اپریل ۱۹۹۰ء | الرسائل 31
Al-Risala, April 1990, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
جب لوگوں کا حال یہ ہو کہ ان کی تمام سوچ اور ان کے تمام جذبات عدل، کی طرف متوجہ ہوں، وہ خدائی ہدایات کو اولیت دیتے ہوں۔ وہ زندگی کے ہر معاملہ میں ربانی مقاصد کو اونچا رکھیں، تو ایسے لوگ خدا کی نظر میں محبوب اور معزز ہوجاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ بندوں کی نظر میں بھی محبوب اور معزز قرار پاتے ہیں۔
اس کے برعکس جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ خدا کو بھولے ہوئے ہوں، وہ خود ساختہ شریعت پر چلیں ۔ ان کے ذاتی مفادات ہی ان کی زندگی کا مرکز و محور بن جائیں، تو خدا ایسے لوگوں کی طرف سے اپنی نظریں ہٹا لیتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی قوم لوگوں کے درمیان حقیر اور مغلوب ہو کر رہ جاتی ہے۔
عروج و زوال کا یہی قانون سابق اہل کتاب (یہود) کے لیے تھا۔ اور عروج و زوال کا یہی اٹل قانون موجودہ اہل کتاب (مسلمانوں) کے لیے بھی ہے۔ یہود کی قیمت اللہ کی نظر میں ان کے عمل کے اعتبار سے تھی، اسی طرح مسلمانوں کی قیمت بھی اللہ کی نظر میں ان کے حقیقی عمل کے اعتبار سے قرار پائے گی نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔
اگر مسلمانوں کا حال یہ ہوجائے کہ ان کے رہنما ذاتی عزت و شہرت (self-glory) کے لیے کام کریں ۔ ان کے دولت مند اپنی دولت کو صرف ذاتی حوصلوں کی تکمیل میں لگائیں۔ ان کا دانشور طبقہ اپنی زبان و قلم کو بازار کا سودا بنا لے۔ ان کے خواص ان چیزوں کی طرف دوڑیں جن میں اخباری اہمیت (news value) ہوتی ہے۔ ان کے عوام خود ساختہ رسموں کو اپنا لیں، ان کی اخلاقی حس اتنی کند ہو جائے کہ کوئی شخص خدا کو عدل اور ظلم کو ظلم کہنے والا باقی نہ رہے۔ ایسا ہو جائے تو مسلمانوں کے حق میں بھی اسی قانون خداوندی کے نفاذ کا انتظار کرنا چاہیے جو سابق اہل کتاب (یہود) پر نافذ ہوا۔ موجودہ گروہ بھی اسی طرح رد کر دیا جائے جس طرح پہلا گروہ رد کیا گیا۔
خدا کے یہاں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ خدائی قانون کے نفاذ میں کسی گروہ کا کوئی استثناء نہیں۔ وہ دوسرے گروہ کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرے گا جو اس نے پہلے گروہ کے ساتھ کیا۔ اس معاملہ میں اگر کسی کو خوش فہمی ہو تو اس کو قرآن کی
یہ آیت پڑھنی چاہیے :
لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ (یہود) کی آرزوؤں پر ہے۔ جو شخص بھی برامل مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِياً وَلَا نَصِيراً کرے گا اس کو ضرور اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ ( النساء ۱۲۳ ) اور وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حمایتی اور مددگار نہ پائے گا۔
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے جو نوٹ لکھا ہے وہ نہایت با معنی ہے ۔ اس نوٹ کو یہاں نقل کیا جاتا ہے :
کتاب والوں، یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کو خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں جن گناہوں پر خلقت پکڑی جائے گی، ہم نہ پکڑے جائیں گے ۔ ہمارے پیغمبر حمایت کر کے ہم کو بچالیں گے۔ اور نادان اہل اسلام بھی اپنے حق میں یہی خیال کر لیا کرتے ہیں ۔ سو فرما دیا کہ نجات اور ثواب کسی کی امید اور خیال پر موقوف اور منحصر نہیں۔ جو برا کرے گا، پکڑا جائے گا۔ کوئی ہو، اللہ کے عذاب کے وقت کسی کی حمایت کام نہیں آسکتی ۔ اللہ جس کو پکڑے ، وہی چھوڑے تو چھوٹے ۔ اور جو کوئی عمل نیک کرے گا، بشرطیکہ ایمان بھی رکھتا ہو، سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے، اور اپنی نیکیوں کا پورا ثواب پائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ثواب و عذاب کا تعلق اعمال سے ہے، کسی کی امید اور آرزو سے کچھ نہیں ہوتا ۔ سو ان امیدوں پر لات مارو اور نیک کاموں میں ہمت کرو "
زیر طبع کتابیں تجدید دین صفحات ۸۸ راه عمل ۱۵۲ عقلیات اسلام ۱۲۰