A Brief History of Times
Al-Risala, July 1990, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک بہت دلچسپ اور سبق آموز کتاب ہے۔ وہ اتنی مقبول ہوئی کہ صرف ایک سال میں اس کے چودہ ایڈیشن چھاپے گئے۔ اس کتاب کا آغاز حسب ذیل سطروں سے ہوتا ہے : "ایک مشہور سائنس داں نے ایک بار فلکیات کے موضوع پر ایک عوامی لکچر دیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ برٹرینڈ رسل تھا۔ اس نے بتایا کہ کس طرح زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور کس طرح سورج ہماری کہکشاں کے مرکز میں گھومتا ہے جو کثیر ستاروں کا ایک مجموعہ ہے۔ لکچر کے خاتمہ پر ایک چھوٹی بوڑھی عورت
کمرہ کے پچھلے حصہ سے اٹھی اور کہا: تم نے جو کچھ ہمیں بتایا وہ بالکل لغو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا پلیٹ کی مانند چپٹی ہے جو ایک بہت بڑے کچھواے کی پیٹھ پر ٹکی ہوئی ہے۔ سائنس داں جواب دینے سے پہلے فاتحانہ انداز سے مسکرایا اور پھر خاتون سے پوچھا کہ یہ کچھوا کس چیز کے اوپر کھڑا ہے۔ عورت بولی؛ اے نوجوان، تم بہت چالاک ہو، مگر یہ کچھوے پر کچھو ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ نیچے تک چلا گیا ہے۔
بہت سے لوگ ہماری دنیا کی اس تصویر کو مضحکہ خیز سمجھیں گے کہ کچھوؤں کا ایک لامتناہی کھنبہ ہے جس کے اوپر یہ زمین ٹھہری ہوئی ہے۔ مگر کیوں ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ اس سے بہتر ہے۔ ہم کائنات کے بارہ میں کیا جانتے ہیں اور ہم کس طرح اس کو جانتے ہیں۔ سے آئی اور وہ کہاں جارہی ہے۔ کیا کائنات کا ایک آغاز ہے اور اگر ایسا ہے تو اس سے پہلے جو گزرا وہ کیا تھا۔ وقت کی نوعیت کیا ہے۔ کیا وہ کبھی ختم ہوگا ۔ فزکس کے حالیہ انکشافات نے جزئی طور پر نئی حیرت ناک مُمکنُ الوجی کو ممکن بنا دیا ہے۔ اس سے کچھ قدیم سوالوں کے جواب معلوم کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ کچھ دن تک یہ جوابات ہم کو اسی طرح واضح دکھائی دے سکتے ہیں جیسے کہ سورج کے گرد زمین کا گھومنا۔ یا شاید وہ آئندہ اتنے ہی مضحکہ خیز نظر آنے لگیں جیسا کہ کچھوؤں کا کھمبا۔ صرف وقت، خواہ وہ جو بھی ہو، اس کے بارہ میں بتا سکے گا۔ جدید نظریات کے مضحکہ خیز ثابت ہونے کے لئے ہمیں مستقبل کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اہل دانش کے لئے ان کا مضحکہ خیز ہونا آج ہی معلوم اور ثابت شدہ ہے۔ مثلاً جدید سائنسی فکر کے مطابق دنیا کے واقعات اسباب وعلل کی ایک زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں۔ ہر واقعہ کے پیچھے ایک سبب ہے، اور پھر اس سبب کے پیچھے ایک اور سبب۔ اس طرح یہ سلسلہ برابر چلا جارہا ہے۔ اس قسم کا لامناہی سلسلہ اسباب بلا شبہ اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا کہ کچھوؤں کی لامناہی قطار۔ زندگی اور کائنات کی حقیقت کے بارہ میں آج کا انسان عجیب عجیب غلط فہمیوں میں پڑا ہوا کوئی سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک بے مقصد ہنگامہ ہے۔ وہ اپنے آپ شروع ہوا اور اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ کسی کا خیال ہے کہ بہت سی روحیں یا دیوتا ہیں جو اس دنیا کے مالک ہیں۔ اسباب وعلل یا قانون اتفاق (law of chance) کے تحت اس کی تشریح کر رہا ہے : وغیرہ
یہ تمام باتیں بلاشبہ لغو ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک خدا ہے جو تمام چیزوں کا مالک اسی نے انسان کو اور کائنات کو پیدا کیا۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ یہ دنیا کوئی الٹپ یا بے مقصد دنیا نہیں ۔ یہ خدا کے منصوبہ کے مطابق ہے۔ اس کا آغاز اور اس کا انجام دونوں منصوبہ خداوندی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : مذہب اور جدید چیلنج) انسان کے بارہ میں خدا کا منصوبہ یہ ہے کہ اس نے انھیں پیدا کر کے امتحان کے لئے موجودہ دنیا میں رکھا ہے۔ اس کا یہ امتحان پیدائش سے موت تک جاری رہتا ہے۔ موت کے بعد ہر آدمی کے جزاء کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ موت کے بعد ہر آدمی اپنے دنیوی عمل کے مطابق ، یا تو جنت کی پر راحت زندگی پائے گا یا جہنم کے عذاب خانہ میں داخل کر دیا جائے گا۔
موجودہ دنیا میں آدمی کے پاس جو کچھ ہے وہ رہنے کے لئے امتحان ہے ، آخرت میں جو کچھ اس کو دیا جائے گا وہ رہنے کے استحقاق ہوگا۔ یہ فرق پورے معاملے کو آخری حد تک بدل دے گا۔ دنیا میں ہر چیز ہر آدمی کو ملی ہوئی ہے۔ کیوں کہ امتحان کے لئے اس کو سب کچھ دینا ضروری تھا۔ چیزیں اور مواقع نہ دئے جائیں تو آدمی کا امتحان کیسے ہوگا۔ مگر موت کے بعد آنے والی دنیا میں صورت حال یکسر بدل جائے گی۔
جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنا استحقاق ثابت نہ کر سکے ، وہ آخرت کے عالم میں اس طرح داخل ہو گا کہ وہاں وہ بالکل خالی ہاتھ ہو گا۔ ہوا اور پانی اور روشنی بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیں وہ اچانک اپنے آپ کو بے بسی کے عالم میں پائے گا۔ موجودہ دنیا میں اس کو ہر چیز اپنی نظر آتی ہے ۔ آخرت میں ہر چیز اس کے لئے غیر ہو جائے گی۔ وہ ایسے ماحول میں ہو گا جہاں اجنبیت اور بے چاری کے سوا کوئی اس کا استقبال کرنے والا نہیں ۔
یہی وہ صورت حال ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہے ، اگر تم سچے ہو۔ کاش یہ انکار کرنے والے اس وقت کو جانتے جب وہ آگ کو اپنے سامنے سے نہ روک سکیں گے اور نہ اپنے پیچھے سے ۔ اور نہ ان کو مدد پہنچے گی۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آ جائے گی ، پس وہ حیران رہ جائیں گے ، پھر وہ نہ اس کو دفع کر سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی (الانبیاء ، ۳۸ - ۴۰ )