معیار کو بلند کرنا
Al-Risala, March 1990, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم عرب میں برابر کی اخلاقیات کا رواج تھا۔ ان کی زندگی کا اصول یہ تھا کہ جو شخص جیسا کرے، اس کے ساتھ ویسا ہی کیا جائے ۔ یعنی اچھا سلوک کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک اور بُرا سلوک کرنے والے کے ساتھ برا سلوک۔ ایک جاہلی شاعر اپنے حریف قبیلہ کے بارہ میں کہتا ہے کہ زیادتی کی کوئی قسم ہم نے باقی نہیں چھوڑی۔ انھوں نے ہمارے ساتھ جیسا کیا تھا، ویسا ہی ہم نے ان کو بدلہ دیا : فلعـم يـق من العـدوان دستـا هم كما دانوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ان کے اس تصورِ اخلاق کو بدلا۔ اخلاق کے بجائے آپ نے ان کو بلند اخلاقی کی تعلیم دی۔ آپ نے فرمایا کہ أحسن الی من اساء اليك ( جو شخص تمہارے ساتھ بُرا سلوک کرے، اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو) ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
لا تكونوا إمعةً تقولون ان احسن الناس احسنا وان ظلموا ظلمنا. ولكن وطئوا انفسكم، ان أحسن الناس أن تحسنوا وان اساؤوا فلا تظلموا۔ (مشکوة المصابیح، الجزء الثالث، صفحه ۴۱۸) تم لوگ امّعہ نہ ہو کہ یہ کہنے لگو، اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا کریں تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا کریں اور اگر وہ زیادتی کریں تو ہم بھی زیادتی بلکہ اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرو کہ لوگ تمہارے ساتھ اچھا کریں تو تم ان کے ساتھ اچھا کروگے اور اگر لوگ تمہارے ساتھ برا کریں تب بھی تم ان کے ساتھ زیادتی نہیں کروگے ۔
آپ کی ایک سنت یہ بھی ہے کہ لوگوں کے شعور کو بلند کیا جائے : ان کے اخلاق کو اونچا کیا ان کی حالت کو ہر اعتبار سے اوپر اٹھانے کی کوشش کی جائے ۔
انسان کے انسانی معیار کو بلند کرنا، فکری، علمی، اخلاقی حیثیت سے اس کو اوپر اٹھانا، اہم ترین کام ہے۔ اسی میں فرد کی بھلائی ہے اور اسی میں پورے معاشرہ کی بھلائی بھی۔ سنت رسول ہے اور اس کو زندہ کرنا سنت رسول کو زندہ کرنا ہے۔