ایک کتاب
Al-Risala, March 1990, pp. 25–28
By Maulana Wahiduddin Khan
لندن سے مذاہب کی ایک مختصر انسائیکلو پیڈ چھپی ہے۔ اس میں مختلف مغربی علماء کے ۴۲ مقالات درج ہیں۔ ما قبل تاریخ سے لے کر اب تک کے تمام مذاہب کی معلومات نہایت سلیقہ کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔ بڑی تعداد میں تاریخی تصویریں شامل ہیں۔ طباعت اور ترتیب کی موزونیت نے کتاب کو ایک خوبصورت البم بنا دیا ہے۔ کتاب کا نام یہ ہے :
Man and His Gods, The Hamlin Publishing Group Ltd., London, 1974, pp. 440 قدیم زمانہ میں مذہب پر جو کتابیں لکھی جاتی تھیں ، وہ یا تو کسی مذہب کی موافقت میں ہوتی تھیں یا اس کی مخالفت میں۔ مذاہب کا غیر جانب دارانہ یا تاریخی تعارف قدیم زمانہ میں ایک لامعلوم موجودہ زمانہ میں جو چیزیں پیدا ہوئی ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مذاہب اور دوسرے موضوعات پر اس انداز سے کتاب لکھی جاتی ہے گویا لکھنے والا اپنے موضوع پر کوئی موافق یا مخالف رائے نہیں رکھتا ، وہ صرف ایک قلمی کیمرہ کا فرض انجام دے رہا ہے۔ اس کی ساری دلچسپی اصل صورت حال کی تصویر کشی سے ہے نہ کہ اس کے بارے میں اپنی کوئی رائے دینے سے۔ زیر نظر کتاب بھی اسی انداز پر لکھی گئی ہے۔ چنانچہ اس کے مرتب نے کتاب کا خاتمہ حسب ذیل سطروں پر کیا ہے : " اس انسائیکلو پیڈیا نے حقائق پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کا کام حکم لگانا یا کوئی معیار قائم کرنا نہیں ، اس نے صرف سچائی کو پیش کر دیا ہے (صفحہ ۴۳۱ ) قدیم طرز کی متکلمانہ کتابیں " پروپیگنڈا ٹریچر " سمجھی جاتی ہیں۔ مگر اس طرز تصنیف نے آج کے متکلمین کو موقع دیا ہے کہ وہ بظاہر لوگوں کو علوم کی تدوین کرتے ہوئے نظر آئیں ، حالانکہ حقیقہ وہ اپنا کلامی لٹریچر تیار کر رہے ہوں ۔ پھر یہی کتابیں تعلیم گاہوں میں عمومی نصاب کے طور پر داخل ہوں ۔ لائبریریوں کے ریفرنس سیکشن میں سمائی ہوئی ہوں۔ علمی تحقیق کے لئے ان کا مطالعہ کیا جائے ۔
اس طرز تصنیف کے رواج سے یہودیوں اور عیسائیوں نے کافی فائدہ اٹھانے کی کوشش
وہ انداز ترتیب کے لحاظ سے مکمل طور پر غیر جانب داررہ کر مذہب اور تاریخ کے موضوعات پر کتابیں لکھتے ہیں۔ ان کو آدمی اس طرح پڑھتا ہے گویا کہ وہ ایک موضوع کا علمی مطالعہ کر رہا ہے نہ کہ اس کے بارے میں کسی موافق یا مخالف کا تبصرہ پڑھ رہا ہے۔ ہوشیاری سے وہ اس کے بین السطور میں اپنا نقطہ نظر شامل کر دیتے ہیں۔ اس انسائیکلو پیڈیا میں جس کے ایک مقالہ نگار ہندو اور باقی سب یہودی یا عیسائی ہیں، اسلام کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ بظاہر اس میں اسلام کی دعوتی، تہذیبی اور سیاسی کامیابیوں کا خاصہ نہ اعتراف موجود ہے۔ حتی کہ اس میں یہ جملہ بھی ہے کہ اسلام نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا:
Its advent changed the course of human history (p. 38). اس کتاب میں تسلیم کیا گیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں بھی اسلام نے پر امن ذرائع سے نئی کامیابیاں (new gains) حاصل کی ہیں۔ افریقہ میں تیزی سے نومسلموں کا اضافہ کسی تبلیغی کوشش سے زیادہ اسلام کی اپنی کشش کی بنیاد پر ہو رہا ہے (۴۰۴) تا ہم اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جن کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لکھنے والے نے یہ سطریں کیوں کر لکھیں۔ مثال کے طور پر صفحہ ۳۹۵ پر درج ہے:
" محمد کو اپنی زندگی میں عرب سے باہر کسی علاقہ کا قبضہ حاصل نہیں ہوا۔ کسی طرح یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سمجھتے ہوں کہ عربوں کے علاوہ بھی اسلام میں کسی کے لئے کوئی معنویت ہے۔ اگرچہ بعد کا مسلم نظریہ ان کے عالمی مقاصد کی توثیق کرتا ہے۔ تا ہم اپنی زندگی کے آخری زمانہ میں انھوں نے عرب کی بعض سرحدی عیسائی ریاستوں کے خلاف مہم بھیجی جو جزیرہ نما کے شمال میں واقع ان مہموں نے مسلمانوں کو عظیم باز نطینی اور ساسانی سلطنتوں سے ٹکرا دیا اور پیغمبر کی وفات کے جلد ہی بعد تیز رفتار اور دائمی فتح کا سبب بن گئیں۔
اس پیرا گراف نے اسلام کو اس سطح پر کھڑا کر دیا جہاں موجودہ مسیحیت ہے۔ مطابق، حضرت مسیح اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجے گئے (منی ۱۵ : ۲۴) مگر بعد کو سینٹ پال اور دوسرے مسیحی راہبوں نے کشف و رویا کا سہارا لے کر
مسیحیت کو عالمی بنا دیا۔ مگر پیغمبر اسلام کی بابت یہ بیان بالکل خلاف واقعہ ہے۔ قرآن میں صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا ہے کہ آپ تمام دنیا کے لئے ڈرانے والے فرقان (1) بنا کر بھیجے گئے ۔ آپ نے خود فرمایا کہ ارسلت الی الناس کافۃ میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں، آپ نے اپنی زندگی ہی میں عرب کے باہر دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے۔ صریح طور پر پیش گوئی فرمائی کہ اسلام عنقریب ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ اسی طرح اس کتاب میں وہ غلطی بھی کی گئی ہے جو موجودہ زمانہ کے روایتی مطالعہ کی بنا پر اکثر مذہبی مصنفین کرتے ہیں۔ اسلام کسی تاریخ کا نام نہیں، وہ قرآن، رسول کی سنت اور آپ کے اصحاب کے چھوڑے ہوئے نمونہ کا نام ہے۔ اس لئے اسلام کے مطالعہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیمات، رسول کی ثابت شدہ سنت اور صحابہ کرام کی زندگیوں کو سامنے رکھ کر اسلام کو سمجھا اسلام صرف اسی چیز کا نام ہو جو ان معیاری ذرائع سے معلوم ہو۔ اس کے سوا کسی چیز کا نام اسلام نہ ہو۔ بعد کے دور میں اسلام کی جو تاریخ بنی، اس کو مذکورہ بالا معیار پر جانچا جائے اور اتنے ہی حصہ کو اسلام قرار دیا جائے جو اس معیار پر پورا اترے۔ باقی کو " انحراف " قرار دے کر اسلام کی حقیقی تاریخ سے الگ کر دیا جائے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصنفین اس کے بجائے یہ کرتے ہیں کہ اسلام کے نام پر مسلمانوں میں جو کچھ بھی پایا جاتا ہے، اس کو اکٹھا کرتے ہیں اور اس پورے مجموعہ کو اسلام قرار دے دیتے ہیں۔ اس طرح توحید سے لے کر بزرگ پرستی تک ہر چیز کا نام اسلام ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر کہی کسی " مسلمان " نے گردو پیش کی فضا سے متاثر ہو کر ایک تصویر بنائی جس میں دکھایا کہ فرشتہ ایک پر دار خاتون کی شکل میں آیا ہے اور پیغمبر اسلام کو خدا کی وحی پہنچا رہا ہے ۔ اس تصویر کو نہایت اہتمام سے ایڈنبرا یونیورسٹی کی لائبریری میں محفوظ کر دیا گیا اور کتاب میں اس کا فوٹو (۳۹۱) چھاپ دیا گیا۔ اسی طرح چودھویں صدی عیسوی میں کسی مسلمان یا عیسائی نے دو صاحب ریش بزرگوں کی تصویر بنائی اور ان کے سر پر پگڑی رکھی۔ ایک کو اونٹ پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ، دوسرے کو گدھے پر ۔ گدھے کے مسافر کے نیچے لکھ دیا " عیسی " اونٹ کے مسافر کے لئے لکھ دیا: " محمد " یہ تصویر بھی اسلامی تاریخ کے ایک قیمتی صفحہ کی حیثیت سے (۴۳۱) اس کی زینت بن گئی۔
ایک گر وہ پیدا ہوا جس نے دوسری قوموں کے اثر سے "وجد" کا نظریہ نکالا ۔ ایسے لوگوں کی ایک مجلس کا فوٹو لے لیا گیا (۴۱۱) ، اور دکھایا گیا کہ اسلام کے مطابق جب خدائی راگ چھیڑا جاتا ہے تو لوگوں کو وجد آ جاتا ہے اور وہ کھڑے ہو کر ناچنے لگتے ہیں۔
اسی طرح مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بعض معاملات میں قرآن کے بیانات متضاد مثال کے طور پر کبھی قرآن کہتا ہے کہ انسان کو عمل کی آزادی حاصل ہے، اور کبھی قرآن ہی یہ زور دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ انسان کے تمام معاملات پر خدا کا مکمل کنٹرول قائم ہے قرآن کی بابت مقالہ نگار نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے کسی ما قبل انسانی ماخذ کا ثبوت نہیں ملتا ملتا(۴۰۲) ، حتی کہ قرآن کی زبان بھی محمد کی اپنی روز مرہ کی زبان سے مختلف ہے (۳۹۸) پھر بھی معروف رواج کے مطابق انھیں تلاش ہے کہ سابق مذہبی کتابوں میں اس کا کوئی ماخذ مل جائے ۔ یہ باتیں بلاشبہ ہمارے لئے تکلیف دہ ہیں۔ مگر اس قسم کی جو کتابیں چھپ رہی ہیں، ان کا توڑ یہ نہیں ہے کہ ان کے خلاف ایک جلی کٹی تنقید لکھ کر چھاپ دی جائے یا ناشر اور مصنف کے نام احتجاجی تار روانہ کر دئے جائیں۔ اس قسم کی کوشش خدمت اسلام کا جھوٹا کریڈٹ لینے کے ہم معنی ہے۔ کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ کچھ خبریں اخبار میں چھپ جائیں اور وہ بھی دینی نقصان میں مالی نقصان کے اضافہ کی قیمت پر۔
کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ان کتابوں کا علمی بدل فراہم کیا جائے ، ہمارے درمیان اعلیٰ سطح پر ایسے ادارے قائم ہوں جو خود علوم کونئے ڈھنگ پر مرتب کر ڈالیں۔ موجودہ قسم کی اشتہاری کتابوں کے بجائے وہ علمی طرز کی کتابیں تیار کریں۔ اسلام کی قلمی خدمت کے کام کو مناظرہ بازی یا دوسرے لفظوں میں " مذہب کے پروپیگنڈہ لٹریچر" کی سطح سے اٹھا کر تدوین علوم کی سطح پر پہنچا دیں۔ وہ انسانی ذہن کو تحقیق و تصنیف کے اس مقام پر پہنچ کر خطاب کریں جہاں سے دوسرے لوگ اس کو خطاب کر رہے ہیں۔ دوسری کوئی بھی صورت اس فتنہ کے مقابلہ کی نہیں۔