تو شاید وہ اتنی مؤثر نہ ہوتی" صفحہ ۳۳
Al-Risala, March 1990, pp. 32–38
By Maulana Wahiduddin Khan
سید ابوالاعلیٰ مودودی کا یہ جواب غیر ذمہ دارانہ حد تک غلط ہے۔ مزید غیر ذمہ داری کی بات مولانا موصوف کے رفیق کا یہ جملہ ہے کہ ” یہ جواب نہایت مؤثر رہا گویا مسئلہ سنجیدہ حقیقت بیانی کا نہیں بلکہ مجلسی اثر آفرینی کا ہے۔ کیسی عجیب ہے یہ بات۔
جواب کے اس انداز کو میں حد درجہ غیر اسلامی اور غیر اخلاقی سمجھتا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بعض مسائل درپیش ہیں۔ مگر وہ کون سا ملک ہے جہاں کسی نہ کسی قسم کے مسائل درپیش پھر ہندوستان ہی کو ان مسائل کے لئے مطعون کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ مارچ ۱۹۸۴ کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں ایک عرب ملک میں تھا۔ ایک عرب شیخ نے اپنے مکان پر دعوت کا اہتمام کیا۔ بہت سے لوگ مدعو تھے۔ یہاں میری ملاقات، ہندوستان کے ایک اسلام پسند رہنما سے ہوئی۔ ایک عرب شیخ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو مسجد کے اندر بھی سجدہ کرنے کی اجازت نہیں۔
میں نے آہستہ سے پوچھا : حضرت ، آپ کس ہندوستان کی بات کر رہے ہیں ۔ جہاں میں رہتا ہوں یا کوئی اور ۔ انھوں نے فوراً صفدر جنگ (دہلی) کی مسجد کا نام لیا۔ میں نے کہا، پھر مطلق انداز میں ممانعت سجدہ کی بات کیوں کر رہے ہیں۔ آپ کو کہنا چاہئے کہ ہندوستان میں لاکھوں مسجدیں ہیں جن میں مسلمانوں کو نماز کی آزادی ہے۔ البتہ ایک مسجد (صفدر جنگ) میں انھیں یہ آزادی حاصل نہیں جو بہت پہلے سے آثار قدیمہ کے ماتحت ہے۔
دمشق سے جہاز پر ۱۸۰ مسافر سوار ہوئے ۔ یہ سب " زیارت" کے لوگ تھے ۔ سے دمشق اور بغداد برائے زیارت گئے۔ وہاں حضرت زینب ، حضرت حسین وغیرہ کے مزارات ہیں۔ اب وہ پاکستان واپس جا رہے تھے۔
میرے پاس کی سیٹ پر ایک صاحب آکر بیٹھ گئے۔ ان کا نام محمد عباس کاظمی تھا۔ وہ لاہور میں کتابوں کی دکان کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۴۷ء میں وہ لاہور چلے آئے۔ ان کے بال سفید ہو چکے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے دونوں زمانوں کو دیکھا ہے۔ کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے والی زندگی اور موجودہ پاکستان کی زندگی میں کیا فرق ہے۔
دردمندانہ لہجہ میں کہا کہ بس یہ فرق ہے کہ پہلے ملک میں ہندو مسلم جھگڑے ہوا کرتے تھے، اب ہمارے یہاں شیعہ سنی جھگڑے ہوتے ہیں۔
”زیارت“ سے لوٹنے والے یہ تمام لوگ شیعہ تھے۔ ان میں زیادہ تر عورتیں تھیں۔ محمد عباس کاظمی صاحب سے پوچھا کہ اس سفر میں کِس کتنا خرچ آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فی کس ۱۶ ہزار روپیہ۔ ۱۸۰ آدمی ہمارے جہاز میں دمشق سے سوار ہوئے۔ مگر اس سے زیادہ تعداد ابھی دمشق اور بغداد میں یہ لوگ جہاز کے اندر بار بار نعرہ لگا رہے تھے ـــــ نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، نعرہ حیدری۔ نعرہ دینے والا پہلے دونوں الفاظ نسبتاً دھیمے بولتا تھا۔ مگر جب وہ ”نعرہ حیدری“ بولتا تو اس کی آواز غیرمعمولی طور پر تیز ہو جاتی۔
جہاز کے اندر پی آئی اے کی فلائٹ میگزین ”مسافر“ ستمبر۔ اکتوبر ۱۹۸۹ مطالعہ کے لئے موجود اس کے انگریزی حصہ میں پی آئی اے کے بارہ میں ایک مضمون تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ پی آئی اے ۱۹۵۴ میں قائم ہوئی ۔ اس دوران اس نے کیا ترقی کی اور آئندہ اس کے کیا منصوبے ہیں، اس ذیل میں یہ فقرہ درج تھا کہ جمہوریت کے احیاء کی وجہ سے ملک مسکراہٹوں سے بھرا ہوا ہے اور پی آئی اے بھی ترقیاتی پرواز کے لئے اپنے بازو پھیلارہی ہے:
Since the revival of democracy, the country is full of smiles, and PIA too is flexing its wings (p. 29). دوسری طرف جہاز کے اندر اردو اخبارات تھے۔ ان میں اپوزیشن لیڈروں کے بیانات ملک کے بارہ میں اس سے مختلف کہانی سنا رہے تھے ـــــ موجودہ دنیا میں کوئی زندگی کبھی آئیڈیل کوئی شخص زندگی کو مثبت رخ سے دیکھتا ہے تو اس کو زندگی امکانات سے بھری ہوئی نظر دوسرا شخص اس کو منفی رخ سے دیکھتا ہے تو اس کو نظر آتا ہے کہ زندگی مصائب اور مشکلات کے سوا اور کچھ نہیں۔
۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ کی صبح کو کراچی پہنچا۔ میں نے دہلی سے یہاں کا ویزا لے لیا تھا۔ چنانچہ کراچی میں ۱۲ گھنٹے قیام رہا۔ کراچی میں میرا قیام ”فضلی سنز لمیٹڈ“ کے یہاں تھا۔ وہ لوگ گلشن اقبال (123-D) میں رہتے ہیں۔
جہاز سے اتر کر ائیر پورٹ کی بس پر سوار ہواتو ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ زیادہ تر مسافر پاکستان (کراچی) کے تھے۔ زیادہ عمر کے ایک بزرگ اندر داخل ہو کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ ایک شخص نے ان کو دیکھ لیا اور اپنی طرف بلاتے ہوئے کہا کہ آیئے، یہاں بیٹھ جائیے۔ وہ بدستور کھڑے رہے اور کہا: میاں، بیٹھنے کا وقت کہاں، اب تو لیٹنے کا وقت ہے۔ ان کی زبان سے یہ فقرہ سن کر دل تڑپ اٹھا۔ مجھے اپنا معاملہ یاد آگیا۔ میری عمر اب ۶۵ سال ہو چکی ہے۔ بڑھاپا اپنی تمام علامتوں کے ساتھ آنا شروع ہو گیا ہے۔ اب وہ وقت قریب آگیا ہے جب کہ دنیا کی سیٹ پر بیٹھنے کے بجائے مجھے قبر کے تختہ پر لٹا دیا جائے۔ یہ دن ہر شخص کے لئے مقدر ہے۔ ہر شخص کے ساتھ ایسا ہونے والا ہے کہ اس کی موت اس کو ”اپنی دنیا“ سے نکال کر "خدا کی دنیا میں داخل کر دیا جائے۔ کتنا سنگین لمحہ ہر شخص پر آنے والا ہے۔ مگر ہر شخص کتنا زیادہ اس سے غافل پڑا ہوا ہے۔
ڈاکٹر خالد انعام اللہ صاحب بھی اسی جہاز سے اترے تھے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف اکثر سفر میں رہتے ہیں اور بے شمار کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ ان کے ساتھ ان کے محترم والد ڈاکٹر انعام اللہ خاں (۷۵ سال) کے مکان پر آیا۔ یہاں تقریباً آدھ گھنٹہ قیام رہا۔ ڈاکٹر انعام اللہ خاں صاحب موتمر العالم الاسلامی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس کو مولانا محمد علی وغیرہ نے قائم کیا تھا۔ ۱۹۲۴ میں جب خلافت تحریک سیاسی حیثیت سے ختم ہو گئی تو مولانا محمد علی وغیرہ کے سامنے سوال آیا کہ " اب کیا؟ " حکومتی سطح پر خلافت کا نظام قائم کرنے کے مواقع نہیں تھے ، چنانچہ انھوں نے " ادارہ کی سطح پر اس کام کو جاری رکھنے کے لئے ۱۹۲۶ میں مذکورہ موتمر قائم کی۔ اس کے پہلے صدر مفتی اعظم فلسطین اور نائب صدر علامہ اقبال تھے۔ ڈاکٹر انعام اللہ خاں صاحب نے اپنے والد حاجی عبدالکریم خاں خازیپوری (وفات ۱۹۷۴) کے بارہ میں بتایا کہ وہ نہایت نیک نفس آدمی تھے۔ اپنے ملازموں کو جاہل دیکھنا انھیں گوارا نہ تھا۔ چنانچہ وہ خود انھیں پڑھایا کرتے تھے۔ اور کہا کرتے تھے کہ لوگوں کو کھلانے پلانے میں کوتاہی نہ کرو، اور جو کچھ تمہارے گھر میں موجود ہے بس وہی پیش کر دو، کیوں کہ جو تمہارے کھانے کے قابل ہے ، وہ تمہارے مہمان کے کھانے کے قابل بھی ہے۔
حافظ عبدالكریم صاحب کا ایک خاص نظریہ تھا جس کو وہ "تطهیرِ كراول" کیے لفظوں میں بیان کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمل ہمیشہ فکر کے تحت ہوتا ہے۔ فکر اگر صحیح نہ ہوگا تو عمل بھی صحیح میں نے کہا کہ یہی جڑ کی بات ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہماری تمام تحریکیں ناکام ہوگئیں۔ کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ان کے رہنماؤں نے تطہیر فکر کا اول کام کے بغیر عملی اقدام کے ثانوی کام سے اپنے سفر کا آغاز کرنا چاہا۔ ایسی تحریک کے لئے موجودہ اسباب کی دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ خلافت تحریک کی ناکامی کا سبب بھی یہی ہے۔
" پاکستان ابھی تک پاکستان نہ بن سکا" ایک "اسلام پسند" پاکستانی نے کہا۔ مطلب یہ تھا کہ پاکستان اس لئے بنا تھا کہ وہاں اسلامی نظام قائم کیا جائے، مگر ابھی تک پاکستان میں اسلامی نظام قائم نہ کیا جا سکا۔ اگر آپ پاکستان جائیں یا پاکستان کے اخبارات پڑھیں تو یہ بات آپ کو بے شمار لوگوں کی زبان سے سنائی دے گی۔
وہ کون ہے جس نے نصف صدی گزرنے کے باوجود ابھی تک پاکستان کو پاکستان بننے اس کے جواب میں لوگ مختلف طاقتوں یا شخصیتوں کا نام لیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس المیہ کے سب سے بڑے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے وجود میں آتے ہی " مطالبہ نظام اسلامی" کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔
۱۹۴۷ میں جو چیز وجود میں آئی وہ صرف ایک جغرافی خطہ تھا۔ اس جغرافی خطہ میں وہ مسلم معاشرہ موجود نہ تھا جو اسلامی نظام کے قیام کا متحمل کر سکے۔ یہاں "اسلام پسند" لوگوں کو صرف یہ کرنا تھا کہ وہ افراد کی ایمانی بیداری اور معاشرہ کی دینی اور اخلاقی اصلاح میں لگ جاتے۔ سیاست کو وہ کچھ عرصہ کے لئے اپنے حال پر چھوڑ دیتے۔ یعنی الکشن میں جو لوگ ووٹوں کی اکثریت حاصل کرتے انہیں موقع دیا جاتا کہ وہ حکومت کریں۔ ایک طرف انفرادی سطح پر اصلاح کا عمل چلتا رہتا اور دوسری طرف الکشن پر دوس اپنی فطری رفتار سے جاری رہتا۔ اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو اب تک یقینی طور پر وہ منزل آ جاتی جو مطالبا تى اسلام کے نتیجہ میں مزید دور ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔
عرب کے کنارہ واقع ہے۔ ۱۸ ویں صدی کے آغاز میں کراچی صرف ایک معمولی گاؤں تھا۔ زیادہ تر مچھیرے رہتے تھے۔ ۱۸۳۹ میں انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا۔ یہ قبضہ بے حداہم تھا۔ آخری مغل حکمران بہادر شاہ ثانی کے زمانہ حکومت (۱۸۵۷-۱۸۳۷) میں ہوا۔ اس وقت ہندستان میں بہت سے علماء اور مصلحین موجود تھے۔ مگر مطبوعہ ریکارڈ سے اس کا ثبوت نہیں ملتا کہ ان میں سے کوئی شخص "کراچی" کی اہمیت کو جانتا ہو۔ کراچی کی اہمیت کو جاننے کے لئے سمندری شعور درکار تھا، اور اس وقت مسلم زعماء میں سے ہر ایک صرف "سیاسی طاقت" کو جانتا تھا، ان میں سے کسی کو "سمندری طاقت" کی خبر نہ تھی۔ بدقسمتی سے یہی صورت حال ظاہری فرق کے ساتھ آج بھی باقی ہے۔
انگریزوں نے کراچی پر قبضہ کر کے وہاں اپنی فوجیں رکھ دیں۔ ۱۸۴۳ میں انھوں نے کراچی اور ملتان کے درمیان دریائے سندھ کے راستہ سے پہلی اسٹیمرسروس شروع کی۔ اب کراچی بندرگاہ کی حیثیت سے ترقی کرنے لگا۔ ۱۸۶۷ میں کراچی سے لندن کے لئے براہ راست ٹیلی گراف کا نظام قائم کیا گیا۔ ۱۸۶۹ میں نہر سوئز کھلنے کے بعد کراچی کی اہمیت مزید بڑھھی۔ ۱۸۷۳ تک کراچی ایک مکمل بندرگاہ بن چکا تھا۔ ۱۸۷۸ میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ ۱۹۱۴ میں کراچی پوری برطانوی شہنشاہیت میں گیہوں برآمد کرنے کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ ۱۹۲۲ میں یہاں ایک ہوائی اڈہ بنایا گیا جو اب توسیع کے بعد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ ۱۹۵۹ تک وہ پاکستان کی پہلی راجدھانی تھا۔
سندھ میں توڑ پھوڑ کی سیاست لا متناہی طور پر جاری ہے۔ اس سیاست کے نتیجہ میں کچھ لیڈروں کو شہرت اور مقبولیت مل رہی ہے۔ مگر خود سندھ اور اس کے عوام تیزی سے بدحالی کی طرف جا رہے ہیں۔ اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ تاجر طبقہ (ملکی اور غیر ملکی دونوں) سندھ میں اپنا کاروبار سمیٹ رہا ہے اور پنجاب کی طرف اپنا رخ کرنے لگا ہے۔ آج ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ کے اخبار جنگ میں ایک اڈیٹوریل نوٹ (سندھ سے سرمایہ کاروں کی نقل مکانی) نظر سے گزرا۔ کے تحت درج تھا:
"ایک اخباری اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں ڈکیتی اور اغوا کے واقعات میں اضافے
کے بعد وہاں کے بالخصوص کراچی کے سرمایہ کاروں نے پنجاب کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے اور اب سندھ کے بجائے پنجاب میں نے صنعتی یونٹ لگانے کے لئے قومی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے رجوع کرنے کا آغاز کر دیا ہے اور پنجاب کے بڑے شہروں کے قرب و جوار میں اپنے عزیز و اقارب کے توسط سے صنعتی یونٹ لگانے اور دیگر کاروبار کرنے کے لئے آراضی کی خرید میں مصروف سرمائے کی گردش اور سرمایہ کاری صرف پر امن فضا میں ہی ممکن ہوتی ہے اور سرمائے کی منڈی اتنی حساس ہوتی ہے کہ محض ابیک افواہ ہی اس کے کونے کونے تک ہلچل مچا کر رکھ دیتی ہے، صوبہ سندھ میں ایک عرصے سے اغوا و ڈکیتیوں کے جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ یقیناً سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ اس سے سرمایہ کاروں میں نقل مکانی کا رجحان پیدا ہوا ہو۔
ایک پاکستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ خلیج کے ایک ملک میں کچھ دنوں رہ چکے انھوں نے بتایا کہ ایک روز وہ وہاں کے پوسٹ آفس میں ایک خط کی رجسٹری کرنے لفافہ پر انھوں نے ہندوستانی قاعدہ کے مطابق، بھیجنے والے کا پتہ لفافہ کے نیچے بائیں طرف جب کہ خلیجی قاعدہ کے مطابق ، اس پتہ کو لفافہ کے اوپر بائیں طرف لکھا جانا چاہئے۔ پوسٹ آفس کے عرب کلرک نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ غلط ہے، دوسرے لفافہ پر صحیح پتہ لکھ کر لاؤ۔ آدمی نے کہا کہ میرے پاس دوسرا لفافہ نہیں ، اور اس وقت بازار سے بھی دوسرا لفافہ حاصل کرنا مشکل ہے، آپ اسی لفافہ کو قبول کر لیں۔ بات بڑھتی رہی۔ کہ کلرک نے بگڑ کر کہا : أ تخالف النظام (کیا تم نظام کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہو) یہ جملہ وہاں کے لحاظ سے ایک قسم کی دھمکی تھی۔ اس کا مطلب ، دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ خاموش رہو، ورنہ تم کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں کتنا سخت گیری کا خلیجی ممالک میں جو امن ہے ، وہ دراصل اسی پابند نظام کا نتیجہ ہے، اور ہندوستان میں جو بے امنی ہے ، وہ یہاں کے آزاد نظام کا نتیجہ۔ اس دنیا میں اکثر اوقات یہ ممکن نہیں ہوتا کہ آدمی یک وقت دونوں چیزوں کو لے سکے۔ ایک کو لینے کے لئے اسے دوسرے کو چھوڑ نا
ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان نے تقسیم کو دل سے قبول نہیں کیا ، اسی لئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہیں اور دونوں جگہ ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو عین وہی نفسیات ہے جس میں خود پاکستان کے لوگ بہت بڑے پیمانے پر مبتلا ہیں۔ یہاں جب بھی الیکشن ہوتا ہے اور کچھ لوگ جیت کر اوپر آتے ہیں تو ہارنے والے لوگ اُن کی جیت کو قبول وہ فوراً فاتح کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ تخریب کاری کی اس سیاست میں اسلام پسند لوگ بھی پوری طرح شریک ہیں۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان کے ماحول میں منفی ذہنیت اور تخریبی مزاج اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ اب اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ " تم جیتے ، میں ہارا " ایک سادہ سا جملہ ہے ، مگر پاکستان کے بے ریش اور باریش رہنماؤں میں کوئی بھی شخص اب تک اس جملہ کو کہنے کی جراأت نہ کر سکا۔ کراچی کے ہفت روزہ تکبیر (۱۴ ستمبر ۱۹۸۹) میں ایک پورے صفحہ پر نمایاں انداز میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ "ایک خادم ملت " کی طرف سے ہے اور اس کے اوپر قرآن کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ یہ مضمون ایک آیت کے ترجمہ اور اس کے عنوان پر مشتمل ہے جو اس طرح ہے :