عنقریب اسلام کی فصل بہار آنے کو ہے
Al-Risala, April 1990, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہ سراسر خوش خیالی تھی جو کبھی پوری نہیں ہوئی۔ یہ ایک مولانا ظفر علی خاں کی بات یہی موجودہ زمانہ کے تمام رہنماؤں کا حال ہے ۔ وہ اپنی منفی کاشت سے مثبت فصل کی امید کرتے رہے ۔ وہ دوسروں کی تخریب میں اپنی تعمیر کا خواب دیکھتے رہے ۔ یہ سلسلہ آج بھی اسی جوش کے ساتھ جاری ہے ۔ مگر یہ یقینی ہے کہ اس قسم کی کوششوں سے نہ ماضی کے لیڈر کوئی نتیجہ برآمد کر سکتے تھے اور نہ حال کے لیڈر کوئی نتیجہ برآمد کر سکیں گے ۔ اس قسم کی تمام سرگرمیاں ضیاع وقت کے خانہ میں جانے والی ہیں نہ کہ تعمیر قوم کے خانہ میں ۔ از مولانا وحید الدین خاں قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے۔ اسلام کا ظہور، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے۔ صفحات ۳۷۰ ، ہدیہ ۲۵ روپید