Al-Risala · July 1990

عنقریب اسلام کی فصل بہار آنے کو ہے

Al-Risala, July 1990, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

ان سرگرمیوں پر نصف صدی سے زیادہ کی مدت گزر چکی ہے ۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ اب ہمارے لکھنے اور بولنے والے دشمنانِ اسلام کی ان سازشوں کے انکشاف میں مشغول ہیں جنھوں نے ہماری پچھلی نسل کی طوفانی کوششوں کو بے نتیجہ کر دیا۔ مگر یہ صرف خود فریبی ہے۔ کیوں کہ خدا کا اٹل قانون ہے کہ اس دنیا میں کوئی قوم ہمیشہ اپنی داخلی کمیوں کی بنا پر بازی ہارتی ہے نہ کہ بیرونی سازشوں کی بنا پر۔

موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اپنی قوم کو جو رہنمائی دی، وہ ایک لفظ میں یہ تھی کہ ۔ ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار لے کر آگے بڑھو اور ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑ دو۔ چنانچہ سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسلمان لفظی یا عمل تلوار بازی کے اسی مشغلہ میں مصروف رہے ہیں۔ آجکل پاکستان اور کشمیر میں یہی منظر دیکھا جاسکتا ہے جہاں مسلم نوجوان دہشت گردی کے عملی میں مشغول ہیں اور پر جوش طور پر یہ ترانہ گا رہے ہیں : دل میں ہے اللہ کا خوف ہاتھ میں ہے کلاشنکوف (Kalashnikov)

اس رہنمائی میں بیک وقت دو غلطیاں تھیں ۔ اس میں انتہائی معصومانہ طور پر یہ فرض کر لیا گیا کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں قرآن ہے اور ان کے دل میں اللہ کا خوف موجود ہے ۔ حالاں کہ اصل واقعہ یہ تھا کہ صدیوں کے زوال کے نتیجہ میں قرآن سے مسلمانوں کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا، اور قساوت کے نتیجہ میں ان کے دل اللہ کے خوف سے خالی ہو چکے تھے ۔

ایسی حالت میں ضرورت تھی کہ لمبی اور خاموش جد وجہد کے ذریعہ جدید مسلم نسلوں کے دماغ میں دوبارہ قرآن کی روشنی پیدا کی جائے اور ان کے دلوں کو دوبارہ خدا کے خوف سے کانپنے والا بنایا جائے ۔ یہ ایک بے حد صبر آزما کام تھا۔ مگر مسلم رہنماؤں نے اس داخلی محاذ پر محنت کیے بغیر خارجی نعروں پر قوم کو دوڑا نا شروع کر دیا۔ چنانچہ ان کی ساری کوششوں کا انجام اس چھت کا سا ہوا جو دیمک زدہ لکڑی کے اوپر کھڑی کر دی گئی ہو۔

اس رہنمائی میں دوسری بھیانک غلطی یہ تھی کہ انہوں نے زمانےکے فرق کو نہیں سمجھا۔ زمانہ میں "تلوار" طاقت کا نشان تھی ، موجودہ زمانہ میں "علم" طاقت کا نشان ہے۔ مگر مسلم رہنما اندوہناک حد تک اس فرق سے بے خبر رہے ۔ انھوں نے ناقابل فہم نادانی کے تحت سائنس کے دور میں ہر طرف تلوار کا ترانہ گانا شروع کر دیا ۔

اس غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری کی پوری نسل جنگ جویانہ ذہنیت میں مبتلا ہوگئی۔ ہر شخص بس جنگ اور ٹکراؤ کی اصطلاحوں میں سوچنے لگا ۔ جس کے پاس تلواری جنگ چھیڑنے کا موقع تھا ۔ اس نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف تلواری جنگ چھیڑ دی ۔ اور جن لوگوں کے پاس صرف الفاظ تھے ، انھوں نے الفاظ کی لا متناہی بم باری کا مشغلہ اپنے لیے اختیار کر لیا۔ اس انداز کار کے نتیجہ میں نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ اب مسلمانوں میں وہی آوازیں مقبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہیں جو جنگ جویانہ لہجے میں بولی گئی ہوں ۔ تعمیر اور حقیقت پسندی کی بات مسلمانوں کو اپیل نہیں کرتی ۔ جنگ جویانہ نعروں پر فی الفور ان کی بھیڑ جمع کی جا سکتی ہے مگر پر امن اور خاموش پروگرام کے نام پر انہیں بلائیے تو آپ کا پنڈال بالکل سونا پڑا رہے گا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا پورا ادب اور ان کی تمام سرگرمیاں اسی نہج پر قائم ہوگئی ان کی ہر تحریک میں کسی نہ کسی اعتبار سے یہی روح کار فرما ہے۔ آپ ان کے جس

فکری یا عملی رخ کا مطالعہ کیجئے، ہر جگہ آپ کو اسی کی جھنکار سنائی دے گی۔ نثر کے دور میں شاعری، خاموش تدبیر کے دور میں خطابت، عملی منصوبہ بندی کے دور میں لفظی ہنگامہ آرائی۔ تعمیر کے دور میں تخریب، پر امن جدوجہد کے دور میں عسکری سرگرمی، سائنسی تفکیر کے دور میں روایتی تفکیر، حقائق کی بنیاد پر اٹھنے کے دور میں خوش خیالیوں کی بنیاد پر اٹھنے کا خواب ــــــ سب اسی کے مظاہر ہیں، اور یہی مختصر طور پر موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنماؤں کی رہنمائی کا خلاصہ ہے۔ اس قسم کی ہر کوشش خلاف زمانہ حرکت (anachronism) کی مصداق سکتی، اور خلاف زمانہ حرکت کبھی کسی کے لیے نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ ملت کے کاروان کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے شاعری اور خطابت اور انشا پردازی کا انداز صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہے۔ اس قسم کی پر جوش لفاظی کا نتیجہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ایک پچٹری ہوئی قوم دوبارہ خوش فہمیوں کے گڑھے میں گر کر رہ جائے۔

اس وقت کرنے کا کام یہ ہے کہ ملت کے افراد میں دوبارہ سچی دینی روح پیدا کی جائے۔ کی سطح سے اٹھا کر "کلمہ فہم" کی سطح پر لایا جائے۔ تقلیدی ایمان کی جگہ ان کے اندر زندہ اور شعوری ایمان پیدا کیا جائے۔ ان کے عقیدہ کو دوبارہ فکری انقلاب بنا دیا جائے۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ملت کو عصر حاضر کے تقاضوں سے باخبر کیا جائے ۔ ایک روایت میں مومن کو بصیرا بزمانه (اپنے زمانہ سے باخبر انسان) بتایا گیا ہے۔ یہ بلاشبہ انتہائی اہم ہے۔ بغیر ملت کا قافلہ اپنی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

نمبر ۱ ایمان نمبر ۵ تعمیر ملت نمبر ۲ اسلامی دعوت کے جدید امکانات نمبر ۶ سنت رسول نمبر ۳ اسلامی اخلاق نمبر ۷ میدان عمل نمبر ۴ اتحاد نمبر ۸ پیغمبرانہ رہنمائی (زیر تیاری)

Printed page