Al-Risala · January 1990

ہنر بچشم عداوت بزرگ تر عیب است

Al-Risala, January 1990, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا محمد منظور نعمانی صاحب کا ایک تردیدی مضمون (ستمبر ۱۹۸۹ء) میں شائع ہوا ہے۔ ایک بزرگ عالم نے ایک کتاب شائع کی ۔ اس کتاب میں شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی اور ان کی کتاب تقویۃ الایمان پر تنقید کی گئی تھی۔ مذکورہ کتاب کا ایک بیان یہ ہے کہ "خاندان شاہ ولی اللہ کے حالات پڑھنے اور سمجھنے سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ مولانا اسماعیل نے واعظی کا پیشہ اپنا لیا تھا، صفحہ ۵۳ اس بیان کے ثبوت اور شہادت کے طور پر مصنف کتاب نے "ارواح ثلاثہ" کے حوالہ سے امیر شاہ خاں صاحب کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ " حج سے واپسی کے بعد چھ مہینہ دہلی میں قیام رہا۔ اس زمانہ میں مولانا اسماعیل گلی کو چوں میں وعظ فرماتے تھے ۔

مگر یہ بالکل لغو اور بے دلیل بات ہے۔ مولانا اسماعیل شہید کے یہ مواعظ بطور پیشہ نہیں تھے بلکہ بطور اصلاح تھے ۔ مسلمانوں کے اندر پھیلی ہوئی بدعات اور مشرکانہ اعمال کا انہیں بے پناہ درد تھا۔ وہ ان کو خالص توحید کی راہ پر لانا چاہتے تھے۔ اس تڑپ کے تحت وہ رات دن وعظ و نصیحت میں مشغول رہتے تھے۔ حتیٰ کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کی روایت کے مطابق ، وہ ایک ایک دن میں بیس بیس جگہ وعظ کہتے تھے ۔ یہ اصلاحی درد کی بنا پر تھا نہ کہ پیشہ ورانہ وعظ خوانی کی بنا پر ۔ مولانا محمد منظور نعمانی صاحب نے اپنے تردیدی مضمون میں اس سلسلہ کی بہت سی معلومات نقل کی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ مولانا اسماعیل شہید کی سرگرمیاں اصلاحی درد کی بنا پر تھیں نہ کہ پیشہ ورانہ وعظ خوانی کی بنا پر ۔ اس مضمون کے آخر میں مولانا نعمانی نے فارسی کا یہ مصرعہ نقل کیا ہے کہ عداوت کی آنکھ سے دیکھنے میں ہنر بھی بہت بڑا عیب بن جاتا ہے :

Printed page