ذہنی سفر
Al-Risala, May 1990, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
سید شفیع الدین صاحب ایک اعلی تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ الرسالہ اردو ، انگریزی دونوں کے مستقل قاری ہیں ۔ وہ جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ایک حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس حلقہ کے لوگوں نے جب الرسالہ کو پڑھنا شروع کیا تو یہ مطالعہ ان کے لیے ایک قسم کا ذہنی سفر بن گیا ۔ اس سفر میں طرح طرح کے مراحل آئے ۔ وہ مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آخر کار مکمل اتفاق تک پہو نچ گیے ۔ سید شفیع الدین صاحب انگریزی کے شاعر بھی ہیں ۔ انھوں نے اپنے اور دوسرے لوگوں کے مذکورہ ذہنی سفر کو ایک نظم میں نہایت خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سفر کی یہ رو داد صرف ایک خاص حلقہ کی نہیں بلکہ بہت سے قارئین الرسالہ کی روداد بھی ہے۔ ان کی یہ نظم نیچے نقل کی جاتی ہے اور مقابل کے صفحہ پر اس کا اردو ترجمہ درج ہے ۔ Stages: Impact of 'Al-Risala' I am furious and agitated Restlessly coiling, I hiss and flash ... You have struck hard At my raised hood of false pride!
I am confused and disillusioned At my own battered and vulnerable r
مراحل : الرسالہ کی تاثیر میں غضب ناک ہوں اور مشتعل ہورہا ہوں بے چینی کے ساتھ بل کھاتا ہوں ، میں پھنکارتا ہوں اور بھڑک اٹھتا ہوں تم نے بڑی سخت ضرب لگائی ہے میری جھوٹے فخر کی ابھری ہوئی کلاہ پر میرا ذہن منتشر ہے ، میں فریب سے باہر آنے کی کوشش کرتا ہوں اپنی مسمار شدہ اور کمزور حالت سے تم نے اڑا دیا ہے میرے دھواں آلود طمع اور میرے غلط تصورات کے برج کو میں اپنی لامتناہی بھول بھلیاں میں کھو گیا ہوں تاریک اور بھیانک مایوسانہ طور پر باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہوں تم نے میرے رہنما کی کیس بے نقاب کردی ہے آہستہ آہستہ، بہت آہستہ آہستہ تقریباً بے خبری میں، نہ جانتے ہوئے مرحله به مرحله سچائی کی صبح اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے میرا غصہ جانے لگتا ہے میرا ذہن صاف ہونا شروع ہوتا ہے اور میں صحیح رخ پر چل پڑتا ہوں امید کی ایک کرن پھوٹتی ہے گرجتے ہوئے تاریک بادلوں سے