Al-Risala · January 1990

ہندوستان کے فسادات

Al-Risala, January 1990, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان میں پچھلی آدھی صدی سے فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں۔ ان فسادات کی کہانی ہمیشہ تقریباً ایک ہوتی ہے۔ انتہا پسند ہندؤوں کی طرف سے کوئی اشتعال انگیز کارروائی کی جاتی ہے۔ مسلمان مشتعل ہو کر جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ اب نزاع بڑھتی ہے، یہاں تک کہ باقاعدہ فساد ہو جاتا ہے جو بالآخر مسلمانوں کے سخت جانی و مالی نقصان پر ختم ہوتا ہے۔

ایسے موقع پر مسلم رہنما اور دانشور ہمیشہ مسلمانوں کے رد عمل کو یہ کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں کہ وہ جوابی طور پر پیش آیا۔ اس سلسلہ میں کوٹہ (راجستھان) کے فساد کی مثال لیجئے۔ ایک مسلم انگریزی ہفت روزہ (۱۴ اکتوبر ۱۹۸۹ء) کی اپنی رپورٹ کے مطابق ، ۴ ستمبر ۱۹۸۹ء کو کوٹہ میں ہندوؤں نے آننت چتردشی کا یہ جلوس مسلم علاقہ سے گزرا۔ وہاں اس نے اشتعال انگیز نعرے لگائے جو مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے کافی تھے۔ اس کے بعد جلوس نے وہاں مسجد کے سامنے پتھرائو کیا۔ اس پر مسلمانوں نے جوابی پتھرائو کیا۔ اس کے نتیجہ میں پولیس کی گولی چلی جس سے مسلمانوں کو جانی نقصان ہوا۔

تفسیر ابن کثیر، الجزء الرابع، صفحہ (۱۰۱) که وہ ان کا قریبی دوست ہو۔

مذکورہ آیت اور حدیث اور صحابی کی تشریح کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ ہندوستان کے موجودہ حالات میں مسلمان جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ سراسر شریعت اسلامی کے خلاف ہے۔ مسلمان رد عمل کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں، حالانکہ صحیح یہ ہے کہ وہ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ مسلمان اپنے نام نہاد رہنماؤں کے بتائے ہوئے حل پر پچاس برس تک کم از کم پچاس ہزار بار عمل کر چکے اور ہمیشہ ناکام رہے۔ اب انہیں خدا اور رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کا تجربہ کرنا چاہیے۔ وہ یہ کہ مسلمان برائی کے بدلہ میں بھلائی کی روش اختیار کریں۔ وہ شور کا جواب خاموشی سے دیں اور نفرت کے مقابلہ میں محبت کا مظاہرہ کریں۔

خدا نے اپنی دنیا کا جو نظام بنایا ہے اس میں برائی کا خاتمہ جوابی برائی سے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا خاتمہ اس طرح ہوتا ہے کہ برائی کے جواب میں بھلائی کی جائے۔ خدا کی دنیا میں صبر کی طاقت غصہ سے زیادہ یہاں جہالت کے مقابلہ میں برداشت زیادہ وزن رکھتی ہے۔ یہاں انتقام کے بجائے معاف کر دینا اپنے اندر تسخیر کی طاقت رکھتا ہے۔ یہاں دشمن کو زیر کرنے کا سب سے زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ دوستی اور خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے۔

نرمی اور تحمل کے طریقہ کی اہمیت حدیث میں مختلف طریقوں سے نہایت وضاحت کے ساتھ بتائی گئی ہے۔ اس سلسلہ کی ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے :

ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال: ان الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ رفيق يحب المرفق و يعطى على الرفق ملا نرم د مہربان ہے اور نرمی و مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ يعطى على العنف و مالا يعطى على ما سواہ ۔ اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا اور ان الرفق لا يكون فى شيئ الا زانہ ولا نہ کسی اور چیز پر دیتا۔ نرمی جس چیز میں بھی ہو وہ اس يلعن من شيئ الا شانة ۔ من يحرم کو زینت دے گی ۔ اور وہ جس چیز سے بھی اٹھ الرفق يحرم الخیر (مشکاة المصابیح) جائے وہ اس کو عیب دار بنا دے گی۔ الجزء الثالث، صفحه ۱۴۰۷) ، نرمی سے خالی ہو وہ ہر بھلائی سے خالی ہو جائے گا۔ صبر و اعراض ایک اعلیٰ ترین حفاظتی تدبیر ہے۔ اس تدبیر کے ذریعہ آپ فساد کے ہر دم کو یقیناً ناکارہ

(De-fuse) کر سکتے ہیں۔ یہ حل ہم خرما و ہم ثواب کا مصداق ہے۔ اس کو اختیار کر کے مسلمان اپنا مسئلہ بھی حل کریں گے، اور اسی کے ساتھ انھیں عبادت کا ثواب بھی حاصل ہوگا، کیونکہ یہ حل خود خدا و رسول کی طرف سے ہمیں بتایا گیا ہے۔

Printed page