صرف ہندوستان نہیں
Al-Risala, April 1990, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر رفیق زکریا کی ایک انگریزی کتاب ۱۹۸۸ میں نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔ اس کا نام ہے داخلی کش مکش اسلام میں (The Struggle within Islam) مصنف نے اس کتاب میں جو باتیں لکھی ہیں ، ان میں سے ایک وہ ہے جس کا تعلق ہندستانی مسلمانوں سے ہے۔ لکھا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اچھا ہوگا اگر وہ یہاں دھیما انداز اختیار کریں، کیوں کہ پر شور انداز والا اسلام ہندوستان میں صرف ٹکراؤ پیدا کرنے کا باعث ہوگا :
It would be better if the community kept a low-profile because high-profile Islam in India can only provoke confrontation. مسٹر جی حبیب اللہ نے اس نظریہ پر تنقید کی ہے جو ٹائمز آف انڈیا (۱۸ جون ۱۹۸۹) میں شائع وہ کہتے ہیں کہ اسلام ، دوسرے مذہبوں کی طرح نرمی اور مصالحت کو گوارا نہیں کر سکتا۔ کے متعلق بے ہودہ اور کافرانہ فلم لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ پر عیسائیوں کے نرم رد عمل کا مقابلہ سٹینگ ورسز پر مسلمانوں کے شدید رد عمل سے کیجئے۔ اسلام ایسا نہیں کر سکتا کہ بس اپنا سر نیچا کرلے اور مصلحت اندیشانہ اور شریفانہ انداز اختیار کرے :
Compare the bland Christian reaction to the vulgar and blasphemous film, The Last Temptation of Christ, and the vigorous Muslim reaction to The Satanic Verses. Islam is just not going to keep its head down and behave in a prudently gentlemanly fashion. "لو پروفائل" اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک اصول ہے نہ کہ سرافگندگی۔ ملک ہو یا غیر مسلم ملک ، ہر جگہ اسی طریقہ پر چل کر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ حتیٰ کہ جو لوگ لو پروفائل کے مسلک پر پر جوش لفظی تنقید کرتے ہیں ، وہ خود بھی اپنے ذاتی معاملات کو ہمیشہ اسی ڈھنگ پر درست کرتے ہیں ۔
مسلمانوں کو لو پروفائل کا طریقہ بطور اصول اختیار کرنا چاہیے ، نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں ۔ موجودہ زمانہ میں اس کے سوا زندگی کا کوئی اور طریقہ نہیں ۔