Al-Risala · May 1990

بابری مسجد کا مسئلہ

Al-Risala, May 1990, pp. 31–34

By Maulana Wahiduddin Khan

بابری مسجد اجودھیا) کا مسئلہ اگرچہ ملک کے بٹوارہ کے پہلے سے موجود ہے۔ تاہم اپنی موجودہ صورت میں اس کا آغاز فروری ۱۹۸۶ میں ہوتا ہے جب کہ فیض آباد ڈسٹرکٹ جج کے حکم سے اس کا تالا کھول دیا گیا اور ہندوؤں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ مسجد کے اندر اپنی مورتیاں رکھ دیں۔ اس کے بعد مسلمانوں (صحیح تر لفظ میں مسلمانوں کے نام نہاد لیڈروں ) نے کیا کیا۔ ان کے لئے عین وہی

امکان موجود تھا جس کی ایک مثال مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کی صورت میں اوپر بتائی گئی ہے۔ لیڈروں نے اس امکان کو استعمال نہ کرتے ہوئے عین اس کے برعکس عمل کیا۔ مارچ ۱۹۸۶ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی گئی۔ اس نے فوراً ہی ایجی ٹیشن کے انداز میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جلسے کر کے جو شیلی تقریریں کی گئیں اور جلوس کے مظاہرے سڑکوں پر کئے جانے لگے۔ ۲۶ جنوری ۱۹۸۷ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ مارچ ۱۹۸۷ میں تین لاکھ مسلمانوں کی ریلی دہلی میں نکالی گئی جس میں نعروں اور تقریروں کا ہنگامہ گرم کیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ اگست اور اکتوبر ۱۹۸۸ء میں لاکھوں مسلمان مارچ کرتے ہوئے اجودھیا میں داخل ہوں گے اور بابری مسجد میں گھس کر جمعہ کی نماز نشور وغل کی اس سیاست سے بابری مسجد تو مسلمانوں کو نہیں ملی۔ البتہ فرقہ پرست ہندو یوپی ، بہار ، مدھیہ پردیش ، گجرات وغیرہ میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں مسلمان ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے۔ اربوں روپے کی جائدادیں برباد کر دی گئیں۔

جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، عین اس وقت اس مسئلہ کے حل کے لئے ایک انتہائی شاندار امکان مسلمانوں کے لئے اس ملک میں موجود تھا۔ مگر مسلم لیڈر اپنی ناقابل فہم بے خبری کی بنا پر نہ اس سے آگاہ ہوئے اور نہ اس امکان کو استعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ تدبیر کر سکے۔

یہاں میں ایک خصوصی میٹنگ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا تفصیلی تذکرہ الرسالہ جولائی ۱۹۸۸ میں چھپ چکا ہے۔ یہ میٹنگ نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں ۲۷ مارچ ۱۹۸۸ کو ہوئی ۔ کا مقصد بابری مسجد (اجودھیا) کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا۔ اس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ذمہ دار حضرات شریک ہوئے۔ مسلمانوں کی طرف سے جن لوگوں نے میٹنگ میں شرکت کی ، ان میں سے ایک میں ہندو وسائڈ میں مہنت اوید ناتھ (صدر رام جنم بھومی مکتی یگئے سمتی)، آچاریہ دینی سوشیل کمار، سبھجے ڈاملیا اور دوسرے بہت سے ذمہ دار حضرات شریک تھے۔

جب تمام لوگ بول چکے تو میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ ضروری پہلوؤں پر اظہار خیال کے بعد میں نے کہا کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے سب سے زیادہ بہتر طریقہ ثالثی کا اصول ہے۔ اگر دونوں فریق ثالثی کے اصول کو مان لیں تو میری تجویز ہے کہ مسئلہ تاریخ دانوں (تاریخ کے پروفیسروں) کا ایک بورڈ دونوں طرف کے ذمہ دار لوگ اس بات کا پیشگی عہد کریں کہ تاریخ دانوں کا بورڈ جو فیصلہ

اس کو وہ بلا بحث مان لیں گے اور فورا اس کی تعمیل کریں گے۔

ہندولینڈ کے تمام لوگ، بشمول مہنت اوید ناتھ (موجودہ ایم پی) نے اس تجویز سے مکمل ہر ایک نے کہا کہ ہم اس تجویز کو مانتے ہیں۔ اس کو باقاعدہ صورت دی جائے اور اس کے مطابق بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی قضیہ کا فیصلہ کیا جائے۔ مگر مسلم سائیڈ نے اس تجویز کو منظور نہیں ہونے سید شہاب الدین صاحب تقریبا چیخنے کے انداز میں بولنے لگے کہ ہم کو یہ تجویز منظور نہیں۔ سائیڈ کے دوسرے تمام افراد نے خاموش رہ کر سید شہاب الدین کی بالواسطہ تائید کی۔ ان خاموش رہنے والوں میں جماعت اسلامی کے نمائندہ جناب افضل حسین صاحب (وفات یکم جنوری ۱۹۹۰) بھی شامل اس طرح ہندو سائیڈ کی متفقہ تائید کے باوجود یہ میٹنگ شور و غل پر ختم ہو گئی۔ اب غور کیجئے کہ ۲۷۷ مارچ ۱۹۸۷ کی اس تجویز کو اگر مسلم رہنماؤں نے مان لیا ہوتا تو کیا ہوتا۔ اس کا اندازہ نہایت آسانی سے ان خطوط اور مضامین اور بیانات کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے جو اس موضوع پر ہندوؤں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی طرف سے برابر شائع کئے جاتے رہے ہیں۔ ۸۹ - ۱۹۸۷ کے درمیان اس قسم کی تحریریں کثرت سے شائع ہوئی ہیں جن کو عام مسلمان بھی قومی آواز، تعمیرحیات نقیب ، دعوت ، نئی دنیا ، اخبار نو وغیرہ کی فائلوں میں دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں میں صرف دو حوالوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ دوحوالے بطور حصر نہیں بلکہ صرف بطور انہیں پر دوسروں کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ایک بڑا تاریخی ادارہ ہے جس کو سنٹر فارہسٹا ریکل اسٹڈیز کہا جاتا ہے۔ اس ادارہ کے ۲۴ پروفیسروں نے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مسئلہ کا مطالعہ خالص تاریخی انداز میں کیا اور اس پر ایک مفصل دستاویز تیار کی۔ یہ دستاویز ان کی طرف سے مشترکہ طور پر شائع کی گئی۔ اس دستاویز کا خلاصہ ٹائمس آف انڈیا (۴ نومبر ۱۹۸۹) میں دیکھا جا سکتا اس دستاویز کا اردو ترجمہ قومی آواز (۲ جنوری ۱۹۹۰) میں شائع ہوا ہے۔ اس تاریخی دستاویز پر جن لوگوں کے دستخط ہیں ان میں پروفیسر ایس گوپال ، پروفیسر رومیلاتھاپرا پروفیسرپن چندر جیسے ممتاز مورخین کے نام بھی شامل ہیں۔ اس مشترکہ تاریخی دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بابری مسجد تو ایک تاریخی واقعہ ہے، مگر رام جنم بھومی کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں۔

فرضی کہانی ہے جو زیادہ تر والمیکی کی افسانوی نظم (را مائن پر مبنی ہے۔ اس کا معلوم تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ۔

ان تاریخی پروفیسروں کے پیش کئے ہوئے حقائق اتنے قطعی تھے کہ خود ہندوؤں میں بھی کوئی اس کو علمی طور پر رد نہ کر سکا۔ مثلاً مسٹر کے آر ملکانی (ٹائمس آف انڈیا۵ جنوری ۱۹۹۰ ) نے بالواسطہ طور پر اقرار کر لیا کہ رام جنم بھومی کا قصہ ابتدائی دور کا افسانہ (primitive myth) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مذہبی معاملہ ہے ، اس لئے اس کو پیشہ ور تاریخ دانوں کے ذریعہ طے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے جواب میں ایک نہایت ممتاز دانشور ملک راج آنند (بمبئی ) نے نہایت سخت تر دیدی خط لکھا جو ٹائمس آف انڈیا (۵ فروری ۱۹۹۰ ) میں چھپا ہے۔

دوسرا حوالہ جو میں اس سلسلہ میں دینا چاہتا ہوں ، وہ ایک واقعہ ہے جو مختلف اخباروں ، مثلاً اسٹیٹسمین ۶ جنوری ۱۹۹۰ ) میں چھپا ہے۔ بعض اردو اخباروں میں بھی اس کی رو داد آئی ہے، مثلاً نئی دنیا (۲۲ جنوری ۱۹۹۰ ) اسٹیٹسمین کی رپورٹ کی نقل الگ صفحہ پر شائع کی جارہی ہے۔ ہندوستانی مورخوں کی ایک قدیم اور نہایت اہم تنظیم ہے جس کا نام انڈین ہسٹری کانگریس ہے۔ اس کے اجلاس ہر سال ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے ہیں ۔ ۱۹۸۹ اس تاریخی انجمن کی گولڈن جوبلی کا سال تھا۔ اس کے تحت ۳۰ دسمبر ۱۹۸۹ - یکم جنوری ۱۹۹۰ کو اس کا اجلاس گورکھپور میں ہوا۔ کے فرائض گورکھپور یونیورسٹی نے انجام دئے۔ اس کانگریس میں ملک کے مختلف حصوں سے ۳۰۰ سے زیادہ ڈیلی گیٹ شریک ہوئے ۔ یہ لوگ ملک بھر کی سو سے زیادہ یونیورسٹیوں کے شعبۂ تا ریخ سے تعلق رکھتے

۱۹۸۶ میں جب بابری مسجد - رام جنم اجودھیا) کے مسئلے نے شدت اختیار کی تو اس وقت انڈین ہسٹری کانگریس نے اپنے اجلاس (۱۹۸۶) میں متفقہ طور پر ایک رزولیوشن منظور کیا تھا۔ انڈین ہسٹری کانگریس کی رپورٹ ۱۹۸۶ (صفحہ ۱۸۷) میں چھپا ہوا موجود ہے۔ اس رزولیوشن میں اجلاس میں شریک ہونے والے تمام تاریخ دانوں نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ:

" انڈین ہسٹری کانگریس ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور انتشار پسندی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ اس رجحان کی ایک تشویشناک مثال کسی فرقہ کی صدیوں پرانی عبادت گاہوں کو اس

Printed page