Al-Risala · June 1990

چالیس سال بعد

Al-Risala, June 1990, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

نکولا چاؤسسکو (Nicolae Ceauşescu) رومانیہ کا کمیونسٹ لیڈر تھا۔ ۱۹۴۸ء میں وہ رومانیہ کا وزیر زراعت بنا۔ اس کے بعد وہ ترقی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ، ۱۹۶۷ میں وہ رومانیہ کا صدر بن گیا۔ اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے اس نے ہر ممکن کارروائی کی۔ اسی میں یہ تھا کہ اس نے اپنی بیوی الینا (Elena) کو نائب صدر بنایا اور بیشتر کلیدی عہدوں پر اپنے رشتہ داروں کو بٹھا دیا۔

چاؤسسکو نے طاقت کے ذریعہ اپنے تمام مخالفین کو کچل دیا۔ رومانیہ کے مشہور شاعر اینڈرین پاڈ نیسکو کے ذریعہ اس نے ایک نظم تیار کرائی جو "نغمه رومانیہ" کہی جاتی تھی۔ اس میں چاؤسسکو کو " رومانیہ کی قوم کا سب سے زیادہ محبوب فرزند قرار دیا گیا تھا۔ یہ نظم روزانہ مختلف مواقع پر سارے رومانیہ میں پڑھی رومانیہ کے لوگوں کو یہ بات ناپسند تھی کہ ملک کے تمام وسائل صرف ایک شخص کے اوپر وقف کر دیئے جائیں۔ آخر کار دسمبر ۱۹۸۹ء میں یہ لاوا پھٹ پڑا ۔ عوام اور فوج دونوں نے چاؤسسکو کے خلاف بغاوست کر دی ۔ چاؤسسکو نے اپنی حفاظت کے لیے اتنی بڑی پولیس بنا رکھی تھی جو فوج سے بھی زیادہ طاقت ور رکھتی ۔ چنانچہ سخت تصادم ہوا۔ ستر ہزار آدمی مر گئے۔ اور تین سو ہزار آدمی زخمی ہوئے ۔ چاؤسسکو اپنے وسیع محل میں ہر وقت ایک ہیلی کاپٹر تیار رکھتا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ اب وہ اپنے اقتدار کو بچا نہیں سکتا تو وہ ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر فرار ہو گیا۔ اس کو اندیشہ ہوا کہ اس کا ہیلی کا پٹر مار کر گرا دیا جائے گا۔ چنانچہ وہ ایک مقام پر اتر کر زیر زمین پناہ گاہ (bunker) میں داخل ہو کر چھپ گیا ۔ وہ یہاں بھی پکڑ لیا گیا اور عین کرسمس کے دن ۲۵ دسمبر ۱۹۸۹ء کو چاؤسسکو اور اس کی بیوی الینا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ آسمان نے بھی اس کو جگہ دینے سے انکار کر دیا اور زمین نے بھی۔ چاؤسسکو اسٹالنٹ اشتراکی تھا۔ وہ مذہب کا انتہائی سخت دشمن تھا۔ بخارسٹ کا ریڈیو اناونسر اس کی موت کی خبر دیتے ہوئے چلا اٹھا ، اس نے کہا کہ اف ، کیسی حیرت ناک خبر ہے۔ عین کرسمس کے دن مر گیا :

Oh, what wonderful news. The anti-Christ died on Christmas Day.

اس طرح کے واقعات ۱۹۸۹ میں کثرت سے پیش آئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ظالم انسانوں نے مذہب کے خلاف جو قلعے بنائے تھے، وہ خدا کی طرف سے مسلسل ڈھائے جا رہے ہیں ۔ روس میں سرکاری طور پر مذہب کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ مگر حالات کا دباؤ اتنا بڑھا کہ روس کی اشتراکی حکومت کو اپنے یہاں مذہبی آزادی کا اعلان کرنا پڑا۔ سوویت روس کے وزیر اعظم میخائیل گورباچوف نے خود ویٹیکن پہونچ کر پوپ سے ملاقات کی۔ مشرقی جرمنی میں مذہب کو بظاہر مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔ مگر وہ بالاخر سیلاب بن گیا اور برلن دیوار (Berlin wall) توڑ کر باہر آ گیا۔ چاؤسسکو اپنے سارے اقتدار اور اہتمام کے باوجود بری طرح ہلاک کر دیا گیا ۔ اس طرح براہ راست خدا کی طرف سے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کے مواقع کھولے جا رہے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کے لیے سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ دنیا کی ہر زبان میں قرآن اور حدیث اور سیرت پر سادہ اور سائنٹفک انداز کی کتابیں تیار کر کے تمام قوموں میں پھیلا دیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کے نام پر کافی سرگرمی دکھائی ہے۔ مگر یہ سرگرمیاں زیادہ تر سیاست رخی رہی ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ تمام سرگرمیوں کو دعوت و تبلیغ کے رخ پر چلایا جائے ۔ انسان کو " سیاسی مذہب " سے کوئی دل چسپی نہیں ۔ وہ " روحانی مذہب " کا متلاشی ہے۔ وہ اپنی فطرت میں اٹھنے والی طلبِ خداوندی کا جواب چاہتا ہے۔ اگر اس وقت جدید انسان کے سامنے اسلام کو اس کی سادہ اور فطری صورت میں پیش کر دیا جائے تو انسان محسوس کرے گا کہ یہی وہ چیز ہے جس کو وہ اپنے اندرونی تقاضے کے تحت تلاش کر رہا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری اسباب مہیا کر دیے ہیں۔ اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اٹھیں اور اسلام کو ہر خیمہ اور ہر گھر میں پہنچا دیں ۔

حیدر آباد میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں:

3-5-780/19/2, King Kothi Opposite: Azam Manzil HYDERABAD 500 039 Phone: 231607

Printed page