تعلیم قومی ترقی کی بنیاد
Al-Risala, July 1990, pp. 28–31
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی ترقی (نیشنل ڈویلپ منٹ) کا مسئلہ، بنیادی طور پر فرد کی ترقی (انڈویجول ڈویلپ منٹ) کا مسئلہ ہے۔ جس طرح کسی مشین کی درست کارکردگی کی ضمانت یہ ہے کہ اس کے پرزے درست ہوں، اسی طرح کسی سوسائٹی کے بہتر سوسائٹی ہونے کا دارو مدار اس پر ہے کہ اس کے افراد صحیح افراد
قومی تعمیر کا کام دراصل فرد کی تعمیر سے شروع ہوتا ہے ۔ اور فرد کی تعمیر کا کام یہ ہے کہ فرد کو تعلیم یافتہ بنایا جائے ۔ پڑھا لکھا آدمی باتوں کی گہرائی کو سمجھتا ہے ۔ مزید یہ کہ پڑھے لکھے آدمی ہی کو گہری باتیں بتائی جاسکتی ہیں۔ جاہل آدمی صرف سطحی نعروں کو جانتا ہے ۔ اور جس قوم کے افراد صرف سطحی نعروں کو جانیں ، باتوں کی اصلیت کو نہ جانیں ، ان کو کسی بھی طرح بربادی سے بچایا نہیں جا سکتا۔ اس اعتبار سے قوم کی ترقی کے لئے ہمیں جو کام سب سے پہلے کرنا تھا یا آج جس کام کو سب سے زیادہ کرنا ہے، وہ تعلیم ہے۔ اور بدقسمتی سے، ہمارے یہاں پر شور تحریکوں کے باوجود سب سے زیادہ اسی اہم ترین پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ہمارے رہنماؤں نے سوچا کہ ملک کو اگر خود اپنی سیاسی بنیاد (پولیٹیکل بیس) حاصل ہو جائے تو اس کے بعد ملک تیزی سے ترقی کرنے لگے گا۔ ۱۹۴۷ کی آزادی نے ملک کو یہ سیاسی بنیاد دے دی۔ مگر قومی ترقی کا خواب اس کے باوجود پورا
۱۹۴۷ کے بعد جن رہنماؤں کے ہاتھ میں ملک کا اقتدار آیا، ان کی سوچ زیادہ تر یہ تھی کہ ملک کو صنعتی بنیاد (انڈسٹریل بیس) حاصل ہو جائے تو وہ ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ چنانچہ سب سے زیادہ زور اسی پہلو پر دیا گیا۔ مگر قومی دولت کا سب سے زیادہ حصہ صنعتی ادارے قائم کرنے پر خرچ کرنے کے باوجود آج بھی ملک اس منزل سے محروم ہے جس کو قومی ترقی کہا جاتا ہے۔ یہ ہے کہ پولیٹیکل بیس یا انڈسٹریل بیس کا درجہ قومی ترقی میں نمبر ۲ پر ہے۔ نمبر ایک درجہ پر جو چیز درکار ہے وہ انٹلیکچول بیس ہے اور وہ ابھی صحیح معنوں میں ملک کو حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے مقابلہ میں آپ جاپان کو دیکھئے ۔ جاپان نے اپنا موجودہ سفر تقریباً اسی وقت شروع
کیا جب کہ ہندوستان نے آزادی کے بعد اپنا سفر شروع کیا۔ آج جاپان عالمی ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں ٹاپ پر شمار ہوتا ہے جب کہ ہندوستان عالمی ترقی کے نقشہ میں کہیں موجود نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ جاپان نے اول دن تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔ چنانچہ جاپان میں نہ صرف لازمی تعلیم رائج کی گئی ۔ بلکہ وہاں اسکول کے معیار کو اتنا اونچا کیا گیا کہ اسکول کے ماسٹروں کے لئے منسٹروں کی تنخواہیں مقرر کی گئیں ۔ ان کو سماج میں سب سے معزز درجہ دیا گیا۔ اور اس فیصلہ پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ عمل شروع کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان کی جدید نسل پوری کی پوری ایسے تعلیمی اداروں میں پہنچ گئی جہاں ان کو پڑھانے کے لئے ملک کے بہترین قابلیت والے لوگ موجود تھے۔ اس کا فائدہ انھیں یہ ملا کہ صرف ربع صدی میں جاپان میں ایک نئی تعلیم یافتہ نسل تیار ہوگئی۔
یہ تعلیم جاپان کی ترقی کے لئے انتہائی ضروری تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان کو ایک نیا انقلابی فیصلہ لینا تھا۔ وہ فیصلہ جس کو جاپانیوں نے معکوس راستہ (reverse course) کا نام دیا ہے۔ جاپان ، دوسری عالمی جنگ سے پہلے، جنگ اور ٹکراؤ کے راستہ پر چل رہا تھا۔ جنگ کے بعد نئی ترقی کے امکان کو حاصل کرنے کے لئے اس کو امن اور مفاہمت کے راستہ پر چلنا تھا۔ یہ گویا یاپہیہ کے رخ کو الٹی طرف گھمانا تھا۔ یہ بلاشبہ انتہائی مشکل فیصلہ تھا اور صرف اعلیٰ درجہ کے باشعور دماغ ہی ایسا انقلابی فیصلہ لے سکتے تھے۔ جاپان کے لئے تعلیم پر زور دینے کی وجہ سے یہ ممکن ہو اکه وہ اتنا انقلابی فیصلہ لے سکے اور مختصر مدت میں اس کا پھل پاسکے۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان کے لوگ وحشی سمجھے جاتے تھے ۔ آج وہ بہترین مہذب لوگ ہیں۔ اس سے پہلے وہ سب سے زیادہ جنگ جو قوم تھے ، آج سب سے زیادہ امن پسند قوم ہیں۔ جنگ کی ہاری ہوئی اور برباد قوم نے چالیس سال کے مختصر عرصہ میں صنعتی دیو (industrial giant) کی صورت اختیار کرلی ہے اور یہ سب کارنامہ ہے اس بات کا کہ انھوں نے اپنے افراد کو تعلیم یافتہ افراد بنانے پر سار ازور صرف کیا۔
میرے نزدیک ہندوستان کی ترقی کاراز صرف ایک ہے ، اور اس وقت تک ترقی رکی رہے گی جب تک یہ شرط پوری نہ کی جائے ۔ اور وہ ہے افراد کو تعلیم یافتہ بنانا۔ اب ہمارا سب سے پہلا نشانہ
صرف ایک ہنا چاہئے۔ یعنی لازمی تعلیم اور صد فی صد تعلیم ۔ اس سے کم کی کوئی بھی چیز ہمیں ترقی یافتہ قوم نہیں بنا سکتی۔
ہندوستان کی ۸۵ فی صد آبادی ابھی تک تقریباً جاہل ہے۔ ایسی حالت میں ہندوستان جیسے بڑے ملک کے لئے ”لازمی تعلیم اور صد فی صد تعلیم“ کا منصوبہ کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ بلا شبہ انتہائی مشکل کام ہے۔ اس پر سچائی کے ساتھ عمل کرنے کے لئے ہمیں اپنی سوچ میں انقلابی تبدیلی لانی پڑے گی۔ مثلاً ملکی دفاع کے موجودہ بجٹ میں قابل لحاظ حد تک کمی کرنا ، وغیرہ ۔ ہمیں خطرات کو نظر اند از کے اس کام کی طرف آگے بڑھنا ہو گا ۔ اس کے بغیر قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ہر گز ممکن نہیں۔ یہاں میں دوبارہ کہوں گا کہ اگر ہم ایسا حوصلہ کریں تو ہم اس میدان میں اکیلے نہیں ہوں گے مثلاً جاپان نے جو معجزاتی ترقی کی ہے ، اس کی ایک زبر دست قیمت اس کو ادا کرنی پڑی۔ اس کو وہ کام کرنا پڑا جس کو جاپان کے سابق شہنشاہ، ہیرو و ہیٹو نے ” نا قابل بر داشت کو بر داشت کرنا“ بتایا تھا۔ یہ ناقابل بر داشت چیز امریکہ کے سیاسی اور فوجی غلبہ کا مسئلہ تھا۔ جاپان اگر دوسری عالمی جنگ کے بعد اس مسئلہ کو چھیڑتا تو وہ تعلیم و ترقی کی راہ میں آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ اس نے اس اصول پر عمل کیا کہ ۔ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو : Starve the problems, feed the opportunities. جاپان نے امریکی غلبہ کے مسئلہ کو نظر انداز کر کیا ، اور جو میدان اب بھی اس کے لئے کھلا تھا ، یعنی اپنی نسل کو تعلیم یافتہ بنانا ، اس پر اپنی ساری توجہ لگا دی۔ اس تدبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال میں پوری تاریخ بدل گئی۔
آخر میں یہاں میں پیغمبرِ اسلام کا ایک واقعہ نقل کرنا چاہتا ہوں جو اس معاملہ میں ہمارے لئے بہت حوصلہ افزا مثال پیش کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام کو اپنے مخالفین کے ساتھ چند دفاعی جنگیں لڑنی پڑیں۔ ان میں سے ایک جنگ وہ ہے جو جنگِ بدر کہی جاتی ہے۔ اس جنگ کے بعد آپ کے پاس دشمن کے ۷۰ افراد جنگی قیدی کے طور یہ لوگ مکہ کے تھے۔ آپ نے ان قیدیوں کا یہ فدیہ مقرر کیا کہ ان میں سے ہر ایک شخص اگر مسلمانوں کے دس نو جوانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اس کو رہا کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا اسکول تھا جو خود پیغمبر نے قائم کیا۔ اس اسکول کے تمام ٹیچر نہ صرف غیر مسلم بلکہ اسلام کے ثابت شدہ دشمن تھے۔ مزید یہ کہ ان لوگوں کو رصع کرنے میں یہ یقینی خطرہ تھا کہ وہ لوگ دوبارہ منظم ہو کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جارحیت کریں گے۔ مگر ان تمام ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ نے ان کے ذریعہ سے اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا۔ علم اور تعلیم کو یہ غیر معمولی اہمیت دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ دور اول کے مسلمانوں میں یہ روایت قائم ہو گئی کہ علم سب سے بڑی چیز ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو جب مواقع ملے تو انھوں نے سب سے زیادہ علم کی طرف توجہ دی۔ انھوں نے اپنی ہر مسجد اور ہر گھر کو مدرسہ بنا دیا۔ انھوں نے بے شمار تعداد میں یونیورسٹیاں اور کتب خانے قائم کئے۔ تمام دنیا کی کتابیں (بشمول ہندوستان) جمع کر کے ان کا عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا ۔
ان علمی اور تعلیمی سرگرمیوں کے نتیجہ میں ایک نئی تہذیب وجود میں آئی ۔ توہماتی دور کی جگہ ایک نیا سائنٹفک دور پیدا ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ وہ واقعہ ظہور میں آیا جس کو ایک امریکی انسائیکلو پیڈیا میں ” اسلام “ کے مقالہ کے تحت بتایا گیا ہے کہ اسلام نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل