Al-Risala · March 1990

اصلی معیار

Al-Risala, March 1990, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مریم کے یہاں جب حضرت مسیح کی ولادت ہوئی اور وہ اشارہ ربانی کے مطابق بچہ کو لے کر یہودیوں کی بستی میں آئیں تو یہودی علماء ان کے گرد جمع ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اے مریم، تم نے بڑا طوفان کر ڈالا۔ اے ہارون کی بہن، نہ تمہارا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمہاری ماں بدکار تھی (مریم ۲۷ - ۲۸)

یہودی علماء کے اس کلام سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا پرست اور حق پسند لوگ تھے ۔ وہ لوگوں کو برائی سے روکنے والے اور انھیں نیکی کا حکم دینے والے تھے۔ اس کے باوجود وہ اللہ کے یہاں خدا پرست اور حق پسند مانے نہیں گئے ، اور نہ انھیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنے والا قرار دیا گیا۔ اس کے بجائے وہ خدا کی نظر میں ملعون ٹھہرے اور عذاب کے مستحق

اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے " حضرت مریم " کے خلاف تقریر کرنے میں تو حق پسندی کا مظاہرہ مگر جب خود اپنے آپ کو حق پسند بنانے کا وقت آیا تو وہ اپنے آپ کو حق پسند بنانے پر راضی نہ ہو سکے۔ دوسرے کے معاملہ میں وہ بظاہر مصلح تھے، مگر اپنی ذات کے معاملہ میں وہ سرکش اور مفسد بن گئے ۔

ان کی ذات کا یہ امتحان اس وقت ہوا جب کہ حضرت مسیح ، جو کہ ابھی نومولود بچہ کی حیثیت سے ماں کی गोद میں تھے ، اچانک معجزۂ الہی کے تحت بول پڑے اور اپنے بارہ میں سچے نبی ہونے کا اعلان کیا۔ اس معجزاتی واقعہ نے حضرت مریم کی برأت اور حضرت مسیح کی نبوت دونوں کو آخری حد تک ثابت کر دیا۔ مگر یہودی علماء نے نہ حضرت مریم کی پاک دامنی کا اعتراف کیا اور نہ حضرت مسیح کی نبوت کا۔

دوسروں کے سامنے تقریر کرنے میں مصلح اور حق پسند ہونا کسی کو مصلح اور حق پسند نہیں مصلح اور حق پسند صرف وہ ہے جو اپنی ذات کے معاملہ میں مصلح اور حق پسند ثابت ہو ۔

Printed page