Al-Risala · April 1990

انتھاہ امکانات

Al-Risala, April 1990, pp. 7–9

By Maulana Wahiduddin Khan

افغانستان کے سفر (اکتوبر ۱۹۸۸) میں ایک دلچسپ چیز دیکھنے کو ملی جو اس سے پہلے میں نے نہیں دیکھی تھی۔ اس کو عام زبان میں فش (fish) کہا جاتا ہے۔ یہ امریکی ساخت کے اس خطرناک ہتھیار کا توڑ ہے جس کو اسٹنگر (stinger) کا نام دیا گیا ہے۔ فش کا حربہ استعمال کرنے کوفشنگ (fishing) کہتے ہیں۔

افغانستان میں روسی فوجوں کے داخلہ (دسمبر ۱۹۷۹) کے بعد روسیوں اور افغان مجاہدین کے درمیان مستقل جنگ شروع ہوگئی۔ افغان مجاہدین صرف زمینی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ جب کہ روسیوں کا حال یہ تھا کہ وہ ہیلی کاپٹر پر اڑ کر ان کے ٹھکانوں کو اپنے بم کا نشانہ بناتے تھے۔ یہ بے حد نازک صورت حال تھی۔ افغانی مجاہدین اگرچہ گن کے ذریعہ جہازوں کو مارنے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر گن سے نکلی ہوئی گولی بالکل سیدھی جاتی ہے ۔ اس لیے ایک ایسی چیز جو تیز رفتاری کے ساتھ فضا میں متحرک ہو، اس کو گولی کا نشانہ بنانا بے حد دشوار ہے۔ افغانی مجاہدین کوشش کے باوجود ، روس کے بمبار جہازوں کو مار گرانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہورہے تھے ۔

اس وقت امریکہ نے افغانی مجاہدین کو جدید قسم کا اینٹی ایرکرافٹ میزائل سپلائی کیا۔ جس کو اسٹنگر (stinger) کہا جاتا ہے۔ اب افغانی مجاہدین کو روس کے بمبار جہازوں پر واضح بالا دستی حاصل ہوگئی۔ وہ جب بھی فضا میں روسی جہاز دیکھتے تو اس پر اسٹنگر داغ دیتے ، اور اسٹنگر پیچھا کر کے جہاز کو مارتا۔ کیوں کہ اسٹنگر عام گولے کی طرح بالکل سیدھا نہیں جاتا۔ وہ جہاز کے رخ پر اپنا رخ بدلتا ہوا جاتا ہے اور اس کو بہر حال مار کر رہتا ہے۔ پہلے اگر افغانی مجاہدین دفاعی حیثیت میں تھے تو اب روسی فضائیہ دفاعی حیثیت میں آگیا۔ مگر اس دنیا میں امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی بھی ایجاد اگلی زیادہ بڑی ایجاد کے امکان کو ختم نہیں کرتی۔ چنانچہ روسیوں نے بہت جلد اسٹنگر کا توڑ دریافت کر لیا ۔ اسی توڑ کا نام "فش روسیوں نے معلوم کیا کہ اسٹنگر کی ٹکنیک یہ ہے کہ وہ گرمی کی طرف بھاگتا ہے۔ چونکہ اس وقت

فضا میں سب سے زیادہ گرم چیز ہوائی جہاز کا انجن ہوتا ہے اس لیے وہ اس کا پیچھا کر کے انجن سے ٹکرا جاتا ہے ، اس طرح وہ جہاز کو برباد کر دیتا ہے ۔

روسیوں نے اسٹنگر کے توڑ میں ” فش “ کو دریافت کیا۔ یہ خاص قسم کا کیمیائی مادہ ہے جو ہوائی جہاز سے باہر آتے ہی جل اٹھتا ہے اور تیز شعلہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ اس شعلہ کی گرمی ہوائی جہاز کے انجن کی گرمی سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اس لیے ہوائی جہاز کی طرف چلایا ہوا اسٹنگر ہوائی جہاز سے ٹکرانے کے بجائے شعلہ (فش) کی طرف جاکر اس سے ٹکرا جاتا ہے ۔ اس طرح ہوائی جہاز اس کی زد سے بچ جاتا ہے ۔

اس واقعہ میں ایک بے حد اہم نکتہ ہے۔ اور وہ ہے فریق ثانی کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا ۔ مقابلہ کی اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو فریق ثانی کی کمزوری کو دریافت کر سکیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والی اہلیت کا ثبوت دیں ۔

روسیوں نے اس معاملہ میں اسی اہلیت کا ثبوت دیا۔ انھوں نے اسٹنگر کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا کہ وہ اپنے اندر انسانی عقل نہیں رکھتا ۔ اس کی ضرب شعوری ضرب نہیں ہے، وہ ایک میکانکی ضرب ہے ۔ وہ ایک مادی چیز ہونے کی وجہ سے ہوائی جہاز کو نہیں جانتا۔ ” گرمی کو نشانہ بنانا جانتا ہے نہ کہ " ہوائی جہاز " کو ۔ روسیوں نے جیسے ہی اس راز کو دریافت کیا، انھوں نے گویا آدھی جنگ جیت لی ۔ اسٹنگر کے مقابلہ میں فش کا استعمال اسی تدبیر کی ایک کامیاب مثال ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کا توڑ ہے ۔ یہاں خطرات کے مقابلہ میں ہمیشہ امکانات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ۔ بشرطیکہ مسائل پیش آنے کے بعد آدمی اپنی ہمت کو نہ کھوئے ۔ وہ خدا کی دی ہوئی عقل کو استعمال کر کے خطرہ کا توڑ دریافت کر سکے ۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ لَنْ یغلب عسر یسرين ایک مشکل دو آسانی پر ہرگز غالب نہیں آسکتی) یعنی اس دنیا میں اگر عسر (مشکل) ایک ہے ، تو اس کے مقابلہ میں یسر (آسانی) کی مقدار اس کا دگنا ہے ۔ یہاں اگر ایک راستہ میں رکاوٹ حائل ہوتی ہے تو وہیں دوسرا راستہ آگے بڑھنے کے لیے کھلا ہوا ہوتا ہے ۔

ایسی حالت میں فریاد اور احتجاج نہ صرف بے فائدہ ہے ، بلکہ وہ خود خدا کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔ یہ خدا کی خدائی کی تصغیر ہے ۔ فریاد و احتجاج کرنے والا شخص بیک وقت دو نقصان کرتا ہے ۔ ایک یہ کہ وہ اپنی ناکامی کو دوبارہ کامیابی بنانے کے امکان کو استعمال کرنے سے محروم رہ جاتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ وہ خدا کی نظر میں اس بات کا مجرم مقرار پاتا ہے کہ اس نے ایک کامل دنیا کو ناقص دنیا بتانے کی جسارت کی ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا اتھاہ امکانات کی دنیا ہے۔ ماضی کی کوئی کوتاہی مستقبل کے مواقع کو برباد دشمن کی کوئی کارروائی ایک نئی برتر کارروائی کے امکان کو ختم نہیں کرتی۔ ہر نقصان کے بعد یہ موقع بدستور باقی رہتا ہے کہ آدمی از سر نو کوشش کرکے دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب بنالے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پیچھے کی طرف دیکھنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھے۔ وہ ہر کھونے کے بعد دوبارہ پانے کی کوشش کرے ۔ وہ ہاری ہوئی بازی کو محنت اور عمل کے ذریعہ از سر نو جیت لے۔ اسلامی شریعت میں عورت کا مقام ۔ اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل از: مولانا وحید الدین خاں عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے۔ عزت اور احترام کے جو احکام ایک صنف کے لئے ہیں وہی احکام دوسری صنف کے لئے بھی ہیں۔ دنیا کے حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت۔ زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں تاہم فطری فرق کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے نہ کہ یکسانیت کار کا اصول۔ (پیپر بیک ۴۰ روپیہ، صفحات ۲۸۰) 8-1-85063-81 ISBN مکتبہ الرسالہ سی ۲۹، نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی۔ ۱۳ فون: 611128، 697333

Printed page