Al-Risala · January 1990

روشن مستقبل

Al-Risala, January 1990, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

الرساله مارچ ۱۹۸۹ء کے سرورق پر لکھا گیا تھا ؀ ہر قسم کے فساد کے خلاف سب سے بڑا روک صرف ایک ہے : اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا۔

اس میں شک نہیں کہ یہی فسادات کو روکنے کا واحد کارگر اصول ہے۔ اس کے سوا جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ سب کی سب صرف جھگڑے کو بڑھانے والی ہیں نہ کہ اس کو ختم کرنے والی۔ مزید یہ کہ اس اصول کا تعلق صرف ہندوستان سے نہیں، بلکہ تمام دنیا سے ہے۔ خواہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک ، ایک قوم کا معاملہ ہو یا کئی قوموں کا معاملہ ، ہر جگہ فساد سے بچنے اور پر امن زندگی گزارنے کا یہی بے خطا اصول ہے۔ مسلمانوں کو جہاں کہیں بھی پر امن زندگی حاصل ہے، وہ اسی لیے حاصل ہے کہ وہاں انھوں نے یہ قیمت ادا کر دی ہے۔ اور جہاں کہیں انہیں پرامن زندگی حاصل نہیں، وہ اسی لیے حاصل نہیں کہ وہاں وہ یہ ضروری قیمت دینے کے لیے تیار نہ ہو سکے ۔ مسلمانوں کے لیڈر اور دانشور اب تک جس روش پر قائم رہے ہیں ، اس کو ، ایک لفظ میں، دل کی بھڑاس نکالنا کہا جا سکتا ہے۔ مگر الفاظ بول کر دل کی بھڑاس نکالنا کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ ضرورت ہے کہ اب اس معاملہ میں اپنی کوششوں کو نتیجہ خیز (Result-oriented) بنایا جائے ۔ مسئلہ کا حل تلاش کرنے پر ساری توجہ صرف کی جائے نہ کہ مسئلہ کے خلاف لفظی احتجاج کرنے پر۔

Printed page