Al-Risala · January 1990

عبرت ناک حادثہ

Al-Risala, January 1990, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کا ایک سیدھا راستہ ہے ، اور کچھ ٹیڑھے راستے بھی ہیں ۔ سیدھے راستہ پر چلنے والا بحفاظت اللہ تک پہنچتا ہے ، اور جو لوگ ٹیڑھے راستوں پر چلیں وہ آخر کار برباد ہو کر رہ جاتے ہیں (انخل ۹) دنیا میں بار بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اس معاملہ کو تمثیل کے روپ میں بتاتے ہیں ۔ جو آدمی کو اس سنگین حقیقت کی یاد دلاتے ہیں ۔ یہاں ایسا ہی ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے ۔

انڈیا ٹوڈے (۱۵ اکتوبر ۱۹۸۹) میں ایک ہوائی حادثہ کی با تصویر تفصیلات چھپی ہیں ۔ اس کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ پر مبنی ہیں جو اس سلسلہ میں جسٹس اے کے ماسٹر کی سربراہی میں حکومت کی طرف سے مقرر کی گئی تھی ۔

۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸ کو انڈین ایرلائنز کا ایک جہاز (فلائٹ ۱۱۳) بمبئی سے احمد آباد کے روانگی سے ۳۰ منٹ پہلے فلائٹ ڈسپیچ آفیسر اے کے بنرجی نے جہاز کے پائلٹ کو ایک ٹائپ کی ہوئی شیٹ دی۔ پائلٹ کا نام مسٹر دلایا تھا۔ یہ معمول کی شیٹ تھی جس کو ایرپورٹ کی اصطلاح میں نوٹم (Notam) کہا جاتا ہے۔ یعنی ہوائی عملہ کے لیے ضروری اطلاع

(Notice to airmen) اس شیٹ میں درج تھا کہ احمد آباد ائیرپورٹ کی رہنماء روشنیاں اور لینڈنگ کے مددگار آلات ناکارہ (Non-functional) حالت میں ہیں۔ مگر آخری لمحات میں پائلٹ اور کو پائلٹ کے درمیان گفتگ و کا جو ریکارڈ ”بلیک باکس“ کے ذریعہ ملا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پائلٹ نے مذکورہ معلوماتی شیٹ کو نہیں پڑھا۔ انہوں نے اس کو پڑھے بغیر ایک خانہ میں ڈال دیا اور اپنا سفر شروع کر دیا۔

وہ بے خبری کے ساتھ ہوائی جہاز کو اڑاتے ہوئے احمد آباد کے قریب پہنچے۔ پھر وہ اترتے ہوئے ایک ہزار فٹ کی بلندی تک آگئے۔ ان پر لازم تھا کہ وہ ان ضروری احتیاطوں کو ملحوظ رکھیں جو آلات کی مدد کے بغیر آنکھ سے دیکھ کر اترنے کی صورت میں اختیار کی جاتی ہیں۔ اس کے بجائے انھوں نے ائیرپورٹ کے آلات کی رہنمائی پر بھروسہ کیا جو اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے انھیں غلط اطلاعات دے رہا تھا۔

جہاز جب ائیرپورٹ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا تو وہ اپنے صحیح راستہ سے ہٹ فضا میں کہر ہونے کی وجہ سے ائیرپورٹ بھی زیادہ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہوا کہ جہاز رن وے پر اترنے کے بجائے باہر نا ہموار زمین پر اتر گیا۔ ایک سیکنڈ کے اندر جہاز کے اندر آگ لگ گئی۔ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ یہ واقعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸ کو صبح ۷ بجے پیش آیا۔ مسافر ہلاک ہو گئے۔ صرف دو آدمی شدید زخمی حالت میں بچ سکے ۔ بالمقابل صفحہ پر اس کا نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک دنیوی مثال ہے جس سے آخرت کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس دنیا کا ہر آدمی گویا ایک مسافر ہے۔ ہر آدمی آخرت کی طرف سفر کر رہا ہے۔ مگر ہر سفر یکساں نہیں۔ وہ ہے جو خدا کے مقرر کیے ہوئے سیدھے راستہ پر جاری ہو۔ دوسرا سفر وہ ہے جس میں آدمی خود اپنی رائے کے تحت ٹیڑھے راستہ پر دوڑنے لگے۔

دونوں سفروں کا انجام یکساں نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ سیدھے راستہ پر اپنا سفر طے کریں گے، وہ آخرت میں صحیح منزل پر اتریں گے۔ ان کے لیے وہاں امن اور راحت کی زندگی ہوگی۔ اس کے برعکس جو لوگ ٹیڑھے راستہ پر سفر کریں گے، ان کی سواری جب آخرت کے عالم میں پہنچے گی تو وہ بربادی کے مقام پر گر پڑے گی اور ٹوٹ پھوٹ کر تباہ ہو جائے گی۔

Printed page