اسلامی نکاح
Al-Risala, April 1990, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
نکاح عورت اور مرد کے درمیادن ایک معاہدہ ہے ۔ یہ معاہدہ مقدس بھی ہے اور مستقل بھی۔ اس موقع پر مرد کی طرف سے عورت کو جو مہر دی جاتی ہے ، وہ معاوضہ یا ہد یہ نہیں ہے ۔ وہ در اصل ایک علامتی رقم (token money) ہے۔ مہر کی صورت میں مرد ایک علامتی رقم ادا کر کے اس بات کا سنجیدہ عہد کرتا ہے کہ وہ نکاح کی تمام شرعی اور انسانی ذمہ داریوں کو نبھائے گا۔ شریعت کے مطابق مہر کی مقدار ایسی ہونی چاہیے جس کا ادا کرنا آسان ہو۔ ( خیر الصداق ایسرہ) مہر کی ذمہ داری مرد پر ڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ مرد صنف قوی ہے ۔ عورت کا صنف ضعیف ہونا بذات خود اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ معاہدہ کی پابند رہے گی ، اس لیے مہر کی ذمہ داری مرد (صنف قوی) پر ڈالی گئی ، تاکہ اس کو اس کی خصوصی ذمہ داری یا دلائی جائے ۔ حضرت انس بن مالک مشہور صحابی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ نے جب نکاح کیا تو اس نے آدھے دین پر عمل کر لیا ۔ پس اس کو چاہیے کہ وہ بقیہ آدھے دین میں اللہ سے ڈرے ( اذا تزوج العبد فَقَد استكمل نصف الدین فلیتق الله في النصف الباقي) مشکاۃ المصابیح ، الجز ر الثانی ، صفحہ ۹۳۰ اس حدیث کی روشنی میں جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان نکاح اور ازدواجی زندگی کے معاملہ میں صرف آدھے دین کی حد تک دین دار ہیں ۔ بقیہ آدھے دین کے معاملہ میں وہ خدا سے بے خوفی کی حد تک بے دین بنے ہوئے ہیں ۔ ان غیر دینی طریقوں میں سے ایک ، قابل نفرت حد تک قبیح چیز وہ مسرفانہ رسوم ہیں جو شادی کے موقع پر رواجاً ضروری بن گئی ہیں ۔ ان جھوٹی رسموں نے موجودہ زمانہ میں بے شمار خاندانوں کو ایک قسم کے سماجی عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ نکاح کے ارکان و شروط کے بارہ میں فقہاء کے درمیان کچھ لفظی اختلافات پائے جاتے تاہم اس سے قطع نظر ، اصل یہ ہے کہ اسلامی نکاح صرف طرفین کے ایجاب و قبول سے واقع ہو جاتا ہے ، بشرطیکہ اس کا اعلان بھی کیا گیا ہو ، اور ناکح نے منکوحہ کو اس کی ضروری مہر ادا کر دی
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں نکاح اور شادی کا معاملہ کتنا زیادہ سادہ اور سہل ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلم شادیوں میں ایسے برے رواج شامل ہوگئے ہیں جنہوں نے ایک جائز فعل کو نا جائزفعل میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک یہ کہ شادی کو خاندانی وقار کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ کے نتیجہ میں نکاح کی سادہ اسلامی تقریب مصنوعی دھوم اور بے جا نمائش کی تقریب بن گئی ہے۔ اس دھوم اور نمائش کو قائم رکھنے کے لیے لوگ مالی اعتبار سے لُٹ جاتے ہیں۔ جائدادیں بیچ دیتے اور سودی قرض کی لعنت میں پھنس جاتے ہیں ۔ ایک دن کی ظاہری دھوم کی خاطر وہ اپنی پوری زندگی کو بے دھوم بنا لیتے ہیں ۔
یہ تمام چیزیں سراسر غیر اسلامی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نکاح کی تقریب کو انتہائی حد تک سادہ اور بے خرچ ہونا چاہیے ۔ وہ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسے نماز کا وقت آیا اور آدمی نے مسجد میں جاکر نماز پڑھ لیا ۔ نکاح اور شادی کو ایک سنجیدہ فریضہ کی ادائیگی کا دن ہونا چاہیے ، نہ کہ شخصی حیثیت یا خاندانی عزّت کے اظہار کا دن۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ان اعظم النکاح بركة ايسره مؤنة بے شک سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے مشکوۃ المصابیح ، الجز والثانی ، صفحہ ۹۳) جو سب سے زیادہ ہلکا اور کم خرچ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخصوص مصالح کی بنا پر کئی نکاح کی اجازت تھی۔ چنانچہ آپ نے مختلف اوقات میں گیارہ خواتین سے نکاح کیا۔ نو خواتین بوقت وفات آپ کے یہاں موجود ان میں سے کسی بھی نکاح کے موقع پر کسی بھی قسم کی کوئی نمائشی تقریب نہیں کی گئی ۔ مثلاً آپ کی ایک اہلیہ سودہ بنت زمعہ تھیں ۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد کہ میں ان کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ سودہ ایک بیوہ خاتون تھیں۔ آپ کی طرف سے خولہ بنت حکیم نکاح کا پیغام لے کر گئیں ۔ انھوں نے پہلے سودہ سے اس کا ذکر کیا۔ سودہ نے کہا کہ اگر میرا باپ راضی ہو تو مجھے کوئی عذر نہیں ۔ چنانچہ خولہ نے سودہ کے باپ سے گفتگو کی ۔ انھوں نے اس رشتہ سے اتفاق کیا ۔ کے بعد آپ سودہ بنت زمعہ کے مکان پر گئے اور وہاں سادہ طور پر نکاح پڑھا دیا گیا۔ اصحاب رسول کا طریقہ بھی ہمیشہ یہی رہا۔ حتیٰ کہ صحابہ میں جو لوگ صاحبِ مال تھے، ، انھوں نے
بھی ہمیشہ سادہ اور بے خرچ انداز میں نکاح کیا۔ مثال کے طور پر حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک وہ ان چند صحابہ میں کہتے جو مالدار شمار کیے جاتے تھے۔ انھوں نے مدینہ میں ایک خاتون سے نکاح کیا۔
امام احمد نے حضرت انس کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی مواخات مدینہ میں ایک ایسے مسلمان کے ساتھ کی گئی جو بہت مالدار تھے ۔ انھوں نے اپنے نصف مال کی پیش کش کی۔ مگر عبدالرحمن بن عوف نے ان کے مال میں سے کچھ نہیں لیا۔ انھوں نے مدینہ میں تجارت شروع کردی۔ یہاں تک کہ وہ خود ایک مال دار شخص ہو گئے ۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے تو ان کے کپڑے پر خوشبو کا اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمانی زبان میں فرمایا مَهْيَم۔ انھوں نے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً اے خدا کے رسول، میں نے ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے) ، الجزد الاول ، ۳۸۰ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اگر چہ مدینہ میں تھے مگر انھوں نے اپنے نکاح میں دھوم والی کوئی تقریب نہیں کی۔ حتی کہ رسول اللہ کو اور آپ کے قریبی اصحاب کو بھی شادی کی تقریب میں مدعو نہیں کیا۔ سادہ طور پر محض ایجاب و قبول کے ذریعہ نکاح کر لیا۔ اور مقررہ مہر ادا کر کے ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔