ردِ عمل کے تحت
Al-Risala, April 1990, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
مشہور اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولانا ظفر علی خاں (۱۸۷۳ء ۔ ۱۹۵۶ء) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اپنے وطن کرم آباد (پنجاب) میں انتقال کیا۔ نوائے وقت (۲۷ نومبر ۱۹۸۹ء) میں ان کی بابت مفصل معلومات شائع ہوئی ہیں۔ ایک اقتباس یہ ہے :
" ظفر علی خاں کے والد مولانا سراج الدین کشمیر کے محکمہ ڈاک میں ملازم تھے۔ اوائل عمر میں مولانا ظفر علی خاں کو کشمیر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی قومی غیرت کو تڑپا دیا۔ ظفر علی خاں کے سوانح نگار محمد اشرف خاں عطا لکھتے ہیں کہ میٹرک پاس کر لینے کے بعد مولانا ظفر علی خاں اپنے والد سے ملنے گل مرگ (کشمیر) گئے۔ وہاں ایک دن وہ ڈاک خانہ کے باہر بیٹھے تھے۔ اثنا میں ایک انگریز فوجی افسر گھوڑے پر وہاں آگیا ۔ اس نے بڑی تمکنت سے ظفر علی خاں کو بلایا اور کہا کہ اے لڑکے، جب تک میں اندر سے واپس نہیں آتا، تم میرے گھوڑے کی لگام پکڑے یہاں کھڑے رہو ۔ نوجوان ظفر علی خاں کو اس فرنگی کی بات سخت ناگوار گزری ۔ انھوں نے اس کو دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ اس کو سن کر انگریز سکتہ میں آگیا۔ اس نے اس گستاخی کی شکایت حکام بالا سے کر دی۔ نتیجہ ظفر علی خاں کو اپنے والد کے کہنے پر واپس پنجاب آنا پڑا۔ یہ بات عمر کے ساتھ ساتھ شعوری طور پر مولانا ظفر علی خاں کی شخصیت کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر گئی ۔ اخبار مذکور نے لکھا ہے کہ مولانا ظفر علی خاں کا شمار فرنگی حکومت کے صف اول کے مخالفوں میں انھوں نے دنیائے اسلام کی ہر اس تحریک میں حصہ لیا جو کسی بھی ملک میں کسی بھی قیادت کے تحت انگریزوں کے خلاف اٹھی۔ مثلاً تحریک خلافت ، تحریک مسجد کانپور ، تحریک آزادی ہند، اخبار کے الفاظ میں : " ان کی نظروں کے سامنے سلطنت عثمانیہ کا سقوط ہوا۔ خود ان کا ضمیر مغلیہ سلطنت کے عظیم کھنڈروں کی راکھ سے اٹھا جس میں امت مرحومہ کی چنگاری ابھی سلگ رہی تھی۔ نے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی حدوں تک پھیلی ہوئی مسلم سلطنت کو پارہ پارہ ہوتے دیکھا۔ کے سامنے ہی شیراز کا بلبل بغداد کی تباہی پر نالہ کش ہوا۔ اور داغ دہلی کی بربادی پر رویا اور ابن بدروں غرناطہ کے زوال پر نوحہ کناں ہوا ۔
ان حادثات (صحیح تر لفظ میں) مسلمانوں کی غفلت سے پیش آنے والے واقعات) نے مولانا ظفر علی خاں کو تڑپا دیا۔ وہ اپنی تڑپ کو نظم و نثر میں انڈیلتے رہے۔ یہاں تک کہ ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ کو اس دنیا سے چلے گئے۔
مولانا ظفر علی خاں یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی یہ منفی چیخ پکار مثبت نتیجہ پیدا کرے گی۔ نے پر جوش طور پر کہا تھا :