مقام کیسے ملا
Al-Risala, June 1990, pp. 14–18
By Maulana Wahiduddin Khan
حمزہ بن عبد المطلب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ ان کے متعلق اسلامی تاریخ میں لکھا گیا کہ حمزہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے ذریعہ اللہ نے دین کو طاقت دی (كَانَ حمزة ممن اعـزّ الـلـه بـه الـديـن)، السیرۃ النبوية لابن كثير، المجلد الاول، صفحہ ۳۴۷)، حضرت حمزہ کو یہ مقام بلا سبب نہیں مل گیا۔ بلکہ وہ ان کے حقیقی عمل کے نتیجہ میں انھیں حاصل ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حکم ہوا کہ اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو آگاہ کرو (الشعراء ۲۱۴) تو آپ نے خصوصی طور پر حمزہ کے سامنے دین توحید کو پیش کیا۔ مگر ان کے ذہن پر باپ دادا کے دین کا اتنا غلبہ تھا کہ ابتدا میں کئی سال تک اسلام کی صداقت ان کی سمجھ میں نہ آسکی۔ آخر کار نبوت کے چھٹے سال انھوں نے اسلام قبول کیا۔
ایک روز وہ شکار کھیل کر واپس آئے ۔ ان کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ عین اس وقت ایک عورت نے آکر ان سے کہا کہ ابھی میں نے صفا پہاڑی کے پاس محمد کو دیکھا ہے۔ وہاں عمر و بن ہشام ( ابو جہل) بھی تھا اور وہ تمہارے بھتیجے کو گالی دے رہا تھا اور بہت زیادہ برا کہہ رہا تھا۔ غیرت کے تحت گھر سے نکلے ۔ کعبہ میں انھوں نے ابو جہل کو پالیا۔ وہ ابھی تک غصہ میں تھے ۔ لوہے کی کمان ابو جہل کے سر پر اتنے زور سے ماری کہ خون نکل آیا۔ انھوں نے ابو جہل سے کہا کہ تم میرے بھتیجے کے دشمن بنے ہوئے ہو، تو سن لو کہ میرا دین بھی وہی ہے جو محمد کا دین ہے (دینی دین محمد) ابو جہل کا تعلق قبیلہ بنو مخزوم سے تھا اور حمزہ کا تعلق قبیلہ بنو ہاشم سے۔ گھر واپس آئے تو قوم کے کچھ لوگ ان سے ملے۔ انھوں نے حمزہ کو شرم دلائی کہ تم صابی (بد دین) تم نے اپنے باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ دیا۔ ایک بھتیجے کی خاطر تم قوم کے تمام اکابر سے کٹ گئے اس طرح کی باتوں سے حمزہ ذ ہنی کش مکش میں مبتلا ہوگئے ۔ انھیں شبہ ہونے لگا کہ شاید میں نے خاندانی حمایت کے جوش میں آکر غلطی کر دی ہے۔ وہ رات بھر بے چین رہے۔ انھیں ساری رات نیند صبح ہوئی تو اسی بے چینی کے عالم میں خانہ کعبہ میں گئے۔ وہاں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے پورے تضرع اور انابت کے ساتھ دعا کی :
ماصَنَعْتُ اَللّهُمَّ إِنْ كَانَ رُشْدٌ أَفَاجْعَلُ میں نے جو کچھ کیا، اے اللہ اگر وہ ہدایت ہے تو تصديقَه في قَلبى و إِلَّا فاجْعَل لى اس کی تصدیق میرے دل میں ڈال دے۔ مِمَّا وقَعْتُ فيهِ مَخْرَجاً جس میں پڑ گیا ہوں اس سے میرے لئے نکلنے کی (صفحه ۴۴۶) صورت پیدا فرما۔
اسی کے ساتھ اگلے دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ انھوں نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے میں ایک معاملہ میں پڑ گیا ہوں۔ اور اس سے نکلنے کی صورت مجھے نظر نہیں آتی۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ ہدایت ہے یا گمراہی ہے۔ اس لئے آپ اس معاملہ میں مجھے بتائیے۔ اے بھتیجے میں تم سے اس معاملہ میں سننا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے ان کو نصیحت کی ۔ انھیں خوف دلایا اور ان کو اللہ کے انعام کی خوش خبری دی۔ اس کے بعد اللہ نے ان کے دل میں یقین ڈال انھوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صادق ہیں۔ اے میرے بھتیجے ، اپنے دین کا اعلان عام کر دو۔ خدا کی قسم، اگر مجھے وہ سب کچھ دیا جائے جس پر آسمان نے سایہ کیا ہے۔ تب بھی میں اس دین کو نہیں چھوڑوں گا (صفحہ ۴۴۶)
اس کے بعد حضرت حمزہ آپ کے مکمل ساتھی بن گئے۔ زمانہ جاہلیت میں وہ ایک دولت مند شخص تھے ۔ اسلام میں آنے کے بعد ان کی دولت ختم ہوگئی۔ انھیں اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا۔ اسلام کی خاطر انھیں اپنی قوم سے لڑائی لڑنی پڑی۔ یہاں تک کہ احد کی جنگ میں وہ شہید ہوگئے ۔ تا ہم آخر تک وہ پوری وفاداری کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستہ رہے۔
یہ وہ عظیم سعادت ہے جو حضرت حمزہ کو حاصل ہوئی۔ تا ہم یہ سعادت انھیں سادہ طور پر نہیں مل گئی۔ انھوں نے اپنے غیرت کے جذبات کو خدا کے دین کے لئے استعمال کیا۔ جب شیطان نے ان کے اندر شبہہ ڈالا تو انھوں نے اس شبہہ کو قبول نہیں کر لیا، بلکہ اس کے لئے گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کیں۔ رسول اللہ سے مل کر اس کی وضاحت اور جب بات واضح ہوگئی تو پھر کوئی چیز ان کے اعتراف میں مانع نہیں ہوئی۔ انھوں نے نہ صرف کھلے دل سے اعتراف کیا بلکہ ہر نقصان اور مصیبت کو برداشت کرتے ہوئے برابر اس پر قائم رہے۔ یہ ہے حضرت حمزہ کی وہ قربانی جس کے نتیجہ میں ساری دنیا کے مسلمان ہر ہفتہ جمعہ کے خطبہ میں "سید الشهداء حمزہ" کہہ کر ان کی دینی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔
اس میں سبق ہے مولانا اکرام الدین قاسمی (پیدائش ۱۹۳۸، ڈمراواں (ضلع بھاگل پور) کے رہنے والے ہیں۔ ۱۹۹۰ کی ملاقات میں انھوں نے اپنے کچھ واقعات بتائے جن میں بہت بڑا سبق ہے۔
۱۹۶۶ کا واقعہ ہے۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے گنگا کو اسٹیمر سے پار کیا۔ وہ براری ریلوے اسٹیشن پر بھاگل پور جانے والی پسینجر ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ٹرین میں بھیڑ تھی۔ ایک جگہ سیٹ پر ڈانڈہ کا ڈبہ رکھا ہوا تھا۔ وہ ڈبہ کو کھسکا کر وہاں بیٹھ گئے۔
تھوڑی دیر کے بعد ایک ہندو نوجوان آیا۔ یہ ڈبہ اسی کا تھا۔ وہ اس کو سیٹ پر رکھ کر باہر چلا گیا تھا۔ جب اس کو اندازہ ہوا کہ ڈبہ اپنی جگہ سے ہٹایا گیا ہے تو اس نے پوچھا کہ اس کو کس نے ہٹایا ہے۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے کہا کہ میں نے ہٹایا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ سخت غصہ ہو گیا۔ کیوں کہ اس کے عقیدہ کے مطابق ایک مسلمان نے اس کو چھو کر اس کو گندہ کر دیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس ڈبہ میں گنگا جل تھا۔ اس کو لے کر میں دیو گھر جا رہا تھا۔ اس کو تم نے آپوتر کر دیا۔ اب وہ لے جانے کے قابل نہیں رہا۔ وہ غصہ میں آپے سے باہر تھا۔ اور نہایت گرم اور اشتعال انگیز لہجہ میں بار بار کہہ رہا تھا کہ تم نے میرے گنگا جل کو آپوتر کر دیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے ان باتوں کا کوئی اثر نہیں لیا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور سیٹ نوجوان کے لئے خالی کر دی۔ انھوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اس ڈبہ میں گنگا جل ہے۔ اور وہ میرے چھونے سے آپوتر ہو جائے گا۔ مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھے معاف کر دو۔ ہندو نوجوان ان کے خلاف برستارہا اور وہ خاموشی سے کسی رد عمل کے بغیر اس کو سنتے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر ڈبہ کے تمام ہندو اس نوجوان کے خلاف ہو گئے۔ اور مولانا اکرام الدین صاحب کی حمایت کرنے لگے۔ انھوں نے نوجوان سے کہا کہ مولانا جب چپ ہیں اور اپنی غلطی مان رہے ہیں تو تم کیوں ان کے خلاف اتنا زیادہ چیخ رہے ہو۔ انھوں نے مولانا اکرام الدین صاحب سے کہا کہ آپ بالکل مطمئن رہئے۔ یہ آپ کا کچھ نہیں کر سکتا۔ آخر کار ہندو نوجوان چپ ہو گیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب اپنی جگہ برابر کھڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد نوجوان نے بے رخی کے ساتھ مولانا اکرام الدین صاحب سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں۔
نے بتایا کہ کھڑک بازار سے اس وقت مولانا اسی مقام پر رہتے تھے نوجوان نے کہا کہ کھڑک بازار میں ایک مولانا اکرام الدین بیس ۔ کیا آپ ان کو جانتے ہیں ۔ وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ میری ماں ان کے پاس گئی تھی اور ان سے تعویذ لائی تھی۔ اس تعویذ سے بہت فائدہ ہوا۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ابھی تو وہ سفر میں ہیں۔ کل تک وہ وہاں پہنچ جائیں گے ۔ اس وقت ان سے ملاقات ہو سکتی ہے ۔ ہندو نوجوان نے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم کہ وہ سفر میں ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ جس مسافر سے تم بات کر رہے ہو وہی مولا نا اکرام الدین ہیں۔ یہ سنتے ہی ہندو نوجوان نے مولانا اکرام الدین کے پاؤں پکڑلیے اس نے کہا کہ مجھے چھما کر دیجئے ۔ مجھ سے بہت بھاری غلطی ہو گئی۔ اس غلطی پر جی چاہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو مار لوں۔ وہ نوجوان اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اصرار کر کے مولانا اکرام الدین صاحب کو اپنی جگہ بٹھا دیا۔ اس کے بعد وہ آخری اسٹیشن تک برابر کھڑا رہا۔ اگلے اسٹیشن پر جب دونوں اترے تو نوجوان نے اصرار کر کے مولانا کو ناشتہ کرایا۔
مولا نا اکرام الدین صاحب نے اس طرح کے اور کئی واقعات سنائے اور کہا کہ ہندوؤں میں ہم نے جو اخلاق پایا وہ اخلاق ہم نے موجودہ مسلمانوں میں نہیں پایا۔
اسی طرح انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۲ میں میں تراویح سنانے کے لئے بنگلور گیا ہوا تھا۔ روز میں بنگلور سے کورم پلی بذریعہ اسکوٹر جا رہا تھا۔ راستہ میں میرے اسکوٹر کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ کچھ دور تک میں اسکوٹر کو دھکیل کر لے گیا۔ پھر سڑک کے کنارے ناریل کا ایک باغ دکھائی دیا۔ کے اندر ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ میں باغ کے اندر گیا۔ وہاں ایک ہندو بیٹھا ہوا تھا۔ مجھ کو دیکھتے ہی اس نے اپنے آدمی سے کہا کہ ایک کرسی لے آؤ۔ مجھ کو کرسی پر بٹھا کر پوچھا کہ حضرت کیا کام ہے۔ میں نے کہا کہ میری گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ یہاں سے آٹھ کلو میٹر دور جانے پر مجھے پٹرول مل سکے گا۔ کار دیکھ کر یہاں آگیا کہ شاید یہاں سے مجھے پٹرول مل جائے۔
مذکورہ ہندو نے فوراً اپنے ڈرائیور سے کہا کہ دیکھو اگر باہر پٹرول ہو تو اس کو حضرت کی گاڑی میں ڈال دو۔ اور اگر باہر نہ ہو تو اپنی گاڑی میں سے نکال کر ان کو پٹرول دے دو۔ کے بعد میں نے اپنی جیب سے ہیں روپیہ کا نوٹ نکالا تا کہ پٹرول کی قیمت ادا کروں۔
فوراً ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ ہم کو معاف کیجئے ۔ پیسہ کی ضرورت نہیں ۔ ہم کو بس آپ کی دعا چاہئے ۔
انسان کو غصہ نہ کیجئے ۔ اور اگر کسی وجہ سے وہ غصہ ہو جائے تو جوابی غصہ نہ کر کے اس کو ٹھنڈا کر دیجئے ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جس کو آپ اپنا دشمن سمجھ رہے تھے ۔ وہ آپ کے لئے ایسا ہو گیا جیسے کہ وہ آپ کا قریبی دوست ہو ۔
ہر آدمی خدا کا بنایا ہوا ہے ۔ اس دنیا میں کوئی آدمی نہیں جس کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر وہی فطرت ہے جو کسی دوسرے کے اندر ہے۔ آدمی کے اندر اچھے اور برے کی وہی تمیز موجود ہے جو کسی دوسرے کے اندر پائی جاتی ہے ۔ تاہم اسی کے ساتھ ہر آدمی کے اندر انا ( ایگو ) بھی موجود ہے ۔ یہی " انا " ساری خرابیاں پیدا کرتا ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے ہر آدمی کی انانیت کو اس کے سینہ کے اندر سلا رکھا ہے ۔ ہر آدمی کی انا ابتدائی طور پر حالت خواب میں ہے ۔ آپ کی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی کی اس انا کو سویا رہنے دیں ، اس کو کبھی بیدار نہ کریں ۔
جب آدمی کی انا سو رہی ہو تو وہ اپنی حالت فطری پر ہوتا ہے ۔ اس وقت وہ وہی کرتا ہے جو سچی انانیت کا تقاضا ہے ۔ کوئی آدمی صرف اس وقت برا بنتا ہے جب کہ اس کی انسانیت کو جگا دیا عقل مند آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسروں کی انا کو جگانے سے آخری حد تک پر ہیز کرے ۔ بالفرض اگر کسی کی انا جاگ اٹھے تو پہلی فرصت میں اپنے حکیمانہ رویہ سے اس آگ کو بجھا دے ۔ جو لوگ عقل مندی کی اس روش کو اختیار کر لیں ، ان کو کبھی دوسروں کی طرف سے شکایت نہ ہوگی ، خواہ وہ ایک ملک میں رہتے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں ۔
از مولانا وحید الدین خاں صفحه ۳۶۷ ۲۵ روپیه