Al-Risala · July 1990

عبادت

Al-Risala, July 1990, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اور جن صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) یہ آیت حقیقتِ واقعہ کے اتنا زیادہ مطابق ہے کہ اگر صرف اسی ایک آیت پر غور کیا جائے تو وہ کسی آدمی کے اندر یہ یقین پیدا کرنے کے لیے کافی ہوگی کہ قرآن خداوند عالم کی کتاب ہے ، انسان جیسی ایک مخلوق اس قسم کی کتاب کو وجود میں لانے پر قادر نہیں۔ انسان کی ہستی کے دو پہلو ہیں ۔ ایک نفسیاتی (یا روحانی) اور دوسرے جسمانی ۔ ان دونوں پہلوؤں سے انسان کی ترکیب ایسی ہے گویا وہ عبادتِ الہیٰ کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ عبادت کا سب سے زیادہ کامل مظہر نماز (صلاۃ) ہے ۔ اس آیت کی روشنی میں نماز اور انسانی شخصیت کا مطالعہ کیجئے۔ انسان کی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان عین اپنی تخلیق کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ کوئی ہو جس کے آگے وہ اپنے آپ کو جھکا دے ۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر انسان کسی نہ کسی کے آگے اپنے آپ کو جھکائے ہوئے ہوتے ہیں، اور اس جھکاؤ سے انہیں خصوصی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ مگر غیر خدا کے آگے جھکنا اس جذبہ کا غلط استعمال ہے ۔ اس طرح آدمی غیر خدا کو وہ چیز دیدیتا ہے جو اسے صرف خدا کو دینا چاہیے۔ نماز میں جب آدمی خدا کے آگے جھکتا ہے تو اس کو اپنے اس جذبہ کی پوری تسکین حاصل ہوتی ہے۔ نماز میں خدا کے آگے جھک کر وہ اپنے وجود کے اس پورے تقاضے کا جواب پالیتا ہے جو اس کے اندر اس طرح رچا بسا ہوا تھا کہ وہ اس کو نکالنا چاہے تب بھی وہ اس کو نکال نہ سکے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان کے فطری جذبہ کا مرجع حقیقی طور پر خدا کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔

اس کے بعد انسان کے جسم کو لیجئے ۔ آپ کسی آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے شروع سے آخر تک دیکھیں۔ محسوس کریں گے کہ نماز آدمی کے پورے جسم کا مکمل استعمال ہے۔ آپ کو ایسا معلوم ہوگا گویا آدمی اسی لیے بنایا گیا ہے کہ وہ نماز پڑھے۔

نماز کے لیے آدمی کا اپنے دونوں پیروں پر کھڑا ہونا، قبلہ رخ متوجہ ہونا۔ پھر ہاتھ باندھنا۔ زبان سے نماز کے کلمات ادا کرنا اور امام کی آواز سن کر ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جانا، دونوں ہاتھ گھٹنے پر رکھ کر رکوع کرنا، ہاتھ اور پیشانی اور بقیہ پورے جسم کو استعمال کرتے ہوئے سجدہ میں جانا، پھر چہرہ کو دائیں اور بائیں جولائی ۱۹۷۹ء (رسالہ) 15

گھما کر سلام کرنا ، دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا کرنا ۔ یہ ساری چیزیں انسان کے جسم سے اتنا زیادہ مطابقت رکھتی ہیں ، اور ان حرکات میں انسان کے تمام اعضاء اس طرح شامل ہوجاتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انسان کا پورا جسم اسی لیے بنایا گیا تھا کہ وہ نماز کی شکل میں اپنے رب کی عبادت کرے۔

تمام انسان فطرت اللہ پر پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ فطرت اللہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور نماز کی صورت میں اس کی عبادت کرے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

فاقم وجهك للدين حنيفاً فطرت الله التي پس تم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف سیدھا رکھو۔ فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك اللہ کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے۔ الدين القيم ولكن أكثر الناس لا يعلمون۔ بنائے ہوئے کو بدلنا نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ منيبين إليه واتقوه وأقيموا الصلاة اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور اسی ولا تكونوا من المشركين ۔ سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو۔ نماز کی یہی خاص صفت ہے جس کی بنا پر تاریخ میں اس طرح کی مثالیں ملتی ہیں کہ بہت سے لوگوں نے صرف مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر اسلام قبول کر لیا۔

آدمی کے اندر جو فطرت ہے وہ عبادت کی فطرت ہے ۔ آدمی کا پورا وجود عبادت کا طالب ہے۔ لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر نماز پڑھنے کا جذبہ لیے ہوئے ہے ۔ ہر آدمی کا پورا جسم اور اس کے تمام اعضاء نماز کی صورت میں ڈھل جانے کا خاموش داعیہ لیے ہوئے ہیں۔ اب جب ایک آدمی کسی نمازی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کا پورا وجود کہہ اٹھتا ہے کہ یہی وہ عمل ہے جس کی طلب وہ اپنے اندر لیے ہوئے تھا۔ نماز اس کو خود اپنی تلاش کا جواب معلوم ہونے اس کی فطرت کی یہ تڑپ اس کو مجبور کرتی ہے اور وہ نمازیوں کے ساتھ نماز میں جھک جاتا ہے ۔ (اركعوا مع الراكعين)

Printed page