A man can't ride your back unless it's bent.
Al-Risala, March 1990, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ قول تمثیل کی زبان میں زندگی کی ایک حقیقت بیان کر رہا ہے : آپ بالکل سیدھے کھڑے ہوئے ہوں تو کسی شخص کو یہ موقع نہیں ملے گا کہ وہ کود کر آپ کی پیٹھ پر بیٹھ جائے۔ کسی شخص کو یہ موقع صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ آپ کی پیٹھ جھک جائے ۔ جھکی ہوئی پیٹھ پر سواری ممکن ہے ، نہ کہ سیدھی تنی ہوئی پیٹھ پر۔
یہی معاملہ زندگی کا ہے۔ اس دنیا میں مغلوبیت در اصل اپنی کمزوری کی قیمت ہے۔ کوئی شخص آپ پر تابتل صرف اس وقت پاتا ہے جب کہ آپ کمزور ہو کر اس کو اپنے اوپر قابو پانے کا موقع دیدیں ۔ اس لیے عقل اور حقیقت پسندی کا تقاضہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص آپ پر غالب ہوتا ہو نظر آئے تو سب سے پہلے اپنے آپ میں غور کر کے اپنی اس کمزوری کو دور کیجئے جس نے دوسرے شخص کو یہ موقع دیا کہ وہ اس کو استعمال کر کے آپ کے اوپر غلبہ حاصل کر لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اُحد کی جو لڑائی ہوئی ، اس میں مسلمان ابتداء جیت رہے مگر ان کی جیت ۔ بعد کو ہار میں تبدیل ہوگئی۔ اس کی وجہ خود مسلمانوں کے ایک گروہ کی غلطی تھی ۔ قرآن میں جب اس واقعہ پر تبصرہ نازل ہوا تو فریق ثانی کے ظلم و سرکشی پر کچھ نہیں کہا گیا۔ قرآن کے تبصرہ (آل عمران ۱۵۲) میں ساری تنبیہ صرف مسلمانوں کو کی گئی ۔ تاکہ مسلمانوں کے اندر اپنی کوتاہی کا شدید احساس پیدا ہو ۔ وہ اپنی کوتاہی کی اصلاح کے ذریعہ اس بات کو نا ممکن بنا دیں کہ آئندہ کوئی شخص ان کے خلاف کارروائی کر کے ان کے اوپر کامیابی کی امید کر سکے۔
آدمی جب بھی کسی دوسرے کے مقابلہ میں ہارتا ہے تو وہ اپنی ذاتی کمی کی بنا پر ہارتا ہے۔ ذاتی کمی کو جان کر اسے دور کیجئے ، اور اس کے بعد آپ کو نہ کسی کے خلاف فریاد کی ضرورت ہوگی اور نہ احتجاج کی۔