Al-Risala · January 1990

فانسَب و الى رَبَّكَ فَارغَب

Al-Risala, January 1990, pp. 10–12

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا۔ وہ تمہارا وہ بوجھ اتار دیا جو تمہاری پیٹھ توڑ رہا تھا۔ اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا۔ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ پس جب تم فارغ ہو جاؤ تو محنت کرو، اور اپنے رب کی طرف توجہ رکھو (الانشراح) یہ سورہ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں اتری ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں جب دعوت توحید کا آغاز کیا تو یہ ان تمام لوگوں کو دینی لحاظ سے غیر معتبر ٹھہرانے کے ہم معنی تھا جو غیر اللہ کی بنیاد پر بڑائی اور سرداری کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے سخت دشمن ہو گئے۔ آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچانے لگے۔ اس صورت حال نے آپ کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ اس وقت اس سورہ کے ذریعے آپ کو ایک سنت الہیٰ سے باخبر کیا گیا۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں یسر کا رشتہ عسر سے بندھا ہوا ہے۔ اس دنیا میں مشکل کا پیش آنا کسی نئی آسانی کی تمہید ہوتی ہے، بشرطیکہ آدمی حوصلہ نہ کھوئے اور آنے والے بہتر مستقبل کا انتظار کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت سے پہلے یہ مرحلہ گزرا کہ آپ حق کی تلاش میں سخت سرگرداں وقت کے ماحول اور مروجہ مذہب میں آپ کو اطمینان نہیں مل رہا تھا۔ " سچائی کیا ہے ؟ سوال نے آپ کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون غارت کر دیا۔ یہ اضطراب اگر چہ ابتداد " عسر " تھا ، مگر اس کے اندر " یسر " کا پہلو نکل آیا۔ کیوں کہ اس نے آپ کو خشک زمین کی مانند بنا دیا تاکہ جب وحی کی صورت میں ہدایت آئے تو اس کی ایک ایک بوند آپ کے اندر جذب ہوتی چلی جائے۔ بھر پور طور پر اس کو اخذ کر لیں۔ وہ پوری طرح آپ کے ذہن کو واضح اور روشن کر دے۔ دوسری چیز جو مذکورہ سنت کے لئے بطور مثال پیش کی گئی ، وہ رفع ذکر کا معاملہ ہے۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے جن لوگوں کو مخالفت پیدا ہوئی، انھوں نے اس کو ناکام

بری تصویر پیش کرتے تاکہ وہ آپ سے اور آپ کے سچے مشن سے بدگمان ہوجائیں۔ مخالفین نے عیب جوئی اور الزام تراشی کی جو مہم چلائی، اس کا مقصد ان کے خیال کے مطابق یہ تھا کہ صاحب دعوت کو بدنام کریں اور اس طرح لوگوں کو آپ کی دعوت سے متوحش کر دیں۔ مگر اس عسر میں بھی یسر کا پہلو نکل آیا۔ مخالفین کے نزدیک وہ آپ کو بدنام کرنے کی کوشش تھی، مگر دوسروں کے لئے وہ تجسس کے ہم معنی بن گئی۔ اس طرح آپ کی شخصیت نہایت وسیع پیمانہ پر لوگوں کے سامنے سوال بن کر کھڑی ہوگئی۔ ہر آدمی تفصیلی طور پر یہ جاننے کا طالب بن گیا کہ محمد کون ہیں اور ان کی دعوت کیا ہے۔

انسانی فطرت ابھی جزئی علم پر قانع نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ پوری بات جاننا چاہتی ہے۔ آپ کے خلاف کچھ باتیں سن کر لوگ اتنے ہی پر رک نہیں جاتے تھے، بلکہ وہ دعوت اور صاحب دعوت کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے براہ راست تحقیق کرتے تھے۔ وہ آپ سے ملتے اور قرآن کا مطالعہ کرتے۔ اس طرح مخالفین کی مخالفت کا یہ نتیجہ ہوا کہ آپ کی دعوت ان دور دور کے حلقوں میں پہنچ گئی جہاں آپ خود کبھی تک اس کو نہیں پہنچا سکتے تھے۔ مخالفین نے آپ کو بدنام کر کے آپ کے بارہ میں لوگوں کے اندر شوق تحقیق پیدا کیا۔ اور جب ان لوگوں نے براہ راست تحقیق کی تو ان میں سے بہت سے لوگ آپ کی دعوت کو حق پا کر اس کے حامی بن گئے۔

اس سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ عصر کے یسر میں تبدیل ہونے کا دو تجربہ تم کر چکے ہو __ تلاش حق کی بے چینی کے بعد ہدایت کا ملنا ، بدنامی کی مہم سے اشاعت دعوت کے نئے مواقع پیدا ہونا۔ اسی طرح اس سنت الہی کا تیسرا ظہور بھی عنقریب تمہارے سامنے حالات کی فطری رفتار کو اپنی حد پر پہنچنے دو اور مستقبل کے ظہور تک صبر کے ساتھ اس کا انتظار کرو۔

اس تیسرے دور سے مراد دعوت اور صاحب دعوت کا نزا عی دور سے نکل کر مسلمہ دور میں جنوری ۱۹۹۰ | رسالہ 11

داخل ہونا ہے۔ جس کو سورہ نصر میں "فتح" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ موجودہ دور نزاع میں جو سخت حالات پیش آ رہے ہیں، وہ آنے والے یسر کی تمہید ہیں۔ اس طرح وہ تمام ضروری اسباب جمع کئے جا رہے ہیں کہ آئندہ جب مرحلہ استحکام آئے تو وہ حقیقی معنوں میں استحکام اور شبہات بن سکے۔ اس عمل کے دوران دعوت کے تمام پہلو پوری طرح واضح ہو جائیں۔ سچے انسان اور جھوٹے انسان ایک دوسرے سے الگ کر دئے جائیں۔ یہ معلوم ہو جائے کہ کون واقعی معنوں میں حق کا طالب ہے اور وہ کون لوگ ہیں جو حق کا نام صرف اس لئے لیتے ہیں کہ اس کی آڑ میں اپنا ذاتی مفاد حاصل کر سکیں ۔ گم نامی میں پڑے ہوئے جواہر نکھر اٹھیں اور مصنوعی شہرت کا لبادہ اوڑھنے والے لوگ بے نقاب

نیز یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کی فکر کو ماحول میں غلبہ حاصل ہو تو اس طرح ہو کہ وہ ان کا ایک ثابت شدہ حق بن چکا ہو ، اور اسی طرح جب آپ کے مخالفین کو مغلوب کیا جائے تو یہ مغلوبیت اس طرح آئے کہ وہ لوگوں کو ایک کھلی ہوئی تاریخی ضرورت دکھائی دینے لگے۔ عصر میں یسر کا یہ تجربہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا، یہی آئندہ بھی آپ کے امتیوں کو ہوتا رہے گا ، بشرطیکہ وہ اسی صراط مستقیم پر چلیں جس پر آپ چلے اور اسی صبر اور استقامت کا ثبوت دے سکیں جس کا ثبوت آپ نے اپنے زمانہ میں دیا۔

از مولانا وحید الدین خاں هدیه ۴۰ روپیہ قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے۔ اسلام کا ظہور، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سر فرازی کی ضمانت بن جائے۔

Printed page