فی کیسٹ ۲۵ روپیہ
Al-Risala, May 1990, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
مارکسی اشتراکیت کے بارے میں راقم الحروف نے ۱۹۵۸ میں ایک کتاب لکھی تھی۔ یہ کتاب پہلی بار اپریل ۱۹۵۹ میں شائع ہوئی ۔ اس کا نام تھا : مارکسزم ، تاریخ جس کو رد کر چکی ہے۔ یہ ٹائٹل اس وقت بڑا عجیب تھا۔ چنانچہ نہ صرف اشتراکی حضرات نے بلکہ اسلام پسند حضرات میں بھی بہت سے لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ ان کا خیال تھا کہ مارکسزم تو ایک زندہ حقیقت ہے ایسی حالت میں اس کے رد ہونے کا کیا سوال۔ مگر آج کتاب کا یہ نام ایک ایسا واقعہ بن چکا ہے جس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ حتیٰ کہ خود سوویت روس کے لوگوں کو بھی نہیں۔ نظری اور عملی دونوں اعتبار سے ایک ختم شدہ نظام بن چکا ہے۔
ٹائم امریکہ کا مشہور ہفت روزہ میگزین ہے۔ وہ ہر سال کسی ممتاز آدمی کو سال کی شخصیت قرار دیتا ہے اور اس کے بارے میں خصوصی مضامین شائع کرتا ہے ۔ پہلی بار (Man of the year) ۱۹۲۷ میں اس نے چارلس لنڈ برگ (Charles Lindberg) کو اس مقصد کے لئے چنا تھا۔ میں اس نے مہاتما گاندھی کو سال کی شخصیت قرار دیا۔ ٹائم کا شمارہ یکم جنوری ۱۹۹۰ اس سلسلہ میں ایک غیر معمولی شمارہ ہے۔ اس میں روس کے صدر مسٹر میخائل گورباچیف کو دہے کی شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ (Man of the decade)
اشتراکی روس کے حکمران کو یہ غیر معمولی اعزاز دینے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے اشتراکیت کے قلعہ میں کوئی اضافہ کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اشتراکیت کا قلعہ توڑ دیا۔ آج ساری دنیا کے اخبارات میں ایسے مضامین چھپ رہے ہیں جن کی سرخی اس قسم کی ہوتی ہے:
Marxism is over. Fragmented empire of the U.S.S.R. ہندوستان ٹائمز (یکم جنوری ۱۹۹۰) نے کمیونسٹ دنیا میں تبدیلی اور مارکسی فکر کے انہدام پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے ساتھ ایک با معنی کارٹون شامل کیا ہے۔ اس کارٹون میں اشتراکیت کے بانی کارل مارکس کی قبر دکھائی گئی ہے۔ قبر کے پتھر پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: Marx -- Finally Buried 1989 قرآن میں ہے کہ اللہ اپنے امر پر غالب آکر رہتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے (یوسف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اشتراکی دنیا میں جو انقلابی تبدیلیاں ہوئی ہیں، وہ اللہ کے اسی قانون کے نتیجہ میں ہوئی ہیں۔
مارکسی اشتراکیت خدا اور مذہب کی نفی تھی۔ اس نے مذہب کو بے حقیقت بتا کر اس کومکمل طور پر رد کر دیا۔ کارل مارکس کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: