ہرگز نہ دبو ایسے شخص سے
Al-Risala, March 1990, pp. 38–44
By Maulana Wahiduddin Khan
ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسَمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے۔ طعنے دیتا ہے۔ چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ۔ بھلائی سے روکتا ہے۔ ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنے والا ہے۔ سخت بد اعمال ہے۔ جفا کار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے۔ (القلم ۱۰ - ۱۶) ولا تطع کا ترجمہ " ہرگز نہ دبو " اور اس کے اوپر مذکورہ جلی سرخی سے بظاہر یہ تاثر ہوتا ہے کہ یہ آیت ایسے لوگوں سے لڑائی لڑنے کا حکم دے رہی ہے ۔ حالانکہ آیت کا یہ مفہوم نہیں۔ قسم کے ترجموں اور تفسیروں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ مزاج بنا دیا ہے کہ ہر جگہ وہ لڑنے بھڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حکمت اور ہم آہنگی کو انھوں نے بزدلی سمجھ لیا ہے اور نزاع اور تصادم کو جہاد۔
اس آیت میں "اطاعت نہ کرو" کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اثر نہ لو۔ ان کی باتوں پر دھیان نہ دو۔ ان کی رعایت کرتے ہوئے اپنی دعوت کے انداز میں تبدیلی نہ کرو یہاں "اطاعت" کا لفظ اسی مفہوم میں شدت پیدا کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ یہ بتانے کے لئے کہ ان سے "ہرگز نہ دبو" اس عسکری مفہوم کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک مسلم نوجوان جو کالج میں پڑھ رہے ہیں ، ان سے میں نے یہاں کے تعلیمی اداروں کے حالات پوچھے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں اسکولوں اور کالجوں میں سیاست بازی اور دہشت گردی اتنی عام ہو گئی ہے کہ وہاں اب پڑھنے کا ماحول باقی نہیں رہا۔ مزید یہ کہ یہاں مہلک ہتھیار (کلا شنکوف، ، پستول) ، بالکل عام ہیں۔ کسی بھی وقت ایک شخص اگر ایک طالب علم کو گولی کا نشانہ بنا کر بھاگ جائے گا اور اس کا کچھ نہیں ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ اس صورت حال کی بنا پر اب یہ حال ہے کہ جو لڑکے واقعی پڑھنا چاہتے ہیں ، وہ امریکہ چلے جاتے ہیں۔ اور جب وہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تو اس کے بعد وہ وہیں رہ جاتے ہیں۔ دوبارہ وہ پاکستان واپس نہیں آتے ۔ میں نے کہا کہ یہ تمام نقصانوں میں سب سے بڑا نقصان ہے ۔ جو نوجوان مجبوراً یہاں ٹھہریں وہ اچھی تعلیم حاصل نہ کر سکیں گے اور جن کے پاس وسائل ہوں یا جو زیادہ ہونہار ہوں وہ باہر چلے جائیں گے۔ اکبر الٰہ آبادی نے انگریزوں کے جاری کردہ نظام تعلیم پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا :
بچوں کے کبھی قتل سے بد نام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی اکبر الٰہ آبادی اور ان کے جیسے دوسرے رہنماؤں کو معلوم نہ تھا کہ اصل مسئلہ قوم کی بے شعوری ہے نہ کہ انگریزوں کا تعلیمی نظام ۔ اس بے شعوری کی حالت میں " انگریز" کو یہ ضرورت نہیں کہ وہ ان کے ملک میں آکر ان کے نوجوانوں کو " قتل " کرے۔ وقت کا فرعون اپنے ملک میں رہے گا اور ہماری قوم کے نوجوان خود بھاگ بھاگ کر اس کے یہاں پہنچیں گے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کر دیں گے تاکہ وہ انھیں قتل کر سکے۔
ایک صاحب جو رسالہ پڑھتے ہیں ، انھوں نے راقم الحروف کے انداز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا انداز پر و گورنمنٹ (pro-government) انداز ہے ۔
کہا کہ یوں نہ کہئے۔ بلکہ اس طرح کہئے کہ آپ کا انداز پروریلیٹی (pro-reality) انداز ہے۔ میرا کسی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ میں صرف یہ کرتا ہوں کہ میں حقیقت پسندی کی بات کرتا مگر لوگوں کے منفی ذہن کی وجہ سے وہ انہیں حکومت پسندی کی بات معلوم ہوتی ہے۔ الرساله میں ایک بار ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کا ذکر تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اس جنگ میں پاکستان کامیاب نہ ہوسکا، اور اس کی وجہ اس کی کم ترین تیاری تھی۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستانی فوج نے زیادہ بہتر منصوبہ بندی کا ثبوت دیا، اس لئے وہ پاکستان کی پیش قدمی کو روک دینے میں کامیاب رہے۔ یہ تذکرہ صرف بطور سبق تھا۔ مگر الرسالہ کے بہت سے پاکستانی خریدار اس پر سخت ناراض ہوئے حتی کہ انھوں نے الرسالہ کو پڑھنا بند کر دیا۔ یہاں اخبار نوائے وقت ۲۵ ستمبر ۱۹۸۹ میں ایک مضمون اصل حقائق پڑھنے کو ملا۔ اخبار بیک وقت لاہور، راولپنڈی، ملتان، کراچی سے شائع ہوتا ہے۔ ایک سابق فوجی افسر ابوذر غفاری نے جو کچھ لکھا تھا، اس کا ایک حصہ عبرت کے طور پر یہاں نقل کیا جاتا ہے: ” پاک فوج کے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل مرزا محمد اسلم بیگ نے ۱۲ ستمبر ۱۹۸۹ کو جی ایچ کیو آڈیٹوریم میں ملک بھر کے ایڈیٹروں اور سینئر صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دئے تھے۔ انھوں نے جب یہ کہا کہ ۱۹۶۵ کی جنگ ہم نے نہ جیتی نہ ہاری اور یہ کہ ۱۹۷۱ کی جنگ ہم ہار گئے تو اس نے ہر فوجی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہوگا کہ وہ ان دونوں جنگوں کا دوبارہ جائزہ لیں۔ جنرل صاحب کا یہ کہنا حقائق کے عین مطابق ہے کہ ۱۹۶۵ کی جنگ ہم نے نہیں جیتی تھی اور نہ ہی ہم اسے ہارے تھے ۔ ۱۶ستمبر تک پاکستان اور بھارت دونوں یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ ان میں سے کوئی بھی اس جنگ کو نہیں جیت سکتا۔ اسی لئے دونوں کی یہ کوشش تھی کہ کوئی اس جنگ کو بند کر وا دے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جنگ بچوں کا کھیل نہیں۔ جنگ لڑنے کے لئے امن کے زمانے میں بہت زیادہ تیاری کرنا پڑتی ہے۔ تیزی سے ختم ہوتے ہوئے گولہ بارود کے ذخائر اور فوجی ساز وسامان کی توڑ پھوڑ نے دونوں ممالک کے جرنیلوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ بہتر یہی ہوگا کہ جنگ جلد از جلد بند کر دی جائے۔ اسی لئے جب سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لئے کہا تو دونوں ممالک نے اسے تسلیم کر لیا۔
قسمتی سے سیاست دانوں کو اپنے عوام کو ساتھ رکھنے کے لئے قدم قدم پر جھوٹ بولنا پڑتا ہے اسی پاکستان کے حکمرانوں نے یہ اعلان کیا کہ انھوں نے بھارت کی کئی گنا افواج کو شکست دے دی ہے اس طرح پاکستان کے عوام نے یہ یقین کر لیا کہ انھوں نے یہ جنگ جیت لی ہے۔ ادیبوں اور گانے والوں نے پاک افواج کے بہت گن گائے۔
سیاست دانوں نے نہ صرف عام لوگوں کو گمراہ کیا تھا بلکہ فوج بھی یہ سمجھنے لگی کہ اس نے بھارتی فوج کو شکست دے دی ہے۔ فوجی تقریبات میں گانے والوں کو بلایا گیا جنہوں نے "میرا ماہی چھیل چھبیلا" کر نیل نی جرنیل نی" جیسے گانے گائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فوجی خوش فہمی میں مبتلا یہ صورت حال حساس فوجی افسروں کے لئے بہت تکلیف دہ تھی۔ اس جنگ کے چند ہفتوں بعد جب جنرل موسی خاں سیالکوٹ تشریف لائے اور انھوں نے وہاں دو ڈویژنوں کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے اس جنگ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تو میں نے ان سے سب کے سامنے جب دوران جنگ ہونے والی چند غلطیوں کا ذکر کیا تو ہر طرف سے شور اٹھا کہ بیٹھ جاؤ۔ میری تنقید تعمیری تھی۔ میں چاہتا تھا کہ ہم جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے سوچیں تاکہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کر سکیں۔ لیکن میں ابھی اس وقت اتنا با ہوش نہیں تھا کہ یہ سمجھتا کہ انسان اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے لئے نہیں ہوتا۔ اور وہ اپنی غلط بات پر اصرار کرتا رہتا ہے:۔ کراچی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے جگہ جگہ "یوم شہداء" کا بورڈ نظر آیا۔ آج ۳۰ ستمبر کے اخبارات (مثلاً حریت ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ء) کے صفحہ اول پر اس قسم کی سرخیاں تھیں: آج پورے سندھ میں یوم شہداءحیدرآباد منا یا جا رہا ہے؛ اسی کے ساتھ آج ہی کے اخبار نوائے وقت ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ء) میں صفحہ اول پر جلی سرخی تھی کہ " اتر پردیش اور مقبوضہ کشمیر میں ۴۲ مسلمان شہید کر دئے گئے_ مسلمان ہندوستان میں بھی "شہید" ہو رہے ہیں اور پاکستان میں بھی۔ کراچی کے اخبار حریت (۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ء) اور اسی تاریخ کے وفاق اور نوائے وقت میں جو خبریں پڑھیں، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ " ۳۰ ستمبر کو مہاجر قومی موومنٹ کے زیر اہتمام پورے سندھ میں یوم شہداء حیدرآباد منایا گیا ۔ پچھلے سال ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ کو یہ واقعہ ہوا تھا کہ مسلح دہشت گرد (پٹھانوں) نے کلاشنکوف اور دیگر جدید بد خود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر کے
حیدر آباد سندھ میں دوسو سے زیادہ مہاجر شہر یوں کو شہید کر دیا تھا۔ ان میں بوڑھے، جوان، عورتیں، بچے سب شامل تھے۔ ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مہاجر قومی موومنٹ نے شہیدوں کی پہلی برسی کے موقع پر یوم شہداءِ حیدر آباد منانے کا اعلان کیا دیگر کارروائیوں کے علاوہ پورے حیدر آباد میں جگہ جگہ سیاہ بینر آویزاں کئے گئے جن پر ۳۰ ستمبر کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ انوکھی خوش قسمتی ہے کہ وہ اگر غیر مسلموں کی گولی سے مارے جائیں تب بھی وہ شہید ہوتے ہیں، اور اگر وہ آپس میں لڑ کر مریں تب بھی شہید ہوتے ہیں۔ قسمتی کی یہ قسم اس سے پہلے کسی دور کے مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آئی۔
نوائے وقت (۳۰ ستمبر ۱۹۸۹) سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں ایک طرف ہٹے سندھ کے نعرے ہیں، اور دوسری طرف جٹے مہاجر کے نعرے۔ صفحہ اول پر مہاجر تحریک کے لیڈر الطاف حسین کی تقریر کی رپورٹ تھی۔ اس کے چند جملے یہ ہیں: ایم کیو ایم کے ارکان قومی اسمبلی نے جس طرح ایوان میں مہاجروں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی ہے، اس کی مثال ۲۷ سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ مہاجروں میں جو ش و جذ بہ برقرار رہا تو مہا جروں کو سمندر میں دھکیلنے کا دعوی کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ جو سندھی نہیں ہے، وہ سندھ سے چلا جائے ۔ ہم نے سندھی بن کر رہنے کے لئے نہیں، بلکہ پاکستانی بن کر رہنے کے لئے پاکستان بنایا تھا۔
الفاظ میں معمولی تبدیلی کر دیجئے تو ہندوستان کا مسلمان لیڈر بھی عین یہی تقریر کر رہا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مسئلہ " ہندو مسلم" کا مسئلہ نہیں۔ ہوتا تو ٹھیک یہی واقعہ پاکستان میں کیوں پیش آتا۔ اصل یہ ہے کہ یہ بے دانشی کا مسئلہ ہے۔ مسلمان ( یا صحیح تر لفظوں میں ان کے رہنما ، دانش کو کھو بیٹھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ہی قسم کے مسائل سے دونوں جگہ دوچار ہیں، ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی۔
اخبار نوائے وقت (۳۰ ستمبر ۱۹۸۹) میں صفحہ اول پر ایک خبر تھی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے موجودہ امیر قاضی حسین احمد صاحب نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی
مسلمان امت کو ایک سازش کے تحت پچاس قوموں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس وقت اولین ضرورت اس امر کی ہے کہ زبان، علاقہ ، برادری ، فرقوں میں منتشر اس امت کو مجتمع کر کے ایک قوت بنایا جائے“ اسی طرح جماعت اسلامی کے دوسرے رہنماؤں ، چودھری رحمت الہی اور پروفیسر غفور احمد نے پاکستان کے موجودہ حالات کی نہایت تاریک تصویر پیش کی۔ میں نے جماعت اسلامی کے ایک صاحب سے کہا کہ آپ لوگ سید ابوالاعلیٰ مودودی کو عہد ساز شخصیت کہتے ہیں ، پھر جو عہد انھوں نے بنایا ہے ، وہ کہاں ہے ۔ وہ نہ ہندوستان میں نظر آتا اور نہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ۔ نہ کسی دوسرے چھوٹے یا بڑے مقام پر ۔ اگر آپ کسی ایسے مقام کا پتہ بتائیں جہاں یہ عہد سازی ہوئی ہے تو میں وہاں پہنچ کر اس کو دیکھوں گا۔ مگر وہ کسی ایسے مقام کا نام نہ لے سکے۔
قدیم زمانہ کے لوگ اپنے بادشاہوں کی تعریف میں مبالغہ آمیز اشعار کہا کرتے موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے مفروضہ اکابر کی شان میں اسی قسم کی شاعرانہ لفظی کر رہے یہ ذوق سب سے زیادہ ان دو ملکوں میں ہے جس کا نام ہندوستان اور پاکستان ہے۔ پاکستانی اخبارات میں ہندوستان کے فساد کی خبریں تھیں ۔ ان میں اس قسم کی سرخیاں نظر پڑیں ـــ بھارت میں مسلم کشی، بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام ۔ ان سرخیوں کو پڑھ کر ہندوستان کے بارہ میں عجیب خونیں تصور قائم ہوا۔ شبہ ہوا کہ دہلی ایئر پورٹ پر اترنے کے بعد میں زندہ گھر پہنچوں گا یا میری لاش گھر لے جائی جائے گی۔
مگر ظاہر ہے کہ یہ مبالغہ اور تعمیم کی بات تھی ۔ بدقسمتی سے دونوں ملکوں میں یہی غیر معتدل صورت حال قائم ہے۔ ہندوستان کے اخبارات پاکستان کے بارہ میں اسی قسم کی مبالغہ آمیز خبریں شائع کرتے ہیں ۔ اور پاکستان کے اخبارات ہندوستان کے بارہ میں اسی طرح مبالغہ اور تعمیم کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ اس ناگوار صورت حال کو ختم کرنے کی صورت صرف ایک ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک ملک یک طرفہ طور پر اسے ختم کر دے۔ اس کے بعد دوسرے ملک میں اپنے آپ اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔
کراچی سے دہلی کا سفر پی آئی اے کے ذریعہ طے ہوا۔ اور میں ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ کی رات کو
میرے ساتھ سفر میں ہمیشہ صرف ایک چھوٹا سا ہینڈ بیگ ہوتا ہے۔ نہ مرید گیج اور نہ کسٹم کا کوئی سامان۔ اس لئے جہاز سے اترنے کے بعد مجھے ائیرپورٹ پر رکنے کی ضرورت پیش نہیں میں فوراً "گرین چینل" کی طرف سے باہر آ جاتا ہوں ۔ آج بھی ایسا ہی پیش آیا۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جس کو دنیا میں سامان کم ملا، اس کا حساب آخرت میں بھی کم ہوگا (قلة المال اقل للساب، دل نے کہا کاش دنیا کا یہ واقعہ آخرت میں پیش آنے والے معاملہ کی علامت ہو۔ جس طرح دنیا کے ائیر پورٹ نے مجھے آسانی کے ساتھ گزار دیا ، اسی طرح آخرت کے " ائیر پورٹ" پر بھی مجھ کو آسانی کے ساتھ گزار دیا جائے۔ وما ذالک علی اللہ
انسانی جہاز مجھ کو وطن سے اٹھا کر لے گیا اور افریقہ کی زمین پر اتار دیا۔ اور پھر دوبارہ وطن کی طرف واپس لایا۔ موت کا جہاز مجھ کو لے جا کر آخرت کی دنیا میں اتار دے گا جہاں سے واپسی کے لئے کوئی سواری ملنا ممکن نہیں۔ ایک سفر ختم ہوگیا ، دوسرا سفر شروع ہونے والا ہے۔ پہلے سفر کی تاریخیں معلوم تھیں، دوسرے سفر کی کوئی تاریخ معلوم نہیں۔ کتنا فرق ہے ایک سفر میں اور دوسرے سفر میں۔ اسی فرق کو جاننے کا نام ایمان ہے اور اسی فرق کو نہ جاننے کا نام کفر۔ سفر نامہ بہت لمبا ہوگیا۔ مگر اس کی آخری سطر میں لکھتے ہوئے مجھے احساس ہو رہا ہے کہ وہ سراسر نا تمام ہے۔ شاید جو بات لکھنے کی تھی، وہ ہی اس میں لکھنے سے رہ گئی۔ کوئی انسان دوسروں کی کہانی کیا لکھے گا ، وہ خود اپنی کہانی بھی تحریر نہیں کرسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے والے صرف وہ ہیں جو نہ لکھے کو پڑھیں۔ جاننے والے صرف وہ ہیں جو نہ بتائے ہوئے کو جانیں۔ مگر آج کی دنیا میں لکھے ہوئے کو پڑھنے والے بھی موجود نہیں ۔ لکھے ہوئے کو پڑھنے والے اس دنیا میں کہاں ملیں گے۔ خدا اس بندے پر رحم فرمائے جو زبان رکھتے ہوئے بے زبان ہے۔ جس کے پاس قلم ہے۔ مگر جب اس نے قلم اٹھایا تو وہ صرف یہ لکھ سکا کہ میں نے لکھنا چاہا تھا ، مگر میں لکھنے میں نا کام رہا۔