Al-Risala · May 1990

پیغمبر کا فیصلہ

Al-Risala, May 1990, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

بخاری اور مسلم نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان آپ نے خطبہ دیا اور ہر وہ بات بیان کی جو آپ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک ہونے والی تھی (مشکاۃ المصابیح ، الجزء الثالث ، صفحہ ۱۴۸۰) حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں موجود ہیں جن میں مستقبل کی باتیں نقل کی گئی ہیں۔ انہیں میں سے ایک بات وہ ہے جو ابو داؤد نے ان الفاظ میں روایت کیا

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يُوشِكَ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا نے فرمایا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ قومیں تَدَاعَى الْأَكْلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا - فقال قائل: تمہارے اوپر ٹوٹ پڑیں جس طرح کھانے والے مِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ - قال بل أنتم يومئذ کھانے کے پیالے پر ٹوٹتے ہیں۔ ایک شخص نے كثير - ولكنكم غثاء كغثاء السيل و کہا، کیا اس لیے کہ اس وقت ہم لوگ کم تعداد لينزعن الله من صدور عدوكم المهابة میں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ منكم وليقذفن في قلوبكم الوهن - قال وقت تم لوگ بہت زیادہ ہوگے ۔ قائل وما الوهن يا رسول الله - قال لوگ سیلاب کے جھاگ کی مانند ہوگے ، اللہ حب الدنيا وكراهية الموت - تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہاری ہیبت (جامع الاصول ، ۱۰ / ۷۸) نکال دے گا۔ اور تمہارے دلوں میں کمزوری پیدا کر دے گا۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول ، کمزوری کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت ، اور موت کو ناپسند کرنا ۔

اس حدیث کے الفاظ پر غور کیجئے اور امت مسلمہ کے موجودہ حالات کو دیکھئے۔ ہوگا کہ آج امت پر عین وہی زمانہ آگیا ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۴ سو سال پہلے

پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ موجودہ مسلمان ، خواہ وہ اقلیتی ملک میں ہوں یا اکثریتی ملک میں، ہر جگہ وہ دوسری قوموں کے استحصال اور زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ساری دنیا میں ایک ارب کی غیر معمولی تعداد میں ہونے کے باوجود وہ حقیر اور مظلوم بنے ہوئے ہیں ۔ اب دیکھیے کہ رسول اللہ صلّی اللہ عل وسلّم نے اس آنے والے دور کے بارہ میں جو ارشاد فرمایا ہے وہ کیا ہے ۔ اس حدیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں دنیا کی قومیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں گی اور ان کو اپنے ظلم اور استحصال کا نشانہ بنائیں گی ۔ مگر اس خارجی مسئلہ کا سبب تمام تر داخلی مسئلہ بتایا گیا ہے ۔ اس میں کھلے لفظوں میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ ناموافق صورت حال اس لیے پیش آئے گی کہ مسلمان دنیا کی طلب میں پھنس جائیں گے اور اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ دینی مقصد کے لیے قربانی کرنے کا جذبہ ان کے اندر باقی نہیں رہے گا۔ گویا یہ مسئلہ باہر سے پیدا ہوگا مگر اس کا سبب خود مسلمانوں کے اپنے اندر ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ان الفاظ کو دیکھیے جو ان کے تمام اصاغر و اکابر لکھنے اور بولنے میں مصروف ہیں۔ یہ سب کے سب بلا استثناء ایک ہی بولی بول رہے ہیں ۔ اور وہ ہے ـــــــــ اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دے کر ان کے خلاف لا متناہی چیخ پکار جاری رکھنا ۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان عربی ، اردو ، فارسی اور انگریزی میں اس معاملہ میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سب کا سب الفاظ کے فرق کے ساتھ ایک ہی ہے، اور وہ دوسری قوموں کی مذمت ہے ۔ ان میں سے کوئی موامرہ کا لفظ بولتا ہے اور کوئی سازش کا اور کوئی'(conspiracy)' کا۔ مگر سب کے کلام کا خلاصہ صرف ایک ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ دوسری قومیں ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہیں ۔ دوسری قومیں ہمارے اوپر ظلم کر رہی ہیں ۔ دوسروں نے ہمیں تباہی اور مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے ۔

مسلمان اگر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نصیحت پر دھیان دیتے تو وہ اپنی ساری کوشش اپنی اندرونی کمیوں کو دور کرنے پر لگا دیتے۔ مگر وہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نصیحت کو مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ ان کا ہر چھوٹا اور بڑا ، اور ان کا ہر لکھنے اور بولنے والا

غیر قوموں کی سازشوں کا انکشاف کرنے میں مشغول ہے ۔ وہ دوسروں کے ظلم پر احتجاج کرنے میں اپنے تمام الفاظ خرچ کر دینا چاہتا ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے یہی روگر دانی موجودہ مسلمانوں کی تمام بربادیوں کا اصل سبب ہے ۔ مسئلہ کے اصل سبب کو دور کرنے کے لیے وہ کوئی محنت نہیں کرتے ۔ اس کے برعکس ایک فرضی چیز کو سبب قرار دے کر اس کے اوپر اپنی ساری توانائیاں خرچ کر رہے ہیں ۔ ایسی ہر کوشش لغویت کی حد تک بے معنی ہے ۔ اس کا ہرگز کوئی نتیجہ نکلنے والا خواہ مسلمان پچاس ہزار سال تک اس کی چٹان پر اپنا سر پٹکتے رہیں ۔ علم طب اگر کسی بیماری کے بارہ میں یہ بتائے کہ اس کا سبب انسان کے جسم کے اندر ہے تو کوئی آدمی یہ نادانی نہیں کرے گا کہ وہ اس قسم کے مرض کے علاج کے لیے بیرونی مرہم تلاش کرنے لگے ۔ مشین کام نہ کر رہی ہو، اور انجینئر اس کو دیکھ کر کہے کہ اس کا سبب اس کے اندرونی پرزہ کی خرابی ہے ، تو کوئی آدمی مشین کے باہر پالش کر کے اس کو چلانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔ مگر مسلمانوں کے مسئلہ کے بارہ میں ان کے پیغمبر کا کھلا ہوا فیصلہ ہے کہ ان کے مسئلہ کا سبب ان کا داخلی نقص ہے نہ کہ بیرونی سازش ، اس کے باوجود مسلمانوں کے تمام رہنما بیرونی سازشوں کا انکشاف کر رہے ہیں اور ان کے خلاف چیخ پکار کرنے میں مشغول ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کو پیغمبر کی رہنمائی پر اتنا یقین بھی نہیں ہے جتنا ایک مریض کو اپنے ڈاکٹر پر اور ایک مشین والے کو اپنے انجینئرپر ہوتا ہے ۔

نمبر ۱ ایمان نمبر ۵ تعمیر ملت نمبر ۲ اسلامی دعوت کے جدید امکانات نمبر ۶ سنت رسول نمبر ۳ اسلامی اخلاق نمبر ۷ میدانِ عمل نمبر ۴ اتحاد نمبر ۸ پیغمبرانہ رہنمائی (زیر تیاری)

Printed page