فتح بغیر جنگ
Al-Risala, January 1990, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر رچرڈ نکسن ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۴ تک امریکہ کے پریذیڈنٹ تھے ۔ انھوں نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے ۔ ۱۹۹۹ ، جنگ کے بغیر فتح : Richard Nixon, 1999: Victory Without War اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں ، ان میں سے ایک بات امریکہ اور جاپان کے باہمی تعلق کے بارے میں ہے۔ اس سلسلہ میں مسٹر نکسن نے جو باتیں لکھی ہیں ، ان میں سے ایک بات مختصر طور پر یہ ہے :
The Americans decimated Japan in 1945, and after World War II, 35 1986 $60 $170 $2,000 $180 2). امریکنوں نے ۱۹۴۵ میں جاپان کے بڑے حصہ کو تباہ کر دیا۔ پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد انھوں نے زبردست اقتصادی امداد کے ذریعہ جاپان کی دوبارہ تعمیر کی۔ جاپان کے ساتھ یہ معاملہ انھوں نے اپنے ذاتی مقصد کے لیے ، ایک نمونہ کے ملک کے طور پر کیا۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس اشتراکی نظریہ کو غلط ثابت کر سکیں کہ غریبی کو سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ختم نہیں کیا
چنانچہ جاپان میں قدیم بادشاہت کی جگہ جمہوریت لائی گئی ۔ امریکیوں نے خود وہاں کا دستور لکھ کر تیار کیا۔ اس کا دفاع مکمل طور پر واشنگٹن کے تحت کر دیا گیا ۔
اس تجربہ کے ۳۵ سال بعد تلخ اقتصادی اختلافات کے بادل امریکہ اور جاپان کے تعلقات پر چھا گئے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی توازن ہولناک حد تک بگڑ گیا۔ ۱۹۸۶ میں امریکہ نے جتنا سامان جاپان کے ہاتھ بیچا ، اس کے مقابلہ میں جاپان نے ساٹھ بلین ڈالر کے بقدر زیادہ سامان امریکہ کے ہاتھ فروخت کیا۔ واضح ہو کہ اس سال امریکہ کا کل تجارتی خسارہ ۱۷۰ بلین ڈالر تھا۔ جاپان اس پوزیشن میں ہو چکا ہے کہ اس نے امریکی چاول کی خریداری کے لیے ۸۰ ا ڈالر فی ٹن کی پیش کش کور دکر دیا جب کہ اسے اپنے ملک میں چاول پیدا کرنے کے لیے ۲۰۰ ڈالر فی ٹن خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اب امریکہ کو یہ شکایت ہے کہ جاپانیوں نے امریکی سامان کے لیے اپنی مارکیٹ کو بند کر دیا ہے ( ٹائمز آف انڈیا ۱۲ اپریل ۱۹۸۹ )
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی حیثیت فاتح اور غالب کی تھی، اور جاپان کی حیثیت مفتوح اور مغلوب کی۔ مگر فاتح نے جو اقدامات اپنے مفاد کے لیے کیے ، اس کو مفتوح نے اپنے مفاد میں تبدیل کر لیا ۔ یہی موجودہ دنیا کا امتحان ہے۔ اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو دشمن کے مخالفانہ منصوبوں میں اپنے لیے موافق پہلو تلاش کر لیں جو دشمن کی تدبیروں کو اپنے لیے زینہ بنا کر آگے بڑھ جائیں۔ اس دنیا میں شکست بھی فتح کا دروازہ کھولتی ہے۔ یہاں جنگ کے بغیر بھی کامیاب مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ مگر یہ سب کچھ دانش مندوں کے لیے ہے۔ نادانوں کے لیے خدا کی اس دنیا میں کوئی بھی حقیقی کامیابی مقدر نہیں۔ ان کے لیے فتح بھی شکست ہے اور شکست بھی شکست۔
ھدیہ ۱۵ روپیہ