صحابی کی نصیحت
Al-Risala, January 1990, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے فسادات کا بہترین حل وہ ہے جو ایک صحابی نے ۱۴ سو سال پہلے بتا دیا تھا یہ حضرت عمیر بن حبیب بن خماشہ ہیں۔ انہوں نے اپنے لڑکے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: من لا يرضى بالقليل مما يأتي به السفيه جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والی چھوٹی يرضى بالكثير (حياة الصحابة ، الجزء الثاني، تکلیف پر راضی نہ ہوگا اس کو نادان کی طرف سے
بڑی تکلیف پر راضی ہونا پڑے گا۔
صحابی کے اس قول میں زندگی کی ایک حقیقت بتائی گئی ہے۔ یہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں جتنی بامعنی تھی، اتنی ہی بامعنی وہ آج بھی ہے۔ وہ جس طرح مسلم اکثریت کے ملک میں اہمیت رکھتی تھی، اسی طرح وہ غیر مسلم اکثریت کے ملک میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے، جہاں بہر حال دوسروں کی طرف سے تکلیف کی باتیں پیش آتی ہیں۔ یہاں عقل مندی اور کامیابی یہ ہے کہ ابتدائی چھوٹی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے۔ اگر آپ ایسانہ کریں تو معاملہ بڑھتا ہے اور زیادہ بڑی تکلیف سے سابقہ پیش آتا ہے۔ بڑی تکلیف سے بچنے کا واحد راز چھوٹی تکلیف کو نظر انداز کرنا ہے۔ یہی کامیاب زندگی کا واحد اصول ہے، خواہ گھر کا معاملہ ہو یا سماج کا معاملہ یا پورے ملک کا معاملہ۔
اس کی ایک مثال جلوس کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۷۴ء سے پہلے ہندوؤں کا جلوس باجا بجاتا ہوا مسجد کے سامنے سے گزرتا تھا اس وقت مسلمانوں نے باجا کو برداشت نہیں کیا اور جلوس کی روٹ بد لنے پر اصرار کیا۔ سے مسئلہ تو ختم نہیں ہوا۔ البتہ بعد کو مزید یہ خرابی پیدا ہوئی کہ ہندوؤں کا جلوس اسی کے ساتھ مسلم مخالف نعرے بھی لگانے لگا۔ اس پر مسلمانوں نے دوبارہ روک ٹوک کی۔ اب یہ ہوا کہ جلوس اور نعرہ تو ختم نہیں البتہ اس میں تیسری چیز کا اضافہ ہوا۔ وہ یہ کہ جلوس باجے اور نعرے کے ساتھ ٹرک میں پتھر بھر کر چلنے لگا تاکہ مسجدوں اور مسلم محلوں پر خشت باری کرتا ہوا گزرے۔ مزید یہ کہ پہلے اگر جلوس سال میں چند بار
نکلتا تھا تو اب وہ روزانہ اور ہر جگہ نکلنے لگا۔
بڑھتے ہوئے مسائل کی یہ صورتِ حال صحابی کی نصیحت کی تصدیق کرتی ہے ۔ وہ مسلمانوں کی ردِ عمل کی سیاست کو بالکل بے فائدہ ثابت کر رہی ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان صحابی کی مذکورہ نصیحت کی اہمیت کو سمجھیں اور رد عمل کی روش کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں۔