ایک سفر
Al-Risala, June 1990, pp. 31–44
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بین اقوامی اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے مارچ ۱۹۹۰ میں ایک سفر ہوا۔ کے آخر میں دوبارہ دہلی واپسی ہوئی۔
۲ مارچ کو فجر سے پہلے گھر سے ائیر پورٹ جانے کے لئے نکلا تو ایک حدیث یاد آگئی جس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جس آدمی کو اندیشہ ہوتا ہے وہ صبح سویرے سفر کے لئے نکلتا ہے۔ اور جو آدمی سویرے سفر کے لئے نکلتا ہے وہی اپنی منزل پر پہنچتا ہے (مشکاۃ المصابیح الجزء الثالث، صفحه ۱۶۹ ۱۴)
حدیث میں ادلاج کا لفظ ہے جس کے معنی رات کے آخری حصہ میں یا صبح کے اندھیرے میں سفر کے لئے دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب آغازِ سفر میں جلد روانگی کا اہتمام کرنا ہے تاکہ سفر کامیابی کے ساتھ طے ہوسکے۔ یہی معاملہ آخرت کے سفر کا بھی ہے۔ آخرت کے سفر میں کامیابی کے ساتھ منزل پر پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے تقاضوں کو سمجھ کر اس کا پورا اہتمام کیا جائے۔ دہلی سے جہاز کی روانگی کا وقت صبح ساڑھے چھ بجے تھا۔ فجر سے پہلے گھر سے روانہ ہوا۔ میں لال بتی پر گاڑی رکی تو مجھے قرآن کی آیت وقفوهم انهم مسئولون (الصافات 24] آخرت میں وہی شخص پار ہوگا جس کو روکا نہ جائے۔ جس آدمی کو جانچ کے لئے روکا گیا وہ
میرے بڑے بھائی عبد العزیز خاں صاحب مرحوم نے ایک بار ایک ٹرک خرید ا۔ جلد ہی بعد انھوں نے اس کو بیچ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ ٹرک کے بارہ میں حکومت نے اتنے زیادہ قانون اور قاعدے بنا رکھے ہیں کہ اس کا پکڑ سے بچنا سخت مشکل ہے۔ پولیس والوں نے جس ٹرک کو جانچ کے لئے روکا اس کا چالان ہونا لازمی ہے۔ آخرت میں ٹکنکل قسم کے ضابطوں پر تو کسی کی پکڑ ہونے والی نہیں ہے۔ البتہ عمل کے خالص پن (purity) پر ضرور وہاں جانچ ہوگی۔ جس آدمی کا عمل خالص اللہ کے لئے ہووہ بچے گا اور جس آدمی کا عمل خالص اللہ کے لئے نہ ہو، اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ائیر پورٹ کے اندر امیگریشن پر بڑی لمبی لائن تھی۔ کھڑے کھڑے طبیعت گھبرا اٹھی۔
نے سوچا کہ آخرت میں اگر کوئی اور سزا نہ ہو، صرف اتنا ہو کہ کروڑوں انسانوں کی قطار کے درمیان تیز سورج میں کھڑا کر دیا جائے تو آدمی کا کیا حال ہوگا۔
دہلی سے، ۲ مارچ ۱۹۹۰ء کی صبح کو اردن ایئر لائنز(فلائٹ ۱۹۳) کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کا گیٹ بند ہو گیا اور جہاز اپنا پر پھیلائے ہوئے رن وے پر چلنے لگا۔ اتنے میں کچھ ہندوستانی مسافروں نے جہاز کے عملہ سے بحث شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری فیملی کا ایک آدمی باہر رہ گیا ہے اور ہمارا ٹکٹ اسی کے پاس ہے۔ کچھ دیر کی بحث کے بعد آخر کار جہاز دو بارہ گیٹ کی طرف واپس روانہ ہوا۔ کو تلاش کر کے اس کو دوبارہ اندر لاکر بٹھایا گیا۔ اس کے نتیجہ میں جہاز تقریباً دو گھنٹہ لیٹ ہو گیا۔ یہ سطحیت اور نادانی کی ایک مثال ہے۔ اس قسم کی سطحیت اگر ایک آدمی اپنی ذاتی زندگی میں کرے تو وہ حماقت ہے، وہ جرم نہیں ہے۔ مگر اجتماعی زندگی میں اس طرح کی سطحیٹ ایک سنگین جرم بن جاتی ہے۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی میں ایسی سطحی حرکت کی سزا پوری قوم کو بھگتنی پڑتی ہے۔ جہاز کے اندر امریکی میگزین نیوز ویک(۱۲ مارچ ۱۹۹۰ء) دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے صفحہ ۵۰ پر ایک فرانسیسی خاتون گروٹ (Groult) کی کتاب پر تبصرہ تھا۔ اس میں کتاب کے حوالہ سے بتایا گیا تھا کہ فرانس میں تحریک نسواں (Feminism) مایوسی کے دور سے گزر رہی ہے۔ کتابوں کے ناشرین نے تحریک نسواں کے متعلق لٹریچر چھاپنا بند کر دیا ہے، کیوں کہ اس کی فروخت میں بہت کمی آ گئی ہے:
Publishers have stopped printing feminist literature because of poor sales. فرانس میں تحریک نسواں کی مشہور خاتون لیڈر بویر (Simone de Beauvoir) چار سال پہلے مر گئیں۔ ان کے بعد کوئی خاتون لیڈر ابھر نہ سکی۔ فرانس کی تحریک نسواں کو زندہ رہنے کے لئے ایک لیڈر کی تلاش ہے۔ ایک فرانسیسی خاتون نے اس صورت حال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی عورتیں ایک غالب شوہر سے دور بھاگ سکی ہوں گی، مگر آخری چیز جو وہ چاہتی ہیں وہ دوسرا غالب ہے: They may have escaped from a domineering husband and the last thing they want is another dominator.
مرد کو اللہ تعالیٰ نے فعال صفات کے ساتھ پیدا کیا ہے اور عورت کو منفعل صفات کے ساتھ۔ دونوں صنفوں کے فریضہ حیات کے اعتبار سے یہی فطری تقسیم ہے۔ مغرب میں اس تقسیم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر آخر کار فطرت غالب آئی۔ انسان کے خود ساختہ نظریات بے حقیقت ہو کر رہ گئے۔ جہاز میں ایک صاحب آکر میرے قریب کی خالی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ عملہ کے ایک آدمی نے ان کے بورڈنگ کارڈ کو دیکھ کر کہا کہ یہ اوپر کا درجہ ہے، آپ کا ٹکٹ اکانومی کلاس کا ہے۔ اس لئے آپ پیچھے کی سیٹ پر جائیں۔ وہ صاحب نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی سیٹ پر بیٹھے رہے۔ دیر تک بحث کرنے کے بعد آخر کار وہ اٹھے اور جہاز کے آدمی کو برا بھلا کہتے ہوئے دوسرے درجہ میں چلے گئے۔ سیٹ پر بیٹھنے کے لئے ان کی دلیل یہ تھی کہ وہاں تو کوئی شخص بیٹھا ہوا نہیں ہے: Nobody is sitting here. مسافر کو معلوم نہ تھا کہ اس دنیا میں کوئی سیٹ آدمی کو اس لئے نہیں ملتی کہ وہ خالی ہے۔ سیٹ آدمی کو ملتی ہے تو اس لئے ملتی ہے کہ اس نے اس کی ضروری قیمت ادا کی ہے۔ جہاں دوسرے لوگ قیمت ادا کر کے بیٹھے ہیں وہاں آپ قیمت ادا کئے بغیر اپنے لئے نشست نہیں پا سکتے۔ یہ زندگی کی ایک سادہ حقیقت ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس سادہ حقیقت کو نہیں جانتے۔
مارچ ۱۹۹۰ کی ۱۷ تاریخ ہے۔ گھڑی میں دن کے ایک بجے ہیں۔ ہمارا جہاز تقریباً ۳۰ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا ہے۔ میں نے جہاز کی کھڑکی کے باہر دیکھا تو سورج کی تیز روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی جہاز کے نیچے گہرے بادلوں کی تہیں دکھائی دے رہی تھیں۔ اس وقت اگر آپ نیچے زمین کی سطح پر کھڑے ہوئے ہوں تو آپ کو اپنے چاروں طرف اندھیرا پھیلا ہوا نظر آئے گا۔ مگر عین اسی وقت بادلوں کے اوپر کل سورج اپنی پوری تابانی کے ساتھ چمک رہا تھا۔
میں نے سوچا کہ اسی طرح زندگی کے مطالعہ کی بھی دو سطحیں ہیں۔ زندگی کے معاملہ کو ایک رخ سے دیکھئے تو آپ کو اپنے ماحول میں ہر طرف مشکلات کے اندھیرے پھیلے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ٹھیک اس وقت ایک اور سطح موجود ہوتی ہے، اگر آپ اس دوسری سطح سے دیکھیں تو زندگی روشن امکانات سے بھری ہوئی دکھائی دینے لگے گی۔
مثال کے طور پر جو لوگ آج مسلمانوں کے معاملہ کو مادی اور سیاسی اعتبار سے دیکھتے ہیں ان کو
مسلمان ہر طرف مشکلات و مسائل سے گھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے معاملہ کو دعوتی امکانات کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کے لئے آج کی دنیا میں دعوت کے نئے شاندار مواقع کھل گئے ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اسلام کا نیا مستقبل بنا سکتے ہیں، اور اسی کے ساتھ خود اپنا مستقبل بھی۔ ایک زاویۂ نگاہ سے دیکھنے میں مسلمان تاریخ کا معمول نظر آتے ہیں۔ مگر دوسرے زاویۂ نگاہ سے دیکھئے تو مسلمان تاریخ کا عامل بننے کے مقام پر کھڑے ہوئے نظر آئیں گے۔
چھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز کے اناؤنسر نے اپنے اعلان میں بتایا کہ سوف تہبط الطائرۃ جلد ہی جہاز زمین پر اترے گا، اس جہاز کے کیپٹن (قائد الطیارہ) ایک عرب عصام الناصر تھے۔ جہاز ایر پورٹ کے علاقہ میں داخل ہوا تو میں نے سوچا کہ دیکھوں وہ جہاز کو کس طرح اتارتے ہیں۔ کیوں کہ جہاز میں سب سے زیادہ مشکل کام لینڈنگ ہوتا ہے۔ بعض پائلٹ جہاز کو اس طرح اتارتے ہیں جیسے اس کو زمین پر گرا دیا جائے۔ مگر عصام الناصر نے جہاز کو اس طرح اتارا کہ کوئی جھٹکا نہیں لگا اور جہاز تقریبًا غیر محسوس طور پر زمین پر اتر کر دوڑنے لگا۔ عراق جنگ نے عرب ملکوں کی مالیات کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ مگر اس نقصان میں فائدے کے بھی کچھ پہلو ہیں۔ اس نے انھیں جگا دیا ہے۔ وہ اپنے نوجوانوں کو ہر قسم کی اعلیٰ تربیت دے رہے ہیں ۔ تاکہ وہ بیرونی ملکوں کے ماہرین سے مستغنی ہو سکیں۔
عمان ایئر پورٹ ایک چھوٹا ایئر پورٹ ہے مگر خوبصورت ہے۔ اس کا نام مطار الملکہ علیاء الدولى (Queen Alia International Airport) ہے۔ اسی طرح دہلی کے ہوائی اڈہ کا نام اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس طرح کا نام پسند نہیں۔ ہوائی اڈوں کے نام سادہ طور پر دہلی ایئر پورٹ یا عمان ایئر پورٹ ہونے چاہئیں۔
اردن ایک چھوٹا ملک ہے۔ اردن ایئر لائن بھی ایک چھوٹی ایئر لائن ہے، مگر اس کی ہر چیز ایئر انڈیا سے بہتر نظر آئی۔ اس کا راز یہ نہیں ہے کہ اردن، ہندوستان کے مقابلہ میں زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ اردن کی ہر چیز مغربی ملکوں سے آئی ہوئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہاں وہ کرپشن نہیں ہے جو موجودہ ہندوستان کی سب سے بڑی خصوصیت بن چکا ہے۔
ہندوستان ٹائمز ۱۲ اگست ۱۹۸۶ کے صفحہ اول پر ایک روسی جہاز کی تصویر نمایاں طور پر چھپی
اس تصویر کے نیچے حسب ذیل الفاظ درج تھے :
وزیر اعظم راجیو گاندھی ایک روسی جہاز سے واپس آئے۔ کیوں کہ ایئر انڈیا کے جہاز کے انجن میں خرابی پیدا ہو گئی تھی جس میں وہ پراگ سے دہلی کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس واقعہ پر تبصرے ہندستان ٹائمز (۱۸ اگست ۱۹۸۶) صفحہ ۸ پر ایک تبصرہ میں کہا گیا تھا : ایک بیرونی سفر میں وزیر اعظم کے جہاز میں ایئر کنڈیشنگ کا نظام خراب ہو گیا۔ ایک اور موقع پر ان کے جہاز میں کوئی اور خرابی ہو گئی اور وہ ایک بیرونی سرزمین میں تین گھنٹے کے لئے رکنے پر مجبور ہو گئے۔ اب ان کے جہاز کے ایک انجن میں آگ لگنے کا خطرہ پیدا ہوا اور وہ ماسکو کی طرف موڑ دیا گیا اور وزیر اعظم ایک روسی جہاز میں دہلی واپس آئے۔ کیا ایئر انڈیا میں کارکردگی کا معیار
میرا تجربہ ہے کہ بہت سے چھوٹے ملکوں کا معیار کارکردگی ہندستان سے نمایاں طور پر بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان ملکوں میں وہ کرپشن نہیں جو آج ہندستان کے ہر شعبہ میں آخری حد تک سرایت کر گیا ہے۔
اردن ایک چھوٹا ملک ہے ۔ ۱۹۶۷ کی جنگ میں اس کے رقبہ کا ۶ فی صد حصہ اسرائیل کے قبضہ میں چلا گیا۔ یہ ۶ فی صد حصہ اردن کی زرعی زمین کا ۵۰ فیصد حصہ تھا۔ عمان اردن کی راجدھانی ہے اور ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ پورا شہر پہاڑیوں پر آباد ہے۔ یہ ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں قبل مسیح زمانہ کے آثار اب تک کھنڈر کی صورت میں موجود ہیں۔ ۶۳۵ء میں یزید بن ابی سفیان نے عمان کو فتح کر کے اس کو اسلامی مملکت میں شامل کیا تھا۔
اردن کے علاقہ میں تاریخی آثار بہت ہیں۔ مثلاً اسی ملک میں بطرا (Petra) اور جراش یہاں قدیم سلطنتوں کے چھوڑے ہوئے نشانات پائے جاتے ہیں۔ کے لئے یہ مقامات صرف تفریح کے مقامات ہیں، مگر مومن کی نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ عبرت اور نصیحت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: قل سیروا فی الارض ثم انظروا کیف کان عاقبة المكذبین (الأنعام)
اردن کے ایک میگزین میں ایک اشتہار دیکھا۔ اس میں عالمی سیاحوں کو ترغیب دلائی گئی تھی کہ وہ اردن آئیں اور یہاں کے تاریخی مناظر دیکھیں۔ اس کا عنوان تھا : Discover Jordan: the jewel of the Middle East اس مضمون میں سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لئے خاص طور پر بطرہ کے سنگی مکانات کی تصویریں دی گئی تھیں۔ قدیم زمانہ میں سنگ تراشی کی ایک صنعت پیدا ہوئی۔ اس کے تحت پہاڑوں کو تراش کر انھیں مکان کی صورت میں تبدیل کر دیا جاتا تھا۔ بطرہ میں اسی قسم کی عمارتیں ہیں۔ ایلورا اور اجنتہ بھی اسی قسم کی سنگ تراشی کے نمونے ہیں۔
ایک عرب قبیلہ نے یہاں ایک سلطنت قائم کی تھی جن کو نبطی (Nabataeans) کہا جاتا ہے۔ ۳۱۲ ق م کا واقعہ ہے۔ یہاں انھوں نے پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت مکانات بنائے اور اس کو اپنی راجدھانی قرار دیا۔ رومیوں نے اس کو ۱۰۶ ء میں فتح کیا۔ ۶۳۵ء میں وہ اسلامی علاقہ میں شامل کیا گیا۔ مغربی مورخین جب اس کا ذکر کرتے ہیں تو وہ رومیوں کے تذکرہ کے ذیل میں رومی عہد (Roman times) کا لفظ لکھتے ہیں، اور مسلمانوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کے لئے اسلامی حملہ (Islamic invasion) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یہ فرق بلاشبہ قابل شکایت ہے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمان جب اپنی تاریخ اور دوسروں کی تاریخ پر لکھتے ہیں تو وہ بھی اسی طرح دہرا انداز اختیار کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں کم از کم مسلمانوں کو اس شکایت کا حق نہیں۔
اردن کی آمدنی کا ایک خاص ذریعہ سیاحت ہے۔ اور سیاحوں کے لئے یہاں سب سے زیادہ پرکشش چیز بطرا وغیرہ کے قدیم آثار ہیں۔ یہ آثار جو تاریخی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے اتنے قیمتی ہیں، ان کو پہلی بار سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاح برکھارٹ (John Lewis Burckhardt) نے ۱۸۱۲ء میں دریافت کیا۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے بارہ میں ایک یہودی روایت ہے جس کا تعلق اسی عمان (عمون) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ۔ داؤد نے بادشاہی محل کی چھت سے ایک عورت کو دیکھا جو نہار ہی تھی۔ وہ نہایت خوبصورت تھی۔ داؤد نے اس عورت کو اپنے محل میں بلایا اور اس سے اس کے بعد وہ حاملہ ہو گئی ۔ اب داؤد نے اس عورت کے شوہر حتی اور یاہ کو عمون کی جنگ میں بھیج دیا اور سردار فوج سے کہا کہ اس کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے۔ چنانچہ حتی اور یاہ مار اگیا اور پھر وہ عورت داؤد کی بیوی ہو گئی۔ کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ پر اس کام سے جسے داؤد نے کیا تھا خداوند ناراض ہوا (۲۔ باب ۱۱ ) حضرت داؤد کے یہی فرزند ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کہے جاتے ہیں۔ یہ لغو قصہ قرآن (ص ۲۳) کے تحت خود ہماری تفسیروں میں بھی آگیا ہے۔ مفسرین نے اس پر لمبی بحثیں کی ہیں۔ چنانچہ مستشرقین کو موقع مل گیا کہ وہ اس کو قرآن کے ساتھ منسوب کردیں۔ نے لکھا ہے کہ داؤد نے اور یا حتی کو ایک جنگ میں قلعہ کی دیوار تک بھیج دیا تاکہ وہ مارا جائے اور وہ اس کی بیوی سے نکاح کر سکیں۔ یہ واقعہ مسلم کہانیوں کا بھی ایک حصہ ہے :
....the incident is also a part of Muslim folklore (I/317)
عمان کی آبادی تقریبا ۶ لاکھ ہے۔
۴۹ - ۱۹۴۸ میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان جو جنگ ہوئی، اس کے بعد فلسطینی پناہ گزیں عمان میں آنے لگے۔ ۱۹۶۷ کی جنگ کے بعد دریائے اردن کے مغرب کا پورا علاقہ اسرائیل کے قبضہ میں چلا گیا۔ اب فلسطینی پناہ گزیں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ عمان جو پہلے ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، اب بہت بڑا شہر بن گیا۔
غالباً ۱۹۶۹ کی بات ہے۔ میری ملاقات اردن کے ایک فلسطینی سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اردن میں ہماری طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہم جب چاہیں اردن کی حکومت پر قبضہ کر لیں۔ فلسطینیوں کا یہی ذہن تھا جس کی بنا پر ۱۹۷۰ میں فلسطینیوں اور حکومت اردن کے درمیان باقاعدہ سول وار چھڑ گئی۔ نے نہایت فیاضی کے ساتھ فلسطینیوں کو پناہ مہمان بنایا تھا۔ مگر جب یہ نوبت آئی تو حکومت نے نہایت سختی کے ساتھ ان کو کچل دیا۔ حتی کہ فلسطینی کیمپوں پر بمباری کی گئی۔
ہر آدمی کی ایک حد ہے۔ آدمی اگر اپنی حد پر رہے تو اس کو ہر جگہ کام کے مواقع ملتے ہیں۔ وہ اپنی حد سے آگے بڑھ جائے تو اس کو ہر جگہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، خواہ وہ کسی مسلم ملک میں ہو یا غیر مسلم ملک میں۔
عمان سے طرابلس کے لئے ار دن ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۴۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کے اندر ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام ناصر عبد الفتاح عامر بتایا۔ کی عمر تقریباً ۲۱ سال تھی۔ ان کا خاندان غزہ (فلسطین) میں رہتا ہے۔ فلسطین کے بارے میں انھوں نے بہت سی باتیں بتائیں۔ آخر میں میں نے پوچھا کہ فلسطین کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا امید رکھتے ہیں۔ نے جواب دیا : تحرير ارض فلسطين و ان ارى بلادى تنعم تحت حكم اسلامى (سرزمین فلسطین کی آزادی، اور یہ کہ میں اپنے ملک کو اسلامی حکومت کے تحت خوش حال ہوتا ہوا دیکھوں)، فلسطین کے مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں اپنا بہت کچھ کھو دیا ہے، مگر انھوں نے اپنا حوصلہ نہیں اور حوصلہ بلاشبہ کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
اس جہاز میں اردن ایئر لائنز کا انگریزی میگزین رائل ونگ (Royal Wings) کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ اس میں ایک مضمون چھٹی حس (sixth sense) سے متعلق تھا۔ اس میں مختلف نمبر لکھے ہوئے تھے۔ اور ہر نمبر کو دیکھنے سے ایک متعین جواب نکلتا تھا۔ میں نے سرسری طور پر نمبر ۲ کو دیکھا۔ اس نمبر کے تحت حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے :
You are blessed with a remarkable ability. Your powers are alert and working for you. Don't be afraid of your "sixth sense" but explore it. میں اس قسم کی چیزوں میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس نوعیت کے مجھے کئی عجیب تجربے ہوئے ہیں۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ میں وہاں کے کتب خانہ میں مصر کا ایک عربی مجلہ المقتطف آتا تھا جس کو میں دل چسپی سے پڑھا کرتا تھا۔ ایک بار المقتطف میں اسی قسم کا ایک مضمون اس میں ایک طلسماتی لفظ ” "ابرا کا دابیسن کا تن “ کو پڑھ کر خاص انداز سے اپنے بارہ میں کوئی جو اب معلوم کیا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں میرا امتحان قریب تھا۔ میں نے اسی کے بارہ میں معلوم کیا۔ آیا : ستنجح نجاحاً كبيرا (تم ایک بڑی کامیابی حاصل کرو گے) عجیب بات ہے کہ
اس کے بعد امتحان ہوا تو میں پورے درجے میں اول آیا۔ اس وقت ہمارے درجے میں غالب ۲۴ طالب علم تھے۔
اردن ائیر لائنز کا عربی میگزین الأجنحة" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ آذار ۱۹۹۰ (صفحہ ۵۸) میں ایک عرب خاتون یمانبیل کا ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا: غرناطۃ الفردوس المفقود (غرناطہ، فردوس گم شده)
موصوفہ سیاح کے طور پر غرناطہ گئیں۔ وہاں انھوں نے عرب عہد کے آثار کو دیکھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ غرناطہ میں میں نے عرب تاریخ کو اپنے سامنے پایا اور اپنے ماضی کی عظمت کا مشاہدہ کیا۔ چیزوں کو دیکھ کر وہ رو پڑیں۔ وہ وہاں کے ایک ایک پتھر سے پوچھتی رہیں کہ یہاں عرب کی عظمت تھی اور یہیں سے پانچ سو سال پہلے عرب کی ذلت شروع ہوئی (هنا كان المجد العربى وهنــا ايضاّ أ الذل العربي قبل خمس مائة عام)
وہ جذباتی انداز میں لکھتی ہیں کہ عربوں نے یہاں اپنے قلعوں اور محلوں اور مسجدوں کو چھوڑ دیا۔ وہ اس شہر سے عورتوں کی طرح روتے ہوئے نکلے۔ وہ مردوں کی طرح اس کی حفاظت نہ کر سکے (ترکوا قِلَاعَهُم وقصورهم ومساجد هم ۔ خرجوا من هذة المدينة يبكون مثل النساء - ملكالم يحافظوا عليه مثل الرجال ۔ وَخَرَجْتُ من غرناطۃ اطأطئ رأسی ۔ واسأل نفسی الی متی سيستمّر هذا الليل العربي وماذا سيكتب
عرب خاتون نے اپنے اس تاثراتی جملہ میں غرناطہ کے آخری سلطان کی ماں کے قول کو دہرایا مگر یہ سادہ معنوں میں مرد اور عورت کا مسئلہ نہیں۔ یہ قومی استعداد کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۹۷ء میں ٹیپو مرد کی جنگ لڑے مگر وہ ہار گئے۔ ۱۹۷۱ میں اندرا گاندھی ایک عورت تھی مگر وہ پاکستان کے مقا بلہ میں جیت گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرد اور عورت کا معاملہ نہیں، بلکہ قومی استعداد اور حالات کا معاملہ ہے۔ اگر حالات موافقت نہ کر رہے ہوں تو کوئی شخص خواہ کتنی ہی زیادہ بہادری کے ساتھ لڑے، وہ مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
جہاز کا بیشتر سفر خشکی کے اوپر ہوا۔ بالائی فضا میں پرواز کرتا ہوا ہمارا جہاز ہندوستانی وقت
کے لحاظ سے پانچ بجے بحر روم کے اوپر پہنچ گیا۔ اس کے سفر کو نہ خشکی کی پستی اور بلندی نے روکا، اور نہ سمندر اس کی راہ میں حائل ہوا۔ وہ شہری آبادیوں کے اوپر سے بھی اسی طرح تیزی سے گزر گیا جس طرح کھلے میدانوں کے اوپر سے۔
بے شمار لوگ روزانہ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں۔ مگر مسافروں کے چہرے اور ان کی گفتگوئیں بتاتی ہیں کہ اس قدرتی معجزہ کو سوچ کر کسی کے اندر تورج کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ مذہبی انسان ہو یا سیکولر انسان، دونوں قسم کے لوگ ہوائی جہاز کا سفر تو کر رہے ہیں، مگر ہوائی جہاز کے سفر کے دوران ان کا شعور ربانی مسافت طے نہیں کرتا۔ ان کا حال تقریباً اس چوپا یہ کا سا ہے جس کو ایک مقام پر جہاز میں بیٹھا یا جائے اور لے جاکر اس کو دوسرے مقام پر اتار دیا جائے۔
اردو کے ایک مرثیہ گو نے قدیم زمانہ میں حضرت حسین اور ان کے خاندان کے سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین کو مختصر کر کے ان کا راستہ آسان بنا دو : طنابیں کھینچ کر کم کر زمیں کو کہ ہو وے راہ کم ان مہ جبیں کو آج اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لئے زمین کی طنابیں کھینچ کر سفر کو مختصر بنا دیا ہے۔ مگر قرآن کے مطابق انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو قابل شکر باتوں کو شدت کے ساتھ محسوس کریں اور شکر کے جذبات سے سرشار ہو جائیں (سبا ۱۳)۔
ہوائی جہاز کی سواری آج بہت زیادہ عام ہو چکی ہے۔ اس لئے لوگوں کو اس کے غیر معمولی پن کا احساس نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ ہوائی جہاز نے آج لمبے سفروں کو ہر آدمی کے لئے ممکن بنا دیا ہے۔ ورنہ قدیم زمانہ میں بہت ہی کم افراد لمبے سفر کا حوصلہ کر سکتے تھے۔
لارڈ کرزن ایک بے حد امیر خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کا بڑے جاہ و جلال کا وائسرائے بنا۔ مگر ۱۸۹۸ء میں جب وہ ہندوستان کا وائسرائے ہو کر روانہ ہوا تو لندن سے کلکتہ تک کا سفر طے کرنے میں اس کو سترہ دن لگ گئے۔ اس وقت تک ہوائی جہاز کا سفر رائج نہیں ہوا تھا۔ آج ایک عام آدمی ہوائی جہاز میں بیٹھ کر چند گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں پہنچ جاتا ہے۔
ے مارچ کو میں نے فجر کی نماز دہلی کے ہوائی اڈہ پر پڑھی تھی ۔ اسی دن میں عصر کی نماز کے وقت طرابلس کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا ۔ موجودہ زمانہ میں تیز رفتار سواریوں نے سفر کے معاملہ کو کتنا زیادہ آسان بنا دیا ہے ۔ ہوائی جہاز اپنے اندر سیکڑوں مسافروں کو بیٹھا کر ہوا میں اڑتا ہے اور خشکی اور پہاڑ اور سمندر کی ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ لوگوں کو ان کی منزل پر پہنچا دیتا ہے ۔ یہ کتنا حیرت ناک واقعہ ہے ۔ آج بے شمار لوگ اس سفری سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ مگر ان میں شاید ہی کوئی ہو جس کا حال یہ ہو کہ خدا کی اس عظیم نعمت کو سوچ کر اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ استعجاب (awe) کے سمندر میں غرق ہو کر کہہ اٹھے : فبای آلاء ربکما تکذبان ۔
فلپائن کے ایک صاحب (احمد نوح) سے ائیر پورٹ پر ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بتایا کہ فلپائن میں سات ملین مسلمان ہیں ۔ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت پیچھے ہیں ۔ حتیٰ کہ ان کے بیان کے مطابق سارے فلپائن میں ایک بھی مسلمانوں کا پریس موجود نہیں ۔
فلپائن کے ایک علاقے میں مسلمان آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں ۔ اس تحریک آزادی کے لیڈر پہلے صرف مسٹر نور میسواری تھے ۔ ہاشم سلامات ان کے نائب تھے ۔ اب دونوں میں سخت اختلاف ہو گیا ہے ۔ دونوں الگ الگ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں ۔ احمد نوح صاحب دونوں لیڈروں سے انھوں نے نور میسواری سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی سیاست کو نہ بدلا تو انقلاب ناکام ہو جائے گا۔ (ان لم تغير سِياسَتَكَ الآن فالثورة ستفشل) ، مگر دونوں کو متحد کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی ۔
ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ فلپائن کے دونوں لیڈر اگرچہ اپنے اختلاف اور علیحدگی کے لئے اصولی الفاظ بولتے ہیں ، مگر اصلًا یہ قیادت کا جھگڑا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ وہی جھگڑا ہے جو ہندوستان سمیت تمام ملکوں میں پیش آرہا ہے ۔ لوگ اسلام کے نام پر اٹھتے ہیں، کام شروع کرتے ہیں ۔ مگر جلد ہی بعد ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ اگر ان کی سرگرمیاں حقیقتاً اسلام کے لئے ہوتیں تو اختلاف کے وقت ایک شخص پیچھے ہو جاتا اور پھر اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا۔ اصل مقصد لیڈری ہو اور اسلام کا نام محض نعرہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہی
پیش آتا ہے۔
طرابلس میں میرا قیام فندق المہاری (کمبرہ ۱۲۷) میں تھا۔ یہ ہوٹل بحرِ روم کے کنارے واقع ایک طرف خشکی کے مناظر ہیں، اور دوسری طرف سمندر کی موجیں حدِ نظر تک متحرک نظر آتی ہیں۔ یہ اللہ تعالی کا کیسا عجیب احسان ہے۔ انسان کو پانی کی ضرورت تھی۔ پانی کو اگر سطح ارض پر پھیلا دیا جاتا تو انسان کے لئے رہنے کی جگہ باقی نہ رہتی۔ اللہ تعالی نے زمین میں بڑی بڑی گہرائیاں پیدا کیں اور ان میں پانی کو بھر دیا۔ مزید یہ کہ اس پانی میں نمک کا جزو شامل کر دیا تا کہ وہ کبھی خراب نہ ہونے اس سمندر کے بے شمار فائدے ہیں۔ جن کو کسی انسائیکلو پیڈیا میں بھی شمار کرنا ممکن نہیں۔ اس معاملہ کا احساس کرے تو اس کے سینہ میں وہی تلاطم مزید شدت کے ساتھ پیدا ہو جائے جو سمندر کی سطح پر ہر آن جاری رہتا ہے۔
اس ہوٹل میں ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے عین سامنے سڑک کے دوسری طرف ایک خوبصورت اذان کی آواز کمرہ تک پہنچتی تھی۔ اور یہ ممکن تھا کہ آسانی وہاں جا کر جماعت کے ساتھ نماز ادا دنیا کے ساتھ دین کا یہ جوڑ اگر مسلمان کی پوری زندگی میں آجائے تو زندگی ہر اعتبار سے کتنی بہتر ہو جائے۔
سفر کے دوران ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالی نے موجودہ زمانہ میں جو نئے وسائل انسان کے قبضہ میں دئے ہیں، وہ ابھی تک دین کی اشاعت کے لئے استعمال نہ ہوسکے۔ کے طور پر ہوائی جہاز نے سفر کو کتنا زیادہ تیز رفتار بنا دیا ہے۔ مگر وہ عام طور پر صرف دنیوی اغراض کے لئے استعمال ہورہا ہے۔
مذکورہ بزرگ نے ایک عالمی تحفظِ نبوت کانفرنس" میں شرکت کی تھی۔ وہ کہنے لگے کہ آپ ایسا کس طرح کہتے ہیں۔ دیکھیے فلاں مقام پر مسلمانوں نے بڑے پیمانہ پر تحفظِ نبوت کانفرنس کی۔ اس میں ساری دنیا کے مسلم علماء جمع ہوئے۔ اگر ہوائی جہاز کا استعمال نہ کیا جاتا تو اتنی وسیع انداز کی عالمی کانفرنس منعقد کرنا ممکن نہ ہوتا۔
میں نے کہا کہ "تحفظ نبوت کانفرنس "کو میں کوئی اسلامی کام نہیں سمجھتا۔ اس پر وہ حیرت میں پڑ گئے۔ میں نے کہا کہ اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری تو خود خدا نے لے لی ہے۔ اس دین کو لانے
والے پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے ابدی طور پر مقامِ تعریف (مقام محمود) پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس کی حفاظت آپ کی کریں گے۔ اسلام اور پیغمبرِ اسلام آپ کے تحفظ سے مستغنی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ”تحفظِ نبوت کا نفرنس“ کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا ”تحفظِ آفتاب کانفرنس“ پیغمبرِ اسلام کو اس کی ضرورت نہیں کہ مسلمان ان کا تحفظ کریں۔ پیغمبرِ اسلام کے امتی ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ آپ کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچائیں (بلّغوا عنی ولو آية)۔ آج مسلمانوں کی ذمہ داری اشاعتِ نبوت ہے نہ کہ تحفظِ نبوت۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جو کرنا ہے اس کو کرتے نہیں، اور جو نہیں کرنا ہے اس کے لئے دوڑتے ہیں۔ اس سفر میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک عرب نوجوان نے ۱۸ مارچ کی ملاقات میں بڑی عجیب بات بتائی۔ انھوں نے راقم الحروف کی عربی کتابیں پڑھی ہیں اور الرسالہ مشن سے واقف ہیں۔ تاہم وہ میرے احوال اور میری مشکلات سے مکمل طور پر نا واقف تھے۔ بھی معلوم نہ تھا کہ میرے خلاف لوگوں نے مخالفت کا طوفان برپا کر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ مجھے ”اہانت امت“ کی سزا دینے کا فتویٰ دیا جا رہا ہے۔
مذکورہ عرب نوجوان نے بتایا کہ فروری ۱۹۹۰ میں انھوں نے ایک خواب دیکھا۔ انھوں نے دیکھا کہ وہ میرے ساتھ ایک مکان میں ہیں۔ ہم لوگ سخت خطرے میں گھرے ہوئے ہیں اور بے حد پریشان ہیں۔ اس دور ان مذکورہ عرب نوجوان گھر سے باہر نکلے تاکہ حالات کا اندازہ کریں۔ اتنے میں انھوں نے دیکھا کہ سامنے کی سڑک سے حضرت عمر فاروق گزر رہے ہیں۔ وہ خاموشی سے چلتے ہوئے آگے نکل گئے۔ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق وہاں سے گزرے۔ وہ وہاں ٹھہر گئے اور مذکورہ عرب نوجوان سے کہا : قل لوحید الدین وأصحابه، اخرجوا ولا تخافوا، انتم في حماية الله ایک اور عرب جنھوں نے اپنا نام العیساوی بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی اکثر عربی مطبوعات پڑھی ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے مشن کا خلاصہ آپ نے کیا سمجھا ہے۔ انھوں نے کہا: هذه الرسالة تقدم الهدف الأساسي للإنسان ۔ نحن مخلوقون للآخرة ، والأمور الأخرى تخضع للأحوال والظروف ۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے خود اس سے کیا تاثر لیا۔ ان کا جواب یہ تھا : حولتنی من مسلم مادی الی مسلم صرف۔ یعنی اس نے مجھے مادی سوچ والے مسلمان سے
بدل کر خالص مسلمان بنا دیا۔
کئی عربوں نے میرے بارے میں اور اسلامی مرکز کے مشن کے بارے میں اپنے خواب بتائے جو نہایت عجیب اور بظاہر ناقابل قیاس تھے ۔ مثلاً ایک عرب نوجوان نے کہا کہ میں نے آپ کو خواب میں دیکھا ۔ خواب میں آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میرے پاس عربی لباس نہیں۔ اس پر عرب نوجوان نے کہا کہ میرے پاس دو عربی لباس ہیں ۔ ان میں سے ایک میں آپ کو دے دیتا ہوں ۔
ایک اور عرب نے بتایا کہ خواب میں ان سے میری ملاقات ہوئی۔ اس وقت میں نے ان سے جو گفتگو کی وہ انگریزی زبان میں تھی۔ میں نے انگریزی داں قوموں میں اسلام کی اشاعت کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ نے کہا کہ آپ فکری تطہیر کا کام تو بہت اچھا کر رہے ہیں ، مگر عملی انقلاب کے لئے ابھی تک آپ نے کوئی پروگرام شروع نہیں کیا۔
میں نے کہا کہ عملی انقلاب نتیجے کا نام ہے نہ کہ کوشش کا ۔ میں نے کہا کہ ہر انقلاب در اصل حالات کے انفجار کا نام ہے۔ مثلاً ایران کا انقلاب انٹیلی شاہ جذبات کے اہل پڑنے کا نام تھا۔ تمام واقعات جن کو انقلاب کہا جاتا ہے ، ان کی صورت یہی تھی کہ رائج الوقت نظام کے خلاف ناراضی پیدا ہوئی ۔ یہ ناراضی اندر اندر پکتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ تخریبی لاوا کی صورت میں اہل پڑی۔ تمام انقلابات تخریبی لاوا کے اہل پڑنے کے نتیجہ میں ظہور میں آئے ہیں۔ تاریخ میں ایک ہی انقلاب اس سے مستثنیٰ ہے، اور وہ پیغمبر اسلام کا انقلاب ہے۔ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا انقلاب بھی ایک لاوا کے پھٹنے سے ظہور میں آیا۔ مگر یہ تعمیری لاوا تھا ، نہ کہ دوسرے انقلابات کی طرح تخریبی لاوا ۔ پیغمبر اسلام کے انداز کا انقلاب لانے کے لئے تعمیری لاوا تیار کرنا ہوتا ہے ۔ اور یہ صرف تعمیر شعور کے ذریعہ انجام پاتا ہے ۔ الرسالہ مشن اس وقت یہی کام کر رہا ہے ۔ یہ مشن گویا ایک تعمیری لاوا پکا جس دن یہ لاوا پک کر تیار ہو گا وہ اپنے آپ پھٹ پڑے گا۔ مگر اس کا پھٹنا خاموش تعمیری انقلاب کی صورت میں ہوگا نہ کہ پر شور تخریب کاری کی صورت میں، جس کے نمونے آج جگہ جگہ نظر آ رہے ہیں ۔