سفرنامہ افریقہ - ۳
Al-Risala, March 1990, pp. 29–31
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ کو طرابلس سے پی آئی اے کی فلائٹ ۴۱ اے کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز ایک بار نیچے اوپر ہونے لگا۔ ہوائی جہاز کے ساتھ جب یہ صورت پیش آتی ہے تو اکثر وہ دو ہزار فٹ تک نیچے چلا جاتا ہے۔ مگر بلندی پر اڑتے ہوئے مسافر کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ۱۰۔ ۲۰ فٹ نیچے اوپر ہو رہا ہے۔ ہوائی جہاز جب ۳۰ ہزار فٹ کی اونچائی پر پہنچ جاتا ہے تو وہ اسی طرح ہلکا ہو جاتا ہے جیسے کوئی آدمی پانی پر تیرتے ہوئے اپنے آپ کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔ اس ہلکے پن کی وجہ سے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ جہاز دو ہزار فٹ کے بقدر نیچے اوپر ہو رہا ہے۔
جہاز جب اس طرح ہلتا ہے اور جھٹکے کے ساتھ نیچے اوپر ہوتا ہے تو عام مسافر اس کو دیکھ کر گھبرا اٹھتے ہیں۔ مگر یہ کوئی خطرہ کی بات نہیں۔ کم از کم ہوا بازی کی تاریخ میں اب تک صرف اس کی وجہ سے کوئی جہاز حادثہ کا شکار نہیں ہوا۔
واپسی کے سفر میں ہماری پہلی منزل دمشق تھی۔ جہاز دمشق کے ہوائی اڈہ پر اترا تو اس " قدیم ترین شہر" کی نسبت سے بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔
" دمشق" کے نام کے ساتھ اتنی زیادہ یادیں وابستہ ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ہے کہ مکہ اور مدینہ کے بعد اصحاب رسول کی سب سے زیادہ تعداد جہاں مدفون ہے وہ شام، خاص طور پر دمشق ہے۔ اس کے علاوہ علماء اسلام اور مختلف قسم کی اسلامی شخصیتوں کی بہت بڑی تعداد یہاں مدفون ہے۔
دمشق نے اپنی تاریخ کے طویل دور میں بڑے عجیب عجیب منظر دیکھے ہیں۔ قدیم عہد کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو حضرت حسین کا سر کاٹ کر اسی دمشق میں یزید کے پاس لایا گیا۔ فتح اسپین (۷۱۱ء) کے چار سال بعد موسیٰ بن نصیر دمشق واپس آئے تو ان کے ساتھ تقریباً ۴۰۰ کی تعداد میں اسپینی شہزادے تھے جن کے سروں پر تاج تھے اور کمر میں سونے کے پٹکے بندھے ہوئے تھے۔ دمشق اُس قدیم تقریباً پانچ سو سالہ مسلم عہد کی یاد دلاتا ہے جب کہ دمشق سے لے کر فرانس کی سرحد تک عثمانی ترکوں کی حکومت قائم تھی، وغیرہ وغیرہ۔
جدید فلسطینی تحریک کے ایک لیڈر خلیل الوزیر تھے۔ ان کو عام طور پر ابو جہاد کہا جاتا تھا ۔
فلسطین میں پیدا ہوئے۔ آخری دنوں میں وہ پی ایل او کے فوجی کمانڈر کی حیثیت سے تیونس میں مقیم ان کی تدفین دمشق میں ہوئی۔
ابو جہاد اپنی خطر ناک سرگرمیوں کی وجہ سے اسرائیل کے لئے درد سر بنے ہوئے تھے۔ کے خلاف فلسطینیوں کی گوریلا جنگ کے کمانڈر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مارچ ۱۹۷۸ میں انھیں کے منصوبہ کے مطابق ایک اسرائیلی سڑک سے ایک بس کا اغوا کیا گیا تھا اور اس کے ۲۵ یہودی مسافر قتل کر دئے
اس طرح کے مختلف واقعات کی بنا پر اسرائیل کے حکمران ابو جہاد سے بگڑے ہوئے تھے۔ ایک نہایت منظم منصوبہ کے تحت ۱۶ اپریل ۱۹۸۸ء کو انھیں قتل کر دیا گیا۔ اس خفیہ منصوبہ کی تفصیل امریکی ہفتہ وار ٹائم ۲۵ اپریل ۱۹۸۸ء اور ۲ مئی ۱۹۸۸ء میں شائع ہوئی ہے۔ ٹائم (۲ مئی ۱۹۸۸ء) کے مطابق اسرائیلی پارلی منٹ کے ایک ممبر یوسی سريد (Yoshi Sarid) نے کہا کہ ایک کے بعد ایک ابو جہاد ختم کئے جاسکتے ہیں مگر یہ چیز فلسطینی مسئلہ کو ختم نہیں کرسکتی: Abu after Abu can be liquidated. But this will not liquidate the Palestinian problem (p.17). ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے جون ۱۹۸۸ء کے پہلے ہفتہ میں شام کا دورہ کیا دمشق میں انھوں نے ۴ جون ۱۹۸۸ء کو ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے دمشق کی خصوصیت بتاتے ہوئے کہا کہ محمد بن قاسم یہاں سے روانہ ہو کر ہندوستان پہنچے تاکہ وہاں اسلام کے پیغام کو
Mohammad bin Qasim set sail from here to India to spread the message of Islam. راجیو گاندھی کے اس بیان پر ہندوستان کے کچھ فرقہ پرستوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا دہلی کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر (۱۹ جون ۱۹۸۸ء) نے لکھا تھا کہ راجیو گاندھی اپنے آقا وں کو خوش کرنے کے لئے ایسا کہہ رہے ہیں۔ ورنہ محمد بن قاسم ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کے لئے وہ قتل اور لوٹ اور زنا کاری کے لئے یہاں آیا تھا (صفحہ ۱۶، یہی بات ہندو مہا سبھا کے
صدر جمیٹ پاٹل نے اپنے ایک مراسلہ کہی جوٹائمس آف انڈیا (۲۰ جون ۱۹۸۸) میں چھپا تھا۔ مسٹر جیئمت پاٹل نے اپنے دعوے کی تائید میں مورخ بلاذری کا حوالہ دیا تھا۔ مگر یہ حوالہ سراسر احمد بن یحییٰ البلاذری دم ۶۹۲ء) کی کتاب فتوح البلدان میں اس قسم کی کوئی بات بلکہ اس کتاب میں محمد بن القاسم کی تصویر اس سے یکسر مختلف نظر آتی ہے جو مذکورہ مضامین میں اس کی بتائی گئی تھی۔
عربوں نے سندھ کو آٹھویں صدی عیسوی (۷۱۲ء) میں فتح کیا تھا۔ اور البلاذری کا زمانہ نویں صدی عیسوی ہے۔ اس طرح وہ ایک قریب العہد مورخ ہے۔ البلاذری نے جو کچھ لکھا ہے، اس میں میں ایک بات یہ ہے کہ دمشق میں اندرونی سازشوں کی وجہ سے نوجوان محمد بن القاسم کو دمشق واپس بلا لیا گیا جہاں اس کو قید کر دیا گیا۔ تاہم سندھ میں وہ نہایت نیک نام تھا۔ چنانچہ سندھ کے مقامی باشندوں کے رد عمل کا ذکر کرتے ہوئے البلاذری نے لکھا ہے کہ ان کو جب اس کی خبر ملی تو ہندوستان کے لوگ روئے اور انھوں نے کیرج کے مقام پر محمد بن القاسم کا بت بنایا (فتوح البلد الهند و صورہ بالکیرج، صفحہ ۲۳۶)
محمد بن القاسم کا کر دار اگر وہ ہوتا جو ہندومہاسبھا کے صدر یا آرگن ائزر کے مضمون نگار بتا رہے ہیں تو یہ نا ممکن تھا کہ اہل سندھ کے درمیان اس کو یہ محبوبیت اور مقبولیت حاصل ہو کہ وہ اس کے سندھ سے جانے کے بعد اس کا ماتم کریں، حتیٰ کہ اس کا بت بنائیں اور اس کے سامنے غیر معمولی عقیدت و احترام کا اظہار کریں۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳-۱۹۷۹ء) نے ۱۹۵۹ کے آخر میں بعض عرب ممالک کا دورہ کیا اس سلسلے میں وہ شام (دمشق) میں بھی چند دن ٹھہرے ۔ اس سفر کی رو داد مولا نا موصوف کے رفیق سفر مولانا محمد عاصم صاحب نے مرتب کی ہے جو ”سفر نامہ ارض القرآن“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے ۔ کا ایک اقتباس یہ ہے :
”مولانا ان کے سوالات کا اطمینان اور تفصیل سے جواب دیتے رہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق مولانا نے بتایا کہ ان کی حالت ویسی ہی ہے جیسے اسرائیل میں عربوں کی۔ یہ مختصر جواب نہایت اس مثال کے بغیر اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کے متعلق کوئی مفصل تقریر بھی کی جاتی