Al-Risala · July 1990

بے حسی کا مرض

Al-Risala, July 1990, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی بیماریوں میں ایک ڈراؤنی قسم کی بیماری وہ ہے جس کو جذام (leprosy) کہا جاتا یہ مہلک بیماری ایک مخصوص جراثیم کے سبب سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ جراثیم جسم کے محیطی اعصاب کو برباد کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر حساسیت کا مادہ ختم ہو جاتا ہے :

It is caused by Hansen's bacillus. Destruction of the peripheral nerves by the bacillus leads to a loss of sensation. (VI/159)

مثلاً جذام کے مریض کا ہاتھ اگر آگ پر پڑ جائے تو ہاتھ جلتا رہے گا مگر وہ اپنے ہاتھ کو آگ سے ہٹانے کے لیے حرکت میں نہیں آئے گا۔ اس کی وجہ یہی حساسیت کا خاتمہ ہے۔ آدمی کے جسم میں باریک قسم کے نازک اعصاب ہوتے ہیں۔ یہ اعصاب بے حد حساس ہوتے ہیں۔ کسی حصہ میں کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اسی وقت اس کی خبر دماغ کو پہنچاتے۔ اس حصہ جسم کو مقام حادثہ سے ہٹانے کا حکم دیتا ہے۔ اور ایک لمحہ میں جسم کا وہ حصہ وہاں سے ہٹالیا جاتا ہے ۔ جذام کے مریض کے اندر یہ مخصوص اعصاب مردہ ہو جاتے ہیں۔ اگر اس کا ہاتھ آگ پر پڑ جائے تو دماغ تک اس کی خبر نہیں پہنچ سکے گی، اس لیے دماغ کا حکم بھی جاری نہیں ہوگا۔ اور وہ ہاتھ جلتے رہنے کے باوجود وہیں پڑا رہے گا۔ یہ جسمانی بیماری ایک خدائی نشانی ہے جو ہم کو ایک روحانی بیماری کی پہچان کراتی ہے۔ بیماری وہی ہے جس کو قرآن میں قساوت (الحديد ۱۶) کہا گیا ہے۔ یہ اخلاقی اور روحانی موت کی ایک حالت ہے جب کہ برائی اور اچھائی کے بارہ میں آدمی کی حساسیت مردہ ہو جاتی ہے۔ قلبی تڑپ سے محروم ہو جاتا ہے جو آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ جب وہ بھلائی کو دیکھے تو اس کی طرف دوڑے اور برائی کو دیکھے تو اس سے بھاگ کر اپنے آپ کو اس سے بچائے۔

ایمانی حساسیت سے اس محرومی کی مثالیں قرآن وحدیث میں کثرت سے بتائی گئی ہیں۔ غزوہ بنی المصطلق (۶ھ) کے بعد ایک سادہ واقعہ کو شوشہ بنا کر مدینہ کے کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

کے خلاف ایک جھوٹا قصہ گھڑا۔ اس کے بعد دوسرے لوگ بلا تحقیق اس کو ایک دوسرے سے بیان اس پر قرآن میں کہا گیا کہ جب تم اس کو اپنی زبانوں سے نقل کر رہے تھے، اور اپنے منھ سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ اور تم اس کو ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالاں کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے (النور ۱۵)

کسی شخص کے بارہ میں ایک بری خبر سن کر اس کو بلا تحقیق پھیلانے لگنا، حساس دل کے لیے نہایت سنگین بات ہے۔ مگر جن لوگوں کی روحانی موت ہو چکی ہو، وہ اس کو بے تکلف چھاپنا اور نقل کرنا شروع کر دیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ، جذام کے مریض کی طرح، ان کی وہ حساسیت ختم ہو چکی ہوتی ہے جو اس طرح کے معاملہ میں انھیں چونکائے اور ان کو یہ کہنے پر مجبور کر دے کہ مایکون لنا ان نتكلم بھذا (۱۱ ہم کو حق نہیں کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں ، النور ۱۶۔ بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، وہ اس کی کچھ پروا نہیں کرتا، حالانکہ اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے (إن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله تعالى لا يلقي لها بالاً يهوى بها في جهنم)

ایک بات جس سے کسی کی آبرو ریزی ہوتی ہو، کسی کے اوپر جھوٹا الزام عائد ہوتا ہو۔ کسی کی کردار کشی ہو رہی ہو، اس قسم کی بات اپنی زبان سے نکالنا ایسے آدمی کے لیے ہمالیہ پہاڑ سر پر اٹھانے کے برابر ہے جس کا دل خوف خدا سے کانپ رہا ہو۔ مگر جس آدمی کے اندر احتساب خدا وندی کا احساس مردہ ہو جائے وہ ایسی باتوں کو اس طرح دہرائے گا جیسے وہ کوئی پر لطف قصہ بیان کر رہا ہے ۔

جذام کی بیماری جسمانی حساسیت کھونے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح غیر ذمہ دارانہ بات کرنا اور بلا تحقیق الزامات کو پھیلانا بھی ایک روحانی بیماری ہے۔ یہ بیماری اس آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے جس کی حساسیت آخرت کی پکڑ کے بارہ میں مردہ ہو جائے۔

Printed page