Al-Risala · April 1990

ایثار اور قربانی کی تجدید

Al-Risala, April 1990, pp. 43–47

By Maulana Wahiduddin Khan

عید الاضحی کا تہوار، دوسرے تاریخی تہواروں کی طرح، ایک بڑے تعمیری اور انقلابی واقعہ کی یادگار ہے۔ ہر سال ہجری کلنڈر کے آخری مہینہ میں اس دن کو عید الاضحی کے طور پر اس لیے منایا جاتا ہے کہ لوگ اس دن پیش آنے والے عظیم واقعہ کو یاد کریں اور اس کو اپنی زندگیوں میں داخل کرنے کا عہد کریں۔ یہ دن، ایک لفظ میں، ایثار اور قربانی کی یادگار ہے، وہ ایثار اور قربانی کی تجدید کا دن ہے۔ عید الاضحی جس عظیم واقعہ کی یادگار ہے، وہ تقریباً چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السّلام، جو عراق کے متمدن ملک میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے ایک اعلی مقصد کی خاطر اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کر دیا۔ یہ قربانی حقیقۃً جسم پر لوہے کی چھری چلانا نہ تھا بلکہ اپنی پوری زندگی پر صبر کی چھری چلانے کے ہم معنی تھا۔ یہ حق کی خاطر اپنی ذات کو نظر انداز کرنا تھا۔ یہ ایک بڑے مقصد کی خاطر چھوٹے تقاضوں کو چھوڑ دینا تھا۔ یہ اپنی منزل کی طرف ہر حال میں آگے بڑھنا تھا، خواہ اس کے لیے اپنی عزیز ترین متاع سے دست بردار ہونا پڑے۔

عید الاضحی کی مناسبت (relevance) ہمارے لئے کیا ہے ۔ اور یہ دن ہم سے کس قسم کے ایثار و قربانی کا تقاضا کرتا ہے، اس کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ حضرت ابراہیم کی قربانی کی حقیقت کیا تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی قربانی کی اہمیت کو جاننے کے بعد ہی ہم اپنی زندگیوں میں اس کی اہمیت کو جان سکتے ہیں۔ اس کو عملی طور پر اختیار کر سکتے ہیں ۔

ابتدائی طور پر حضرت ابراہیم کی قربانی کا واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک خواب کے مطابق اپنے عزیز بیٹے اسماعیل کو ذبح کر دینا چاہا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے اسماعیل کی جان کے فدیہ کے طور پر انہیں مینڈھا ذبح کرنے کی ہدایت کی اور حضرت اسماعیل کے لیے یہ حکم ہوا کہ ان کو لے جا کر عرب کے صحرا میں بسا دیں

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اصل منشا ربیٹے کا وقتی جسمانی ذبیحہ نہ تھا بلکہ اس کا مستقل نفسیاتی ذبیحہ تھا۔ کیونکہ اس وقت عرب کے صحرا میں کسی ذی حیات کو بسانا اس کو مستقل طور پر ذبح کی حالت میں ڈال دینے کے ہم معنی تھا۔

اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا کہ ایک وسیع اصلاحی انقلاب دنیا میں لایا جائے جو ساری انسانیت کے لئے خیر و فلاح کا باعث ہو۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ درجہ کے افراد کی ایک ٹیم درکار تھی ۔ اسی طاقتور ٹیم کو تیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کو استعمال فرمایا۔

اس مقصد کے لیے ضرورت تھی کہ ایک ایسا انسانی گروہ تیار کیا جائے جو تمدنی خرابیوں سے پاک ہو، جس کے اندر فطری انسانی اوصاف زندہ ہوں، جو ان تمام اعلیٰ خصوصیتوں کا مجموعہ ہو جس کو المروۃ (مردانگی) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی نسل شہر کی مصنوعی فضا میں نہیں بن سکتی تھی ۔ اس کے لئے فطرت کا سادہ ماحول درکار تھا۔ منصوبہ ہے جس کی تکمیل ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے ذریعہ انجام پائی۔ ابراہیم نے اس اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔

اس مقصد کی تکمیل کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو عراق کی تمدنی فضا سے نکالا اور ان کو لا کر عرب کے غیر آباد علاقہ میں ڈال دیا۔ وہاں ریت اور پتھر کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں زندگی کا کوئی سامان پایا نہ جاتا تھا۔ تاہم اس بے سامان ماحول میں سب سے بڑا سامان موجود تھا۔ وہ سادہ ماحول جہاں انسان اپنی فطرت پر پرورش پائے ، جہاں اس کے پیدائشی انسانی اوصاف کو آزادانہ ترقی کرنے کا موقع ملے ۔

اللہ تعالیٰ نے اس خشک اور خالی علاقہ کو مطلوبہ نئی نسل تیار کرنے کے لیے منتخب کر لیا ۔ یہ گویا ایک عظیم صحرائی تربیت گاہ تھی جہاں حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر بسا دیا ۔ حضرت اسماعیل جب بڑے ہوئے تو انہوں نے ایک صحرائی لڑکی سے نکاح کر لیا ۔ اس طرح اس صحرائی ماحول میں وہ نسل بننا شروع ہوئی جو بعد کو بنو اسماعیل کہلائی۔

یہی بنو اسماعیل ہیں جن کے منتخب افراد کا نام اصحاب رسول ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اسی قوم (بنو اسماعیل) میں پیدا ہوئے۔ نے ان کو توحید کے نظریہ پر جمع کیا اور پھر ان کو لے کروہ عالمی اسلامی انقلاب برپا کیا جس نے انسانی تاریخ کا رُخ موڑ دیا۔ یہ بنواسماعیل تاریخ کے انوکھے لوگ تھے جو اعلیٰ انسانی اوصاف کا کامل نمونہ تھے۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے بجا طور پر ان کو ہیرویوں کی نرسری (nursery of heroes) کہا ہے۔

عید اضحی کے دن جانور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہی اصل قربانی نہیں ہے ۔ وہ اصل قربانی کی صرف ایک علامت ہے۔ اصل میں تو ہمیں خود اپنے آپ کو قربان جانور کی قربانی علامتی قربانی ہے ۔ وہ اس لئے کرائی جاتی ہے تا کہ لوگوں میں قربانی کی اعلیٰ روح زندہ رہے تا کہ وہ ایک عملی واقعہ کے ذریعہ اس کو یاد کرتے رہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس مقصد کی طرف انہیں کس طرح آگے بڑھنا ہے حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے جو قربانی دی، اس کی حیثیت ایک اعلیٰ مثال تاہم اس کی پیروی ہمیں اس کی اصل روح کے اعتبار سے کرنا ہے نہ کہ اس کی ظاہری شکل کے اعتبار سے ۔ اس مثال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر زمانہ میں قربانی کرنے والے لوگ اس کی ظاہری پیروی میں صحرا میں جا کر بس جائیں اور وہاں اس پرمشقت تاریخ کو دہرانا شروع کر دیں جو حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کے ساتھ قدیم عرب میں پیش آئی تھی۔ بعد کے زمانہ کے لوگوں کو اس قربانی کی اسپرٹ کو اس واقعہ کی شکل زمانی ہے۔ مگر اس کی جو اسپرٹ ہے وہ دوامی اہمیت

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے انسانیت کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے کیا کہ وہ اپنے آپ کو متمدن دنیا سے نکال کر غیر آباد صحرا میں لے گئے۔ سرسبز و شاداب عراق کو چھوڑ کر وہ عرب کے خشک بیابان میں جا بسے۔ ظاہری فرق کے ساتھ یہی قربانی اپنے دائرہ میں ہر شخص سے مطلوب ہے۔ ہر ایک کا ایک ’’ سرسبز عراق‘‘ ہے ۔

ہر ایک کو اپنے سرسبز و شاداب عراق کو چھوڑ کر ”صحرائے عرب“ میں جا کر آباد ہو جانا ہے ۔

ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آج کے حالات میں یہ ابراہیمی واقعہ کس پہلو سے مطلوب ہے و خدا ہم سے کس قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ آج کے حالات میں بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے افراد سے جو قربانی مطلوب ہے وہ اپنی شکل کے اعتبار سے خواہ جو بھی ہو، مگر اپنی روح کے اعتبار سے وہ ابراہیمی قربانی قرار پائے گی ۔ اور اس میں فنائیت کا ثبوت دینے والے کو وہی کریڈٹ ملے گا جس کو قربانی کہا جاتا ہے ۔ اب اس لحاظ سے سوچئے کہ آج کے حالات میں سنت ابراہیمی کو ادا کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے ۔ وہ کون سی قربانی ہے جو آج کے حالات میں ہم سے مطلوب ہے ۔ ابراہیم ؑ اور اسماعیل علیہما السلام نے ایک بہت مخصوص اور منفرد قسم کی قربانی پیش کی تھی ۔ یہ ایک انتہائی انداز کی قربانی تھی جیسی قربانی دوبارہ کوئی شخص پوری انسانی تاریخ میں پیش نہ کرسکا۔ اس طرح یہ تمام انسانوں کے لیے ایک ممتاز اور معیاری نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اسی طرح آئندہ تمام لوگوں کو اپنے اپنے دائرہ میں اور اپنے اپنے امکان کے بقدر قربانی پیش کرنا ہے ۔ عید اضحیٰ کا دن ہر شخص کو اسی ذمہ داری کا سبق دیتا ہے ۔

اس ایثار و قربانی کا دائرہ بے حد وسیع ہے ۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی بھی ہوسکتی ہے اور بڑی سے بڑی بھی ۔ بس میں سفر کرتے ہوئے جب آپ ایک خاتون یا ایک بوڑھے مسافر کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی سیٹ دوسرے انسان کے حوالے کر دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قربانی ہے ۔ آپ ایک ادارہ میں عہدیدار ہیں۔ آپ کے سامنے ایک زیادہ بہتر شخص آتا ہے ۔ آپ عہدہ کی کرسی اس کی خاطر چھوڑ دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قربانی ہے ۔ آپ کے اندر ایک شخص کے خلاف غصہ اور نفرت کی آگ بھڑکتی ہے ۔ اپنے غصہ اور نفرت کی آگ کو صبر و برداشت کے پانی سے بجھا دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قربانی آپ کے پاس مادی وسائل زیادہ ہیں اور آپ کے ایک بھائی کے پاس کم ۔

مادی وسائل کا ایک حصہ اپنے بھائی کو دے دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قربانی ہے۔ قربانیوں کا یہ سلسلہ پوری زندگی میں اور ہر وقت جاری رہتا ہے ۔ اس قربانی کے بغیر بہتر سماجی زندگی کی تعمیر ممکن نہیں ۔

زندگی میں کوئی بڑا کام کبھی قربانی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر بڑا کام لازمی طور پر فنائیت مانگتا ہے ۔ قوم کو اوپر اٹھانے کے لیے اپنے آپ کو پیچھے کر لینا ، ملک کی ترقی کے لیے ذاتی نقصان کو گوارا کر لینا ، انسانیت کو اونچا کرنے کے لیے اپنے جھنڈے کو نیچا کر لینا ، اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی خواہشات کو دبانا ، اصول کو قائم کرنے کی خاطر اپنی انا کو کچل دینا ، پڑوسی کو امن دینے کی خاطر اپنے آپ پر پابندی لگانا ، اس طرح کی تمام چیزیں قربانی کی حیثیت رکھتی ہیں اور یہی وہ قربانی ہے جس کی اہمیت کو بتانے کےلیے عید اضحی کا تیوہار منایا جاتا ہے ۔ از: مولانا وحید الدین خاں حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے ۔ تعالیٰ سے ملاقات ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں ۔ جب کہ حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے ۔ اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت کرنا ہے ۔

( صفحات ۱۱۳ قیمت ۳۰ روپیہ ، مختصر : صفحات ۴۸ قیمت ۵ روپیہ )

نوٹ : یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۴ جولائی ۱۹۸۹ء کو نشر کی گئی ۔

Printed page