Al-Risala · June 1990

احیا قلب ، احیا حکومت

Al-Risala, June 1990, pp. 28–30

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانوں کے اندر جب بھی بگاڑ آتا ہے تو اس کی جڑ ہمیشہ قلب میں ہوتی ہے۔ قلب کے بگاڑ سے زندگیاں بگڑ جاتی ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ کیا لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے قلب ہوتے جن سے وہ سمجھتے یا ان کے کان ہوتے جن سے وہ سنتے۔ کیوں کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ قلب اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں (الحج ۲۶)

یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ سن لو کہ انسانی جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، اور وہ قلب ہے (الا و إنّ فی الجسد مُضغۃً اذا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّه وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّه الا وهى القلب ) متفق عليه) جب ہر قسم کے انسانی بگاڑ کا سرچشمہ قلب ہے تو ہر بگاڑ کے موقع پر ہمیشہ اصلاح کا آغاز قلب کی اصلاح سے ہونا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجئے : کیا ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے قلب اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے آسمانی کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے ، اور ان میں سے اکثر نا فرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں بیان کر دی ہیں تا کہ تم سمجھو (الحدید ۱۶ - ۱۷)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں پر لمبی مدت (طول امد ) گزرنے سے افراد کے قلوب میں سختی (قساوت) آجاتی ہے۔ اس سے ان کے اندر باتوں کو سمجھنے اور اس سے اثر لینے کا مادہ ختم ہو جاتا ہے۔ جب کسی قوم کا یہ حال ہو جائے تو اس وقت کیا کرنا چاہیے ، اس کو زمین کی مثال کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔ جو زمین خراب ہو جائے ، اس میں کام کا آغاز فصل بونے سے نہیں کیا جاتا ، بلکہ زمین تیار کرنے سے کیا جاتا ہے۔ ایسی زمین سے پہلے اینٹ پتھر اور جھاڑ جھنکار صاف کیا جاتا ہے۔ ہموار کیا جاتا ہے۔ اس کی جتائی کر کے اس کو زرخیز بنایا جاتا ہے۔ پانی اور کھاد کا انتظام

کیا جاتا ہے۔

جب یہ سب کام ہو جائے ، اس وقت زمین پیداوار کے لئے صالح ہو جاتی ہے ۔ کسان اس زمین میں بیج ڈالتا ہے ۔ جو کسان اس طرح زرعی عمل کرے ، وہی اپنی زمین سے عمدہ فصل حاصل کرتا ہے ۔ اس کے برعکس جو کسان زمین کی تیاری سے پہلے اس میں دانہ بکھیر دے ، وہ دانہ بکھیرنے کے باوجود اپنی زمین سے عمدہ فصل حاصل نہ کر سکے گا ۔ کیوں کہ عمدہ فصل ہمیشہ تیار کی ہوئی زمین سے اگتی ہے نہ کہ غیر تیار شدہ زمین سے ۔

قرآن کی یہ آیت اس بارہ میں قاطع حیثیت رکھتی ہے کہ کسی قوم پر جب تنزل کا دور آجائے تو اس کو دوبارہ اٹھانے کے لئے کیا کرنا چاہئے ۔ ایسی حالت میں وہی کرنا چاہئے جو مردہ (خراب) زمین پر کسان کرتا ہے ۔ یعنی فصل بونے سے پہلے زمین تیار کرنا ۔

اس قرآنی اصول کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے معاملہ کو سمجھیے ۔ میں مسلمان زوال کا شکار ہوئے۔ ان کی حکومتیں ختم ہوگئیں ۔ قوموں کے درمیان ان کی عظمت باقی ماضی کے غالب لوگ حال کے مغلوب لوگ بن گئے ۔

قرآن کے مذکورہ اصول کے مطابق ، اب مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کا کام احیاء قلب سے شروع ہونا چاہئے تھا نہ کہ احیاء حکومت سے ۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اٹھے ، انھوں نے تقریباً بلا استثناء یہ کیا کہ احیاء حکومت کے نعرہ سے اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ قلب کی سطح پر قوم کو زندہ کرنے کی کوشش انھوں نے نہیں کی ۔ ہر ایک نے یہ کیا کہ حکومت کی سطح پر کوشش کر کے قوم کی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھنے لگا۔

خلافت تحریک، آزادی کی تحریک ، تقسیم ملک کی تحریک ، اس کی نمایاں مثالیں ہیں ۔ دوسری تحریکیں بھی کم وبیش اسی خانہ میں جاتی ہیں ۔ ان میں نام کے اعتبار سے یا الفاظ کے استعمال کے اعتبار سے بظاہر فرق نظر آتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ۔

اس غلطی کے نتیجہ میں مسلم رہنماؤں کا حال اس معمار کا ہو جو ٹوٹے کھمبوں اور بوسیدہ دیواروں کے اوپر چھت کھڑی کرنے کی کوشش کرے ۔ ایسی چھت کبھی قائم نہیں ہوسکتی اور نہ اب گھر

کبھی بن سکتا۔ ایسے گھر میں تعمیر کا آغاز کھمبوں اور دیواروں کی مضبوطی سے ہوگا نہ کہ چھت کا ڈھانچہ کھڑا کرنے سے۔

ماضی کی اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ غلطی کا اعتراف کیا جائے ۔ اور حال میں وہ کام شروع کر دیا جائے جو ماضی میں نہ ہو سکا ۔ یعنی احیاءِ حکومت پر نظریں جمانے کے بجائے احیاءِ قلب پر اپنی ساری طاقت صرف کرنا ۔ اس کے سوا ہر سرگرمی صرف وقت کا ضیاع ہے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

اس وقت تمام کاموں سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مسلمان عمل اور نتیجہ کے فرق کو سمجھیں ۔ اس دنیا میں جب بھی کوئی شخص کسی نتیجہ کو پاتا ہے تو وہ اس کے موافق ضروری عمل کرنے کے بعد اسے پاتا یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص عمل کو حذف کرکے اچانک اپنے مطلوبہ نتیجہ کو پالے۔ ایسا کبھی کسی کے لئے نہیں ہوا ، اور نہ آج وہ کسی کے لیے ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ عمل محض حرکت کا نام نہیں ہے ، بلکہ صحیح حرکت کا نام ہے۔ جو نتیجہ مطلوب ہو، اس کے مطابق ایک درست عمل ہوتا ہے۔ اس درست عمل کو اس کے تمام تقاضوں کے تحت انجام دینا پڑتا ہے اس ابتدائی مرحلہ کو اس کی تمام ضروری شرائط کے ساتھ گزارنے کے بعد ہی وہ وقت آتا ہے کہ آدمی اپنے مطلوب نتیجہ کو پائے۔

ضروری عمل کے بغیر نتیجہ کو پانے کے لئے دوڑنا ایک بے معنی اچھل کود ہے۔ اس کا کوئی نتیجہ کسی کے حق میں نکلنے والا نہیں، خواہ اس نے اپنی اچھل کود کو اسلام کا خوبصورت نام کیوں نہ دے رکھا ہو۔ بمبئی میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں:

KULSUM KITAB GHAR 9, Jama Masjid Maulana Baba Lane

Bombay 400 050

Printed page