Al-Risala · May 1990

ایک واقعہ

Al-Risala, May 1990, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

مدراس میں ۷۰ ویلج روڈ پر ایک مسجد بنائی گئی ہے۔ یہ مسجد مسلم ویلفیر ایسوسی ایشن کے زیر انتظام اس مسجد پر اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر لگایا گیا تو علاقہ کے کچھ ہندوؤں کو اس پر اعتراض ہوا۔ نے پولیس سے شکایت کی کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان سے ہمارے گھروں اور ہمارے مندروں کے سکون

میں خلل واقع ہوتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو لاوڈ اسپیکر پر اذان دینے سے روکا جائے۔ مگر مدر اس پولیس نے اس شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

اس کے بعد ایک مقامی ہندو نے مدراس ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کیا۔ اور عدالت سے درخواست کی کہ لاوڈ اسپیکر کی اذان مقامی ہندوؤں کے لیے تکلیف (Nuisance) کا باعث ہے، اس لیے اس کو بند کرنے کا حکم جاری کیا جائے ۔

جسٹس بکٹھاوت سولم۔ نے دونوں فریقوں کے بیانات سننے کے بعد ۱۲ جولائی ۱۹۸۹ کو اپنا انھوں نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں عدالت کو مداخلت کرنی چاہیے ۔ مدعی کے دلائل میری نظر میں تشفی بخش نہیں ہیں ۔ ایک جمہوری ملک میں ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرے ۔ اس طرح کے معاملات میں ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر تحمل اور روا داری (Tolerance) ہو، خاص طور پر ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب پر عمل کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ اس بنا پر میں نہیں سمجھتا کہ مدعی کی درخواست قابل لحاظ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال عین قانون کے مطابق ہے ۔ اظہار خیال کے ساتھ مدعی کی درخواست خارج کی جاتی ہے :

With these observations, the writ petition will stand dismissed. مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ مکمل اور اصلی صورت میں الرسالة انگریزی (دسمبر ۱۹۸۹) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں اگر کچھ لوگ متعصب اور فرقہ پرست ہیں تو یہاں ان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ہیں جو بے تعصب اور انصاف پسند ہیں ۔ مزید یہ کہ یہ دوسرے لوگ اس حد تک طاقت ور ہیں کہ وہ پہلے گروہ کے ارادے کو علی میں آنے سے روک دیں ۔ اب اس واقعہ پر ایک اور انداز سے غور کیجیے ۔ فرض کیجیے کہ مدراس کی مذکورہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر جب ہندوؤں نے اعتراض کیا تو وہاں کے مسلمان بگڑ جاتے۔ وہ اس کے مقابلہ میں جلسہ اور ایجی ٹیشن کی سیاست چلاتے ۔ وہ ہندوؤں سے ٹکراؤ کرتے ، تو اس کا نتیجہ ہندوؤں کی ضد بڑھتی ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ لڑائی چھڑ جاتی ۔ وہی واقعات پیش آتے جو شمالی ہند میں اسی قسم کے مسائل پر پیش آتے رہتے ہیں ۔

فرقوں کے درمیان فساد، اور پھر مسلمانوں کا یک طرفہ طور پر مارا جانا۔ اور ان سب کے باوجود اصل مسئلے کا اپنی جگہ بدستور باقی رہنا۔

ہائی کورٹ کے جج امکانی طور پر منتظر تھے کہ مسلمان ان کی عدالت میں اپنے مقدمہ کی پیروی کریں اور وہ عین مسلمانوں کے حق میں قانونی فیصلہ دے دیں۔ مگر مسلمانوں کی غیر حکیمانہ روش کے نتیجہ میں یہ ہوتا کہ تمام جج گویا انتظار میں پڑے رہتے اور مسلمان غیر ضروری طور پر مارے جاتے۔ جائدادیں جلائی جاتیں۔ لاؤڈ اسپیکر کو بچانے کے نام پر پوری مسجد ویران کر دی جاتی۔ یہ امکان اپنی پوری موجودگی کے باوجود، مسلمانوں کے حق میں واقعہ نہ بن سکتا۔ اس دنیا میں کوئی امکان اپنے آپ کسی کے حصہ میں نہیں آتا۔ یہاں ہر امکان کو استعمال کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی وہ کسی کے لئے واقعہ بنتا ہے۔

مدر اس کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کامیابی کا عظیم امکان موجود ہے، مگر مسلمان اب تک اس امکان کو استعمال نہ کر سکے، اس لئے ان کے مسائل بھی اب تک حل نہیں اس معاملہ میں مسلمانوں کے موجودہ رہنماؤں نے مجرمانہ حد تک غفلت کا ثبوت دیا ہے۔ مسجد کے معاملہ کو عدالت کے ذریعہ طے کرنا گویا کھیِر کو اپنے موافق برتن میں رکھنا تھا۔ اس کے برعکس مسجد کا مسئلہ اگر عوامی مظاہرہ کا موضوع بنایا جاتا تو یہ کھیِر کو ایسے برتن میں رکھنا ہوتا جو مسلمانوں کے لئے غیر موافق تھا۔ پہلی صورت میں کھیِر پوری طرح مسلمانوں کے حصہ میں آئی۔ جب کہ دوسری صورت میں کھیِر تمام تر دوسرے کے حصہ میں چلی جاتی۔

اب ایک اور مثال لیجئے ۔ یہ مثال وہ ہے جس کو مسلمانوں کے موجودہ مسائل میں نمبر ایک درجہ دیا جاتا ہے۔ یہ اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ ہے۔

Printed page