صحابی کا طریقہ
Al-Risala, June 1990, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
مکی دور کے آخری زمانہ میں مخالفین کی زیاد تیاں بہت بڑھ گئیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو اجازت دیدی کہ ان میں سے جو لوگ چاہیں وہ سمندر پار ملک حبش چلے جائیں۔ چنانچہ ایک سو سے زیادہ آدمی مکہ چھوڑ کر حبش چلے گیے۔ یہ اسلامی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے اور بہت سے واقعات اس سے وابستہ ہیں۔ سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ مسلمان حبش میں پر امن طور پر رہ رہے تھے ۔ ان کی پاکیزہ سیرت کے نتیجہ میں وہاں کا بادشاہ نجاشی بھی ان کی نہایت عزت کرتا تھا۔ اس درمیان میں ایک حادثہ پیش آیا۔ امام احمد نے ام سلمہ سے روایت کیا ہے کہ ہم لوگ حبش میں بہتر ملک اور بہتر پڑوسیوں کے درمیان تھے کہ نجاشی کے ایک حریف بادشاہ نے اس کے اوپر چڑھائی کر دی۔ ہم لوگوں کو اس کا بہت زیادہ دکھ ہوا۔ نجاشی اپنی فوج کے ساتھ مقابلہ کے لیے نکلا۔ یہاں تک کہ وہ دریائے نیل کے اس پار چلا گیا۔
چند دنوں کے بعد اصحاب رسول نے آپس میں کہا کہ ہم میں سے کسی شخص کو مقام جنگ پر جانا چاہیے اور وہاں سے خبر لانا چاہیے۔ زبیر بن عوام نے کہا کہ میں جاؤں گا۔ وہ اس وقت نوجوان
قالت فنفخوا له قربة فنجعلها في صدره فسبح عليها حتى خرج الى ناحية النيل التي بها ملتقى القوم ثم انطلق حتى حفرهم ام سلمہ کہتی ہیں کہ لوگوں نے ان کے لیے ایک مشک میں پھونک مار کر ہوا بھری۔ پھر انھوں نے اس کو اپنے سینہ پر باندھا۔ اس کے بعد وہ نیل میں داخل ہوئے اور اس کے سہارے سے تیر کر دریا کے دوسری جانب پہونچے جہاں میدانِ مقابلہ پھر وہ مزید چلے یہاں تک کہ وہ ان لوگوں تک پہونچ گئے۔
حضرت ام سلمہ مزید بتاتی ہیں کہ ہم لوگ نجاشی کے لیے دعا کرتے رہے کہ اس کو فتح ہو اور
اس کو اپنے ملک میں استحکام حاصل ہو۔ خدا کی قسم، ہم اسی حال میں تھے کہ زبیر بن عوام واپس آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تم لوگوں کو بشارت ہو، اللہ نے نجاشی کو فتح دی اور اس کے دشمن کو ہلاک اس خبر کو سن کر ہم لوگ اتنا خوش ہوئے جتنا کبھی خوش نہیں ہوئے تھے (ابجز: زارا اول صفحہ ۵۳ - ۳۵۲)
مشک میں ہوا بھر کر اس کو تیرنے کے لیے بطور معاون استعمال کرنا عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں لائف بوائے (lifebuoy) کہا جاتا ہے۔ جدید لائف بوائے کی بہت سی قسمیں قدیم مشک گویا اسی تکنیک کی سادہ اور ابتدائی صورت تھی۔
مکہ میں دریا نہ تھا، اس لیے مکہ میں اس تدبیر کارواج نہیں ہو سکتا۔ گمان غالب یہ ہے کہ ان مسلمانوں نے حبش میں اس تدبیر کو معلوم کر کے اس کو استعمال کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئی چیزوں کی تلاش کا کتنا زبردست جذبہ ان مسلمانوں کے اندر ابھر آیا تھا۔ حضرت زبیر ابن عوام ایک صحابی رسول تھے ۔ ان کے اندر بلاشبہ کامل اور معیاری ایمان پایا جاتا تھا۔ مگر اپنے سینہ میں اعلیٰ ترین اور طاقت ور ترین ایمان کا سرمایہ رکھنے کے باوجود انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ بس جوش کے تحت دریا میں کود پڑیں۔ وہ کہیں کہ ہمارے پاس ایمان کی دولت موجود ہے، اس لیے اب ہم کو مزید کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔
انھوں نے اس قسم کے جوشِ ایمان کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ کیا کہ زمانہ کے مطابق، تیراکی کی تدبیر دریافت کی اور اس کو عین اس طرح استعمال کیا جس طرح دوسرے غیر مسلم لوگ اس کو استعمال کر رہے تھے۔ وہ دریا میں کودے، مگر تدبیری اہتمام کے ساتھ۔ وہ اپنے ایمانی جذبہ کے تحت متحرک ہوئے، مگر اسباب کی ضروری شرطوں کو پورا کر لینے کے بعد۔ یہ صحابہ کا اسلام تھا۔ اور اسلام بلا شبہ وہی ہے جو صحابہ نے اختیار کیا۔ زیر طبع کتابیں . راه عمل • عقليات اسلام