Al-Risala · May 1990

اسلوب دعوت کا مسئلہ

Al-Risala, May 1990, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے اپنی پیغمبرانہ زندگی کے تقریباً تیرہ سال مکہ میں یہ آپ کی زندگی کا خالص دعوتی مرحلہ تھا۔ اس ابتدائی مرحلہ کی تفصیل بتاتے ہوئے ابن اسحاق کہتے ہیں :

فلما بادى رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی قوم کے قومه بالاسلام وصدع به كما امره الله سامنے اسلام کا اظہار کیا اور کھلم کھلا اس کا لم يبعد منه قومه ولم يردّوا اعلان فرمایا جیسا کہ اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا، تو عليه، حتى ذكر آلهتهم وعابها۔ فلما آپ کی قوم نے آپ سے دوری اختیار نہ کی اور فعل ذلك اعظموه وناكرونه و نہ آپ کا رد کیا۔ یہاں تک کہ آپ نے ان کے اجمعوا خلافه وعداوته معبودوں کا ذکر کیا اور ان پر عیب لگایا۔ (سيرة ابن هشام، الجزء الاول، صفحه ۲۷۰-۲۷۱) آپ نے ایسا کیا تو انھوں نے آپ کو اہمیت دی اور اس کا انکار کیا اور آپ کی مخالفت اور دشمنی پر متحد ہوگئے ۔

اس بیان میں " عیب " سے مراد وہی چیز ہے جس کو آج کل تنقید کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی ر تین سال ) تک سادہ اور غیر تنقیدی انداز میں قریش کے سامنے اپنی بات رکھی۔ اس کے بعد آپ نے تنقیدی انداز اختیار فرمایا۔ میں آپ کے مخاطبین نے کوئی برہمی ظاہر نہیں کی۔ مگر جب آپ نے ان کے معبودوں (بالفاظ دیگر، اکابر قوم ) پر تنقید کی تو وہ سخت برہم اور مشتعل ہوگئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مستقل طور پر غیر تنقیدی انداز میں کلام کرتے رہتے اور قرآن میں بھی تنقیدی آیتیں نہ اترتیں تو عرب کے لوگ وہ مخالفت اور دشمنی اختیار نہ کرتے جو انھوں نے بعد کو اختیار کی۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کی تمام مصلحتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے تنقیدی اسلوب پر قائم رہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر تنقیدی نوعیت کا روحانی اور اخلاقی انداز ذاتی مقبولیت یا عوامی بھیڑ جمع کرنے کے لیے تو بہت کارآمد ہے ، مگر وہ اصل مقصد کے لیے کار آمد نہیں ۔ غیر تنقیدی انداز لوگوں کو سننے میں بہت اچھا لگتا ہے ، مگر وہ ذہنوں میں ہلچل پیدا نہیں کرتا ۔ اس سے وہ فکری انقلاب نہیں آتا ، جب کہ آدمی کی سوچنے کی صلاحیت جاگتی ہے ۔ اس پر ایک چیز کا غلط ہونا منکشّف ہوتا ہے اور دوسری چیز کے صحیح ہونے کو وہ شعوری طور پر دریافت کرتا ہے ۔ اسلام کو وہ افراد مطلوب ہیں جو انقلابی (کرانتی کاری) ذہن رکھتے ہوں ، اور تنقیدی اندازِ دعوت کے بغیر ایسے افراد کا بننا ہرگز ممکن نہیں ۔

غیر تنقیدی اسلوب غیر فطری اسلوب ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح بھی صحیح ہے اور غلط بھی صحیح ۔ یہی وجہ ہے کہ جو تحریک غیر تنقیدی انداز میں چلائی جائے ، اس سے مصنوعی شخصیت پیدا ہوتی ہے ، اس کے ذریعہ کبھی مطلوب اسلامی شخصیت پیدا نہیں کی جا سکتی ۔ رات کے وقت تالاب میں شبنم گرتی ہے ۔ مگر اس سے تالاب کے پانی میں کوئی تموج پیدا نہیں ہوتا ۔ لیکن اسی تالاب میں ایک بڑا پتھر پھینک دیجیے تو اس سے ٹھہرے ہوئے پانی میں زبردست تموج پیدا ہو جائے گا ۔ اس مثال سے تنقیدی اور غیر تنقیدی اسلوب کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ غیر تنقیدی اسلوب شبنم کی مانند ہے ۔ اس سے آدمی کو ایک روحانی سکون تو ملتا ہے مگر اس سے اس کے سینہ میں اضطراب پیدا نہیں ہوتا ۔

مگر یہ مطلوب اسلامی شخصیت نہیں ۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے (الایمان بین الرجاء والخوف) مومن کو ایک طرف امید ہوتی ہے کہ خدا رحیم و کریم ہے ، وہ اس کو بخش دے گا ۔ دوسری طرف اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ خدا عادل ہے ، وہ اس سے حساب لے گا ، اور جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوا (من نوقش فقد ھلک) اس بنا پر مومن ہمیشہ "فقط فقط" کے درمیان ہوتا ہے ۔ یہ چیز اس کو ایک پر اضطراب شخصیت بنا دیتی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اصحاب رسول ہمیشہ اضطراب کی نفسیات میں رہتے تھے ۔ ان میں سے کوئی شخص بھی پر سکون شخصیت کا حامل نہ تھا ۔ ایمان موجودہ دنیا میں درد ہے اور آخرت میں راحت ۔

Printed page