقصد افغانستان پر قبضہ سے زیادہ روسی خطرہ کا دفاع تھا۔ مگر افغانیوں کی شدید مزاحمت کی وجہ سے انگریز اپنے اس منصوبہ میں کامیاب نہ ہوسکے۔
ہمارے پر جوش رہ نما تمام طور پر اس واقعہ کو اپنے اور افغانیوں کے فخر کے خانہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ صرف ایک پرجوش نادانی نظر آئے گی۔ انگریز کا معاملہ معروف معنوں میں صرف ایک بیرونی سامراج کا معاملہ نہ تھا۔ زیادہ اہم بات یہ تھی کہ وہ جدید تعلیم اور سائنٹفک انقلاب کے ہر اول بن کر ایشیا میں داخل ہوئے تھے۔ نیز یہ کہ خود سائنسی انقلاب کی اپنی داخلی منطق کے تحت یہ بھی مقدر تھا کہ نو آباد یاتی اقتدار بالآخر ختم ہو اور قومی اقتدار اس کی جگہ لے۔ افغانی لوگوں کا جوش اگر ہوش کے تابع ہوتا اور وہ وقتی طور پر برطانیہ کی سر پرستی کو قبول کر لیتے تو اس کا انھیں زبر دست فائدہ ملتا۔ برطانی اقتدار تو یقیناً اپنے وقت پر ختم ہو جاتا۔ کو اس "صبر" کی یہ قیمت ملتی کہ آج افغانستان ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا نہ کہ ایک برباد شدہ ملک جیسا کہ آج وہ نظر آتا ہے۔
کانفرنس کا رسمی آغاز ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ کی صبح کو ہوا۔ اس کار روائی کو پریس کانفرنس کا نام دیا گیا تھا۔ مگر یہ زیادہ صحیح طور پر وہ ایک ملاقات تھی۔ کیونکہ اس موقع پر جو کار روائی ہوئی وہ یہ تھی کہ افغانستان کی وزارت امور اسلامی کے ذمہ داروں نے افغانستان میں اسلام اور اسلامی تعلیم کی حالت کے بارہ میں معلومات بیان کیں۔