الٹی تفسیر
Al-Risala, January 1990, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الفتح میں اس واقعہ پر تبصرہ ہے جس کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اس کی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے :
اللہ مومنوں دے راضی ہو گیا جب کہ وہ درخت کے نیچے اللہ سے بیعت کر رہے تھے ، اللہ کو معلوم تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا، پس اللہ نے ان پر اطمینان (سکینت) اتارا اور ان کو ایک قریبی فتح سے دی ۔ اور بہت سی غنیمت بھی جس کو وہ لیں گے ، اور اللہ زبردست ہے ، حکمت والا ہے۔ تم نے تم سے بہت سی غنیمت کا وعدہ کیا ہے جس کو تم لو گے تو یہ تم کو فوراً دے دیا۔ نے لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے، اور تاکہ یہ اہل ایمان کے لیے ایک نشانی ہو اور تاکہ اللہ تم کو صراط مستقیم دکھائے (الفتح ۱۸ - ۲۰)
اردو کے ایک مفسر قرآن نے ان آیات میں سکینت اور صراط مستقیم پر جو تفسیری نوٹ لکھا ہے وہ ان کے الفاظ میں حسب ذیل ہے :
" یہاں سکینت سے مراد دل کی وہ کیفیت ہے جس کی بنا پر ایک شخص کسی مقصد عظیم کے لیے ٹھنڈے دل سے پورے سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے آپ کو خطرہ کے منہ میں جھونک دیتا اور کسی خوف یا گھبراہٹ کے بغیر فیصلہ کر لیتا ہے کہ یہ کام بہر حال کرنے کا ہے خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی تمہیں مزید بصیرت اور یقین حاصل ہو، اور آئندہ تم اسی طرح اللہ اور رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ اور اللہ کے اعتماد پر راہ حق میں پیش قدمی کرتے چلے جاؤ۔ اور یہ تجربات تمہیں یہ سبق سکھا دیں کہ خدا کا دین جس اقدام کا تقاضا کر رہا ہو، مومن کا کام یہ ہے کہ خدا کے بھروسہ پر وہ اقدام کر ڈالے، اس حیص بيص میں نہ لگ جائے کہ میری طاقت کتنی ہے اور اور باطل کی طاقتوں کا زور کتنا ہے "
اس موقع پر سکینت اور صراط مستقیم کی یہ تفسیر بالکل الٹی تفسیر ہے۔ یہاں سکینت سے مراد یہ ہے کہ دشمن کی اشتعال انگیز یوں کے باوجود ان کا سکونِ قلب برہم نہیں ہوا۔ حالات میں بھی وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہیں ہوئے۔ یہاں سکینت کا مطلب " نتیجہ کی پروا کیے
بغیر اپنے آپ کو خطرات میں جھونک دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب اس کے بالکل برعکس اس سے مراد اپنے آپ کو ضد سے اور اس منفی نفسیات سے بچانا ہے جب کہ آدمی یہ نادانی کرتا ہے کہ وہ نتیجہ کی پروا کیے بغیر اپنے آپ کو خطرہ کے منہ میں جھونک دیتا ہے۔ یہی معاملہ صراط مستقیم دکھانے کا بھی ہے۔ اس آیت میں صراط مستقیم سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی، بس اقدام کر ڈالے، وہ اس حیص بیص میں نہ پڑے کہ میری طاقت کتنی ہے اور باطل کا زور کتنا؟ اس آیت کا مطلب اس کے بالکل برعکس ہے جو مذکورہ تفسیری نوٹ میں پر جوش الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اس کا اصل مطلب اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے واقعاتی طور پر مسلمانوں کو یہ راستہ دکھایا کہ کامیابی کا راز اکثر اوقات ٹکراؤ میں نہیں ہوتا، بلکہ ٹکراؤ سے اعراض میں ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آیت کا اگر وہ مفہوم لیا جائے جو مذکورہ تفسیر میں بتایا گیا ہے تو اس کو سب سے پہلی خلاف ورزی کرنے والے خود رسول اور اصحاب رسول قرار پائیں گے جن کے اوپر قرآن کی یہ آیت اتری۔ کیوں کہ "حدیبیہ" کے موقع پر انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ مخالفین کی مخالفتوں کی پروا کیے بغیر ہمراہ کا اقدام کر ڈالیں، وہ ہر حال میں مکہ میں داخل ہو جائیں ، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔
میوات کا سفر هدیه ۲۵ روپیه