Al-Risala · April 1990

تلک کی رسم

Al-Risala, April 1990, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں میں آج کل جہیز کی جو رسم ہے ، وہ عین اسی ہندوانہ رسم کی نقل ہے جو برادران وطن کے درمیان تلک (dowry) کے نام سے رائج ہے۔ ہندوؤں میں یہ رسم غالباً زرعی دور میں اس طرح پڑی کہ ان کے مذہبی قانون کے مطابق، جائداد میں لڑکیوں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ اس کی جزئی تلافی کے لیے شادی کے موقع پر کچھ نقد یا سامان لڑکی کو دینے کا رواج شروع ہوا۔ غیر قوموں کی جن چیزوں کو مسلمانوں نے باقاعدہ اپنا لیا ہے، ان پر تو وہ دین کی طرح عمل لیکن غیر قومیں اگر خود کسی چیز کو ان کے درمیان رائج کرنا چاہیں تو فوراً ان کے تمام اصاغر و اکابر پکار اٹھتے ہیں کہ ان کی ملی شناخت کو مٹانے کی سازش کی جارہی ہے۔

Printed page