Al-Risala · March 1990

تجارتی کامیابی

Al-Risala, March 1990, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ کے تاجر اپنی تجارت کو بڑھانے کے لیے ہر قابل قیاس اور نا قابلِ قیاس تدبیریں مثلاً امریکہ میں ضرورت کی تمام چیزیں قسطوں پر حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ ویکیوم کلینر ہو یا کئی ایکڑ آراضی پر پھیلی ہوئی عالی شان عمارت ، موٹر کار ہو یا جیٹ طیارہ ، ہر چیز آسان قسطوں پر حاصل کی جاسکتی ہے ۔ حتیٰ کہ امریکیوں کے درمیان یہ کہاوت عام ہوگئی ہے کہ اگر آپ کے اندر اقساط ادا کرنے کی استطاعت ہو تو آپ امریکہ کو بھی خرید سکتے ہیں بشرطیکہ وہ بک رہا ہو ۔ امریکہ کے تجارتی ادارہ کی ایک اہم ترین خصوصیت وہ ہے جس کو گاہک نوازی کہا جاتا امریکہ کے بڑے بڑے تاجر ہمہ وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ اپنے گاہک کو خوش کریں اور انھیں اپنے بارے میں مطمئن کر سکیں ۔

اسی گاہک نوازی کے اصول کا ایک مظاہرہ یہ ہے کہ کسی تجارتی ادارہ کی ایک شاخ سے خریدا ہوا مال، ناقص ہوئے یا پسند نہ آنے کی صورت میں ادارے کی کسی بھی شاخ کو ، کسی بھی شہر میں، یہ کہہ کر لوٹایا جا سکتا ہے کہ خریدنے کے بعد پسند نہیں آیا۔ نہ جھنجھلاہٹ نہ استفسار ۔ رسید پاس ہونی چاہیے ۔ قیمت فی الفور لوٹا دی جاتی ہے ۔ " خریدا ہوا مال واپس نہیں ہوگا" کا لفظ امریکی کاروباری لغت کے لیے اجنبی ہے ۔

اگر ہندوستان میں کچھ لوگ ایسا کریں کہ وہ ایک لمیٹڈ کمپنی یا کو آپریٹو سوسائٹی قائم کریں اور مشترکہ سرمایہ سے ہندوستان کے تمام بڑے بڑے شہروں میں ڈیپارٹمنٹل اسٹور کھولیں جہاں ہر طرح کا سامان بکتا ہو، اور یہ ضمانت دیں کہ کسی بھی اسٹور سے خریدا ہوا سامان کسی بھی اسٹور پر واپس کیا جا سکتا ہے تو ایسے کاروبار کی سارے ہندوستان میں دھوم مچ جائے گی۔ یقینی طور پر زبردست کامیابی حاصل کرے گا ۔

یہ تجارتی میدان اس ملک میں مکمل طور پر خالی ہے ۔ یہاں کسی کے لیے اجارہ داری کی حد تک کامیابی کے مواقع کھلے ہوتے ہیں۔ تاہم اس امکان سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے اندر یہ ضروری صفات پائی جاتی ہوں محنت ، دیانت داری اور اشتراک عمل ۔

Printed page