Al-Risala · January 1990

مثبت طرز عمل کی مثال

Al-Risala, January 1990, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر کوٹہ اور بدایوں کی مثال نقل کی گئی ہے جب کہ مسلمانوں نے منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کیا اور اس کا برا انجام ان کے سامنے آیا۔ اب اس کے برعکس دو مثالیں لیجئے جب کہ مسلمانوں نے جوابی کارروائی سے پر ہیز کرتے ہوئے مثبت روش اختیار کی۔ اس کے نتیجہ میں ان کے جان و مال بربادی سے محفوظ رہے۔ فروری ۱۹۸۹ میں شیو گنج (راجستھان) میں ہیڈ گوائر جنم شتابدی کے موقع پر ہندوؤں نے جلوس جلوس مقامی جامع مسجد کے سامنے پہنچ کر اشتعال انگیز نعرے لگانے لگا۔ مگر وہاں کوئی مسلمان ان کا جواب دینے یا روک ٹوک کرنے کے لیے سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ مسجد کے امام مولانا خدا بخش بلوچ باہر نکلے۔ انھوں نے جوابی اشتعال کا مظاہرہ کرنے کے بجائے سادہ طور پر یہ کیا کہ جلوس کے افراد سے دوستانہ ملاقات شروع کر دی۔ ان کے ” آداب عرض “ کو دیکھ کر جلوس کے نوجوان بھی ” مولوی جی نمستے ، مولوی جی نمستے “ کے الفاظ بولنے لگے۔ اس کے بعد جلوس کا سارا زور اپنے آپ ختم ہوگیا۔ پانچ منٹ میں لوگ ٹھنڈے ہو کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

دوسری مثال دہلی کی ہے۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۸۹ کو وشو ہندو پریشد کی طرف سے دہلی میں ” وراٹ ہندو سمیلن “ منایا گیا۔ بوٹ کلب پر بڑی تعداد میں ہندو جمع ہوئے۔ وہاں اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اور مخالفانہ نعرے لگائے گئے۔ ہندوؤں کا یہ ہجوم بوٹ کلب سے واپس ہوا تو وہ مسلم مخالف نعرے لگا رہا مثلاً ” ہندو بن کر رہنا ہوگا ، بندے ماترم کہنا ہوگا “ وغیرہ۔ انھوں نے اپنے راستہ میں مسجدوں کی بے حرمتی کی۔ نئی دہلی کی ایک مسجد کا بورڈ توڑ ڈالا۔ یہ سب کچھ ہوا۔ مگر دہلی کے مسلمان پوری طرح اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ انھوں نے سنا مگر اپنے کان بند کر لیے۔ انھوں نے دیکھا مگر اپنی نظریں پھیر لیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ ۲۲ ستمبر کو دہلی میں کوئی فساد ہوا اور نہ اس کے بعد۔ ہندوؤں کے مخالفانہ الفاظ وقتی شور و غل بن کر فضا میں تحلیل ہو گئے۔ یہ صرف دو مثالیں نہیں ہیں۔ اس طرح کی مثالیں بڑی تعداد میں ہر جگہ پائی جاتی ہیں۔

ہے کہ فساد ہونے کے مقابلے میں فساد نہ ہونے کے واقعات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ مگر اول الذکر واقعات اخباروں میں چھپ کر مشہور ہو جاتے ہیں۔ جب کہ ثانی الذکر واقعات اخباروں میں نہیں چھپتے، اس لیے وہ لوگوں کے علم میں بھی نہیں آتے۔

Printed page