دعوت یا نفرت
Al-Risala, April 1990, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
پرانی دہلی کے ایک محلہ میں ایک شخص نے دکان کھولی۔ اس کے بعد محلہ کا ایک آدمی اس کی دکان پر آنے لگا۔ وہ روزانہ آتا اور دوکان پر بیٹھ کر محلہ والوں کی برائیاں بیان کرتا۔ پہلے نرمی کے ساتھ اس کو اس قسم کی باتوں سے روکنے کی کوشش کی ۔ مگر وہ نہ رکا۔ آخر دکاندار ایک روز ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا : میاں صاحب ! بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ میری دکان پر نہ آئیں ۔ آپ جن لوگوں کی برائیاں کرتے ہیں وہ سب میرے گاہک ہیں ۔ آپ کی باتیں سن کر اگر میرے دل میں ان کی نفرت آجائے تو میں ان کے ساتھ دکانداری نہیں کر سکتا۔ کا سودا ہے۔ وہ نفرت اور حقارت کا کاروبار نہیں ۔
موجودہ زمانہ میں جو مسلمان اسلام کے مسائل پر لکھنے اور بولنے کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں ، اسلام بھی ان سے بزبان خاموش کہہ رہا ہے کہ آپ کا بہت کرم ہوگا ، اگر آپ لوگ میرے بارہ میں لکھنے اور بولنے کا موجودہ کام ختم کر دیں۔ کیوں کہ آپ کا سارا کلام منفی کلام ہے، اور یہ منفی کلام میرے تمام دعوتی امکانات کو مسلسل طور پر برباد کر رہا ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے جو لکھنے اور بولنے والے ہیں، وہ سب کے سب اس سادہ حقیقت سے بے خبر نظر آتے ہیں جس کو مذکورہ واقعہ میں ایک معمولی دکاندار نے اول روز جان لیا تھا۔ ہمارے لکھنے اور بولنے والے دعوت کا نام لیتے ہیں۔ وہ فخر کے ساتھ اپنے آپ کو داعی کہتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ ایسی باتیں لکھنے اور بولنے میں مشغول ہیں جو مسلمانوں کے اندر اپنی مدعو قوموں کے خلاف نفرت اور بغض کی فصل اگاتے والی ہوں ۔
موجودہ مسلم دنیا میں جو لوگ لکھنے اور بولنے کا کام کر رہے ہیں ، ان کے کلام کا مشترک خلاصہ ایک لفظ میں شکایت اور احتجاج ہے۔ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی غیر مسلم فرقہ یا گروہ کی برائیاں بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی مغربی مستشرقین کی سیاہ کاریوں کا اعلان کر رہا ہے اور کوئی صہیونی یہودیوں کی مکاری کا۔ کوئی استعماری طاقتوں کے ظلم کا انشار کر رہا ہے اور کوئی صیبی فونوں کی معاندانہ کاروائیوں کوئی مسیحی مبلغین کی سازشوں کا انکشاف کر رہا ہے اور کوئی ہند احیار پرستوں کے خفیہ منصوبوں کا۔
اسی طرح کوئی مسلم اقلیت کے خلاف غیر مسلم اکثریت کے امتیاز کے اعداد و شمار چھاپ رہا ہے ۔ مسلمانوں کے ملی تشخص کو ختم کرنے کے لیے اغیار کی معاندانہ کوششوں پر فریاد کرنے میں مشغول ہے ۔ دعوت کی شریعت میں یہ تمام چیزیں ناجائز کے درجہ میں غلط ہیں ۔ یہ تمام لوگ جن کے خلاف موجودہ قلمی اور لسانی جہاد کیا جارہا ہے ، وہ وہی ہیں جن پر ہمیں دعوت کے فرض کو انجام دینا ہے۔ وہ سب کے سب ہمارے لیے مدعو کے درجہ میں ہیں ۔ مذکورہ قسم کی تقریریں اور تحریریں مسلسل طور پر مسلمانوں کو اپنے مدعو گروہ سے متنفر کر رہی ہیں ۔ اور جن لوگوں کے خلاف آدمی کے دل میں نفرت پیدا ہوجائے ، وہ ان کے اوپر دعوت کا عمل جاری نہیں کر سکتا۔
دعوت کا عمل محبت اور خیر خواہی کے سرچشمہ سے نکلنے والا عمل ہے ۔ وہ نفرت اور بغض سے بھرے ہوئے سینہ سے ظاہر ہونے والا عمل نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں داعی کو یک طرفہ طور پر صبر اور اعراض کی روش پر قائم ہونے کا حکم دیا گیا ہے ۔ دعوت اور صبر دونوں لازم اور ملزوم ہیں ۔ جو لوگ مدعو کی زیادتیوں پر صبر نہ کر سکیں ، وہ خدا کے دین کو خدا کے بندوں تک پہونچانے کا کام بھی نہیں کر سکتے۔
ایسی حالت میں مسلمانوں کے جو لکھنے اور بولنے والے یہ کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی مدعو اقوام کے ظلم اور ان کی سازشوں کے خلاف فریاد کرنے کی ایجنسی لیے ہوئے ہیں ، وہ درحقیقت شیطان کے ایجنٹ ہیں۔ شیطان چاہتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان تلخیوں کو خوب بڑھائے تاکہ داعی اپنے مدعو سے اتنا متنفر ہوجائے کہ اس کے دل میں مدعو کے اوپر دعوتی عمل کرنے کا جذبہ ہی باقی نہ یہی وہ کام ہے جو آج ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والے انجام دے رہے ہیں۔ شیطان کے مقصد کی تکمیل ہے نہ کہ خدا کے منصوبہ کو بروئے کار لانے کی جدوجہد ۔ اسلام دورِ جدید کا خالق ہدیہ ۲۰ روپیہ