نئے دور کا آغاز
Al-Risala, January 1990, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی کے ایک مسلم ہفت روزہ نے اپنی اشاعت ۱- ۷ اکتوبر ۱۹۸۹ کے صفحہ اول کے مضمون میں لکھا ہے کہ بابری مسجد کے اغوا کو لے کر آر ایس ایس، بھارتیہ جنتا پارٹی، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا مسلسل طور پر مسلمانوں کو مشتعل کرنے والی باتیں کر رہی ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ مسلمان بھڑک کر تشدد کارروائی کریں تاکہ انہیں مسلمانوں کے خلاف فساد کرنے کا موقع ملے۔ مگر مسلمان صبر سے کام لے رہے ہیں۔ وہ اس سے انکار کر رہے ہیں کہ ان کی اشتعال انگیز باتوں سے وہ مشتعل ہو جائیں، جیسا کہ انہیں کرنا چاہیے : Muslims are refusing to be provoked, as they should. آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ مسلمان بڑے پیمانہ پر صابرانہ پالیسی کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہیں ہو رہے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی بالکل پہلی بار پیش آ رہا ہے کہ کسی مسلم اخبار کو مسلمانوں کے بارہ میں مذکورہ بالا الفاظ لکھنے کے لیے ملیں۔ ورنہ ۱۹۴۷ کے بعد سے مسلسل اس سے مختلف ذہن ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ مسلمانوں کے تمام رہنما اور دانشور صرف ایک بات بولنا اور لکھنا جانتے تھے۔ وہ یہ کہ مسلمان جب کسی بات پر مشتعل ہوں تو وہ ان کے مشتعل ہونے کو فطری ردعمل قرار دے کر اس کی توجیہہ کریں۔ مثلاً اسی مذکورہ انگریزی اخبار نے اپنی اشاعت ۹ جون ۱۹۸۴ میں بھیونڈی اور بمبئی کے علاقہ میں مسلمانوں کے ردعمل کا ذکر کیا تھا جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ فساد اس وقت مسلمانوں کے ردعمل کو جائز قرار دیتے ہوئے اخبار مذکور نے لکھا تھا کہ ــــــ مگر ایک شخص کو یہ کہنے سے باز نہیں رکھا جاسکتا کہ اس سلسلہ میں ابتدائی اشتعال شیو سینا کے لیڈر کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا :
But one need not strain one's commonsense to conclude that the initial provocation had come from the Shiva Sena chief. حقیقت یہ ہے کہ چالیس سال سے تمام رہنماؤں اور دانشوروں کو ایک ہی بولی معلوم تھی۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کا ردعمل فطری ہے، کیونکہ وہ فریق ثانی کی طرف سے اشتعال انگیزی کے بعد سامنے آیا ہے : اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا “ ایک ایسا تصور ہے جو لیڈروں اور دانشوروں کی پوری جماعت کے لیے
یکسر لامعلوم تھا۔ اسی بنا پر وہ عام مسلمانوں کے لیے بھی لامعلوم بنا ہوا تھا۔ کیونکہ یہ انہیں بتایا ہی نہیں
الرساله نے پچھلے تقریباً پندرہ سال کے اندر اس نئے تصور کو اتنی طاقت کے ساتھ پھیلایا کہ آج وہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کا پسندیدہ فکر بن گیا۔ اس کا عملی ظہور اس طرح شروع ہو چکا ہے کہ ۱۹۸۹ء میں انتہائی گرم ماحول کے باوجود مقابلہ بہت ہی کم فسادات ہوئے۔ رپورٹر میں بتا رہی ہیں کہ جگہ جگہ مسلمان صبر اور اعراض کی پالیسی کو اختیار کر کے فساد کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے کچھ سطحی لیڈر اگر چہ اب بھی ردِ عمل کی آگ بھڑکانے میں مشغول ہیں، مگر اللہ تعالیٰ الرساله کے ذریعہ اس آگ کو مسلسل بجھا رہا ہے (المائدہ ۶۴) الرساله مشن کی پیدا کردہ اسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہمارے اخباروں کو پر فخر طور پر وہ الفاظ لکھنے کو مل رہے ہیں جس کی ایک مثال اوپر نقل کی گئی۔ یہ اخبارات اگر دیانت دار ہوں تو ان کے لیے زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ اپنے مضامین میں اس طرح کے الفاظ لکھیں کہ ۔ ہم نے تو مسلمانوں کو ردِ عمل کی آگ میں جھونکنے کی پوری کوشش کی تھی ، مگر یہ الرساله کا کارنامہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کو جوابی اشتعال سے بچا لیا اور وہ فساد کی بھیانک آگ میں جلنے سے محفوظ رہے۔
بابری مسجد تحریک ہندوستان میں جذباتی اندازِ کار کا خاتمہ اور حقیقت پسندانہ اندازِ کار کا آغاز اس تحریک نے ایک طرف نام نہاد مسلم قیادت کو ہمیشہ کے لیے پیچھے دھکیل دیا۔ اور دوسری طرف اس قیادت کے کھنڈر سے الرساله مشن کو نئی طاقت کے ساتھ اٹھا کر کھڑا کر دیا۔ ایجنسی ایک پروگرام اگر آپ الرسالہ کو پسند کرتے ہیں تو الرساله کی ایجنسی لیجئے۔ کی ایجنسی لینا اپنی پسند کو ایک متحرک مشن بنا دینا ہے۔