Al-Risala · July 1990

Its advent changed the course of human history.

Al-Risala, July 1990, pp. 31–43

By Maulana Wahiduddin Khan

علم ہی تمام ترقیوں کی بنیاد ہے ، خواہ مذہبی ترقی کا معاملہ ہو یا سیکولر ترقی کا معاملہ۔ اس لئے جو لوگ بھی حقیقی ترقی چاہتے ہوں، انھیں چاہئے کہ سب سے زیادہ تعلیم اور مطالعہ پر زور تعلیم اور مطالعہ افراد کو باشعور بناتا ہے، اور باشعور افراد ہی کسی گہری بات کو سمجھتے ہیں، باشعور افراد ہی اس دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔

صفحات ۱۹۶ ہدیہ ۲۰ روپیہ

انہوں نے کہا کہ اسی " تعمیر ہی لادوا " کو پکانے کے لئے الرسالہ کا مسلسل جاری رہنا ضروری ہے ، پھر آپ نے اپنے بعد اس کا کیا انتظام کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مشن آج بھی اللہ کی مدد سے جاری ہے ، اور آئندہ بھی اللہ نے چاہا تو اس کی مدد سے وہ جاری رہے گا۔ تاہم اسباب کے درجہ میں میں کہہ سکتا ہوں کہ جس قسم کے افراد دوسری تحریکوں کے پاس ہمیں اور ان تحریکوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، اس قسم کے افراد ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ پھر جس درجہ کے افراد دوسری تحریکوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، اسی درجہ کے افراد اس تحریک کو کیوں جاری نہیں رکھ سکتے۔

اس کانفرنس میں میں نے کوئی مقالہ پیش نہیں کیا۔ یہ کانفرنس مقالات کے لئے نہیں تھی ۔ اس میں کسی کا بھی کوئی مقالہ پیش نہیں ہوا۔ اس کانفرنس کا خاص موضوع دو چیزوں پر غور کرنا تھا۔ مختلف علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کا اتحاد ۔ دوسرے ، عالم اسلام کو پیش آنے والے خطرات و مسائل ۔

لوگوں نے اپنے اپنے ذہن کے مطابق مختلف باتیں کہیں۔ میری رائے یہ تھی کہ مسلم دنیا کا اتحاد محض ایک کانفرنس کر کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے مستقل اور متواتر کوشش کرنا ہوگا۔ اس کوشش کا خاص نکتہ یہ ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو جائیں۔ اس دنیا میں کبھی اتحاد کی بنیاد پر اتحاد نہیں ہوتا بلکہ اختلاف کی بنیاد پر اتحاد ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس نکتہ سے بے خبر ہیں۔ اس لئے وہ جگہ جگہ لڑ رہے ہیں۔ کرنے والی باتوں میں ٹکر اؤ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے اندر جس دن " اختلاف کے باوجود اتحاد " کا مزاج آجائے گا اسی دن ان کے درمیان عملاً اتحادقائم ہو چکا ہو گا۔

خطرات و مسائل کے بارے میں میں نے کہا کہ خطرات و مسائل اگرچہ بظاہر ہمارے باہر نظر آتے ہیں۔ مگر خطرات و مسائل کے اسباب ہمارے اپنے اندر ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بے شعوری ، ان کے اندر مقابلہ کی استعداد کی کمی ، زمانی قوت میں ان کا پیچھے ہو جانا ، یہ اصل اسباب ہیں جنھوں نے موجودہ مسلمانوں کو ہر جگہ خطرات و مسائل میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس لئے اس بظاہر بیرونی مسئلہ کے لئے بھی ہیں سب سے زیادہ اپنے داخلی محاذ پر محنت کرنا چاہئے۔

ہوٹل کے طعام گاہ میں ایک میز پر ہم تین آدمی دن کا کھانا کھا رہے تھے۔ میرے سوا ایک شارجہ

کے تھے اور دوسرے مصر کے۔ کچھ دیر بعد ایک اور مصری ڈاکٹر آئے۔ وہ ہمارے قریب والی کرسی پر انھوں نے ایک منٹ انتظار کے بعد ہوٹل کے آدمی کو مخاطب کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا: هل المتأخرون يأكلون ام لا يأكلون (بعد کو آنے والے کھائیں گے یا نہیں) تھوڑی ہی دیر میں آدمی نے کھانے کی پلیٹ لا کر ان کے سامنے رکھ دی۔ حالانکہ عام حالت میں انھیں دیر میں کھانا پہنچنا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ مزاح اکثر حالات میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ وہ کھانے کے پورے وقت میں مزاحیہ انداز میں باتیں کرتے رہے۔

اکثر لوگوں کا انداز یہی ہوتا ہے۔ مگر مجھے ذاتی طور پر یہ انداز بالکل پسند نہیں۔ جس وقت کھانا سامنے رکھا ہوا ہو، وہ انتہائی سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے۔ کھانا اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمت ہے۔ وقت وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی پر سب سے زیادہ شکر کا جذبہ طاری ہونا چاہئے۔ ایسے موقع پر مزاحیہ کلام شکر کے احساسات کا قاتل ہے۔ دسترخوان کے اوپر سب سے بڑا کلام یہ ہے کہ آدمی خاموش رہے اور اللہ کو یاد کرتے ہوئے کھانا کھائے۔

ایک مشہور عرب شخصیت کے بارہ میں ایک صاحب نے بتایا کہ وہ آپ کی الاسلام تجدی جیسی کتابوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کا کہنا ہے کہ وحید الدین خاں آخرت پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں، مگر قرآن میں آخرت کی اتنی زیادہ اہمیت نہیں پائی جاتی (الشیخ وحيد الدين يركز على الآخرة، و الآخرة ليس لها الهمية في القرآن)

میں نے کہا کہ قرآن کے بارہ میں یہ ایک ایسے شخص کا تاثر ہے جو مسلمان ہے۔ ہندوستان میں ایک ہند و تعلیم یافتہ شخص کو قرآن کا ہندی ترجمہ دیا گیا۔ اس نے پڑھنے کے بعد اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ قرآن کو پڑھ کر تو میں بہت ڈرگیا۔ کیوں کہ اس میں تو سب آخرت اور حساب و کتاب کی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔

ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ مسلم ملکوں میں ہر جگہ جبر ہے۔ مگر اس جبر کو ختم کرنے کے لئے کوئی طاقت ور تحریک نہیں اٹھتی۔ میں نے کہا کہ یہ تفکیر پیغمبرانہ تفکیر کے مطابق نہیں۔ پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جبر (سیاست میں بگاڑ) کو برداشت کرتا ہے۔ وہ اپنی ساری کوشش شرک (عقیدہ میں بگاڑ) کو درست کرنے پر لگا دیتا ہے۔ جبر کو ختم کرنے کا کام خود خدا نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔

کو ختم کرنے کی ذمہ داری داعی کے اوپر ڈالی گئی ہے۔

جبر کو قانون خداوندی کے تحت بہر حال ختم ہونا ہے۔ اس لئے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ عقیدہ کی اصلاح ، ذہن کی تربیت اور اخلاق کی تعمیر پر محنت صرف کی جائے۔ تا کہ جب خدا جابروں کے اقتدار کو توڑے تو صالح افراد کا ایک قابل اعتما دگر وہ اس کی جگہ لینے کے لئے معاشرہ میں موجود ہو۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قائدین کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے سیاسی جبر کے نظام کو توڑنے کو اولین اہمیت دے دی۔ وہ اپنی ساری توجہ اور محنت اسی محاذ پر صرف کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ایک سیاسی جبر ٹوٹا تو اس کی جگہ دوسرے سیاسی جبر نے لے لی، کیونکہ اس کی جگہ لینے کے لئے کوئی قابل اعتماد صالح گروہ وہاں موجود نہ تھا۔ مثلاً مصر کے اسلام پسندوں نے شاہ فاروق کے سیاسی جبر (۱۹۵۲) کو توڑا تو اس کے فوراً بعد جمال عبد الناصر کا سیاسی جبر قائم ہو گیا۔ پاکستان کے اسلام پسندوں نے ایوب خاں کے سیاسی جبر (۱۹۶۹) کو توڑا تو اس کے بعد جو چیز وہاں قائم ہوئی وہ مسٹر بھٹو کا سیاسی جبر تھا۔ ایک صاحب نے جنرل محمد ضیاء الحق کی۔ بہت تعریف کی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں جنرل ضیاء الحق صاحب کا خاص کارنامہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے نزدیک ان کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے ایوان میں حق کی آواز بلند کی۔ میں نے کہا کہ جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے ساڑھے گیارہ سالہ دور حکومت (۸۸- ۱۹۷۷) کے دوران میرے نزدیک اسلام یا ملت اسلام کا کوئی حقیقی کام نہیں کیا۔ جو کام ان کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں (مثلاً اقوام متحدہ میں تقریر کرنا) وہ سب اخباری اہمیت کے کام ہیں نہ کہ حقیقی اہمیت البتہ صدر ضیاء الحق کے ذریعہ ایک کا رنامہ ضرور انجام پایا ہے۔ اور وہ ہے ایک افسانہ کا خاتمہ۔ ان کے ذریعہ پاکستان کا اسلام پسند طبقہ مکمل طور پر ایکسپوز (expose) ہو گیا۔ ضیاء الحق صاحب نے حکومت کے اندر اور حکومت کے باہر وہاں کی اسلام پسند جماعت اور وہاں کے علماء کو مکمل مواقع مگر ان لوگوں نے صرف یہ ثابت کیا کہ وہ لوگ اس کام کے لئے آخری حد تک نااہل ہیں۔ حکومتی عہدوں کو اسلامی انداز پر سنبھالنے کی استعد ادر کھتے ہیں اور نہ حکومت کے باہر کوئی گہرا تعمیری کام کرنے کی صلاحیت ان کے اندر موجود ہے۔

موجودہ حالت میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ خاموش فکری مہم کے ذریعہ ذہنوں کو بدلا

اس کو '' تبیشعور‘‘ کی مہم کہا جاسکتا ہے ۔ یہ کام اگر صحیح انداز میں کیا جائے تو کچھ عرصہ کے بعد ایک طرف اعلیٰ صلاحیت کے افراد کی ایک باشعور ٹیم تیار ہو جائے گی جو ذمہ دارانہ مناصب کو چلانے کی اہل ہو ۔ دوسری طرف عمومی سطح پر معاشرہ میں صالح تعمیری فضا پیدا ہو جائے گی یہی دونوں وہ چیزیں ہیں جو ایک جابرانہ نظام کے ٹوٹنے کے بعد دوسرے صالح نظام کے قیام کی ضمانت بن سکتی ہیں ۔ یہی وہ ''صبر‘‘ ہے جس کا قرآن کی اس آیت میں ذکر ہے : وجعلنا منهم ائمة يهدون بِأَمۡرِنَا ‌لَمَّا صبروا ۔

یہاں جس نشست یا جس مجلس میں بھی مجھ کو بولنے کا موقع ملا ، میں نے دعوت کی بات کہی ۔ نشست میں میں نے کہا کہ اللہ کی سب سے بڑی مرضی ، قرآن وحدیث کے مطابق ، یہ ہے کہ اس کے بندے آگ میں جانے سے بچیں ۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ اس کے دین کا پیغام ہر ملک میں اور ہر گھر میں پہنچ جائے ۔ اس کام کی تکمیل دورِ آخر میں ہونے والی ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ لا يبقى على ظهر الارض بيت مدر ولا وبر الا ادخله الله كلمة الاسلام ۔ حدیث کے راوی اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس وقت دین پور اکا پور ا اللہ کے لئے ہو جائے گا ( قلت فيكون الدين كله لله)

اس کے ساتھ اس واقعہ کو ملا لیجئے کہ موجودہ زمانہ میں پہلی بار وہ وسائل اعلام انسان کے قبضہ میں آئے ہیں جو اس قسم کی عالمی اشاعتِ دین کو ممکن بنا دیں ۔ ان دونوں باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد یہ کہنا صحیح ہو گا کہ آج اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی مرضی یہ ہے کہ اللہ کے سچے دین کی آواز تمام دنیا اور ہر گھر میں پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔ یہ کام اتنا اہم ہے کہ مسلمانوں کو ہر دوسرا کام چھوڑ کر اس کو انجام دینا ہو گا ۔ کیوں کہ اس کے بغیر اس کام کو موثر طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا ۔ طور پر اگر ہم اسلام کی مخاطب قوموں سے غیر دعوتی عنوانات پر ٹکراؤ کرتے رہیں تو وہ فضا درہم برہم ہو جائے گی جب کہ کسی شخص تک دین کا پیغام پہنچایا جائے اور وہ اس کو سنجیدگی کے ساتھ سنے اور اس پر غور کرے ۔

ایک اور نشست میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جو مسلم جماعتیں مسلم حکمرا نوں سے ٹکراؤ کر رہی ہیں ، اس کو میں سراسر لغو سمجھتا ہوں ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام

کا مقصد صالح نظام بنانا ہے۔ اور صالح نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ زمانہ کی مسلم حکومتیں ہیں جو سیاسی جبر کے اوپر قائم ہیں۔ اگر ہم اس سیاسی جبر کا خاتمہ نہ کریں تو ہم کبھی بھی صالح نظام قائم کرنئے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

میں نے کہا کہ جبر (اجباری نظام) کو ٹوٹنے کے لئے ہمیں براہ راست جدوجہد کرنے کی یہ کام خود خدا کی طرف سے زیادہ مؤثر طور پر انجام دیا جارہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا کو خدا نے امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ امتحان کی مصلحت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ لوگوں کو اپنے عمل کی آزادی ہو۔ اگر کسی آدمی کا ہاتھ پاؤں باندھ دیا جائے تو اس پر یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا کہ اس نے مسجد میں جاکر نماز ادا نہیں کی۔

رات کا اندھیرا خود بخود ختم ہوتا ہے۔ رات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں اس سے براہ راست لڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنے اندر یہ استعداد پیدا کریں کہ جب رات ختم ہو کر دن آئے تو ہم اس کو پوری طرح استعمال کر سکیں۔ اسی طرح نظام جبر کے دوران ہمیں یہ تیاری کرنا چاہئے کہ جب خدا اس کو ختم کرے تو ہم نے مواقع کو استعمال کرکے صالح نظام کی تعمیر کرسکیں۔ ۱۹۸۹ء کے درمیان روس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے اسی قانون کی بنا پر ہے۔ سوویت یونین نے زمین کے ایک بڑے رقبہ پر کامل جبر کا نظام قائم کر دیا تھا۔ یہ صورت حال خدا کی مصلحت کے سراسر خلاف تھی۔ یہ خدا کی دی ہوئی امتحانی آزادی کو ساقط کرنے کے ہم معنی تھا۔ خدا کی طاقت ظاہر ہوئی اور اس نے حیرت انگیز طور پر سوویت ایمپائر کو توڑ دیا۔ موجودہ زمانہ کے اسلام پسند رہنما اپنے حصہ کا کام نہیں کرتے۔ وہ خدا کے حصہ کا کام کرنے کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب خدا نظام جبر کو توڑتا ہے تو اسلام پسند قائدین اس حیثیت میں نہیں ہوتے کہ وہ سابق نظام کی جگہ لے سکیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک جبر کے بعد دوسرا جبر اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ یا نظام جبر توڑنے کا فائدہ صرف ان لوگوں کے حصہ میں چلا جاتا ہے جو آزادی کو بے راہ روی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

کھانے کی میز پر دو آدمی بات کر رہے تھے۔ ایک قبرص کے تھے، دوسرے سریام کے۔ دونوں میں تعارف ہوا۔ گفتگو ہونے لگی۔ ایک صاحب اپنے ملک کی پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔

صاحب ایک تنظیم کے سیکریٹری تھے ۔ ایک نے دوسرے سے کچھ معلومات اپنے ملک کے بارے میں بھیجنے کے لئے کہا ۔ دوسرے نے کہا کہ ضرور بھیجوں گا ۔ آپ اپنا فیکس (Fax) نمبر دیجیئے ۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید وسائل کے ظہور نے موجودہ زمانہ میں مواصلات کو کتنا تیز رفتار بنا دیا ہے ۔ ڈاک اور تار اور ٹیلیکس اب ’’ فرسودہ ‘‘ چیز بن چکے ہیں ۔ اب آدمی ’’ فیکس ‘‘ کی رفتار سے مواصلاتی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے ۔ ہمارے اسلامی ادارے ابھی اس سے بہت دور ہیں کہ ان کے یہاں فیکس کا طریقہ استعمال ہونے لگے ۔ اگر کسی ادارہ میں کسی ’’ شیخ ‘‘ کی فیاضی سے فیکس کی مشین لگ گئی ہو ، تب بھی وہ عملاً بے فائدہ ہے ۔ مواصلاتی ذرائع کا شیبی ارتقا ، جس بلندی تک پہنچا ہے ، اسلامی اداروں کا شعوری ارتقا ، ابھی جب تک اس بلندی تک نہ پہنچے ، اس وقت تک فیکس جیسی چیزوں کا صحیح استعمال ان اداروں میں ممکن نہیں ۔

عربوں کی ایک مجلس میں میں نے اسلام کے روحی پہلو پر گفتگو کی ۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال اس آیت جیسا ہو رہا ہے کہ یعلمون ظاهراً من الحياة الدنيا وهم عن الآخرة هم غافلون (الروم ، ) وہ عظمتِ ظاہری کو جانتے ہیں مگر وہ عظمتِ معنوی کو نہیں جانتے ۔ دین کا معنوی پہلو ہی اس کا اصل پہلو ہے ۔ مگر اپنی اس کمی کی بنا پر وہ اس کے ادراک سے عاجز ہو رہے ہیں اور ظاہری پہلوؤں میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔

ایک بار کا واقعہ ہے ۔ مجھے یورپ کے ایک بڑے ہوٹل میں کھانا کھانے کا اتفاق ہوا ۔ میں نے دیکھا کہ لوگ کھانوں سے بھری ہوئی میز کے سامنے بے فکری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کانٹے کی دھیمی موسیقی میں لوگوں کے قہقہے بلند ہو رہے ہیں ۔ ہر آدمی تفریحی باتیں کر کے اپنی بے فکری کا اظہار کر رہا ہے ۔ میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے ایک عرب ساتھی سے کہا کہ لوگوں کو جنت کیسے مل سکتی ہے جب کہ ان کا یہ حال ہو کہ اس کے لئے عمل کرنا تو درکنار ، انھوں نے خدا سے اس کو مانگا بھی نہیں ۔ (كيف تكون لهم الجنة وهم لم يسألوا الله الجنة فضلاً عن أن يعملوا لها) میں نے کہا کہ جنت کا مستحق بننے کے لئے کم سے کم جو چیز درکار ہے ، وہ یہ کہ آدمی کے دل میں اس کی شدید طلب پیدا ہو ۔ ایک طرف اپنی بے مانگی کا احساس اور دوسری طرف جنت کا اشتیاق ،

اس دو طرفہ احساس کے نتیجہ میں اس کی زبان سے بے اختیارانہ نکل پڑے خدایا ، میرے پاس کوئی عمل نہیں جو مجھ کو جنت میں لے جائے۔ لیکن خدایا، میں عاجز ہوں۔ جہنم کو برداشت کرنے کی طاقت میرے اندر نہیں ۔ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں۔ تو مجھے جنت دیدے اس لئے نہیں کہ میں نے اس کے لئے عمل کیا، بلکہ اس لئے کہ میں نے تجھ سے اسے مانگا :

يا رب ليس عندي عمل يؤدی بی الى الجنة، ولكن انا عاجز لا استطيع الصبر على النار . فانا اسألك الجنة رب هب لى الجنة، لا لأَنِّى عملت لها بل لانى سألتها اکثر بالواسطہ نتیجہ زیادہ بڑا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن لوگ اپنی ظاہر پسندی کی وجہ سے صرف براہ راست واقعات کو دیکھ پاتے ہیں۔ اور اسی کی بابت بحث و مباحثہ میں الجھے رہتے ہیں۔ عبد الناصر کے سوشلزم اور قوم پرستی کے نظریات مسلم پریس میں زیادہ تنقید کا موضوع رہے حالانکہ اس سے زیادہ دور رس نتائج وہ ہیں جو جمال عبد الناصر کی لایعنی پالیسیوں کے ذریعہ بالواسطہ طور پر برآمد ہوئے۔

ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سید قطب اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابیں پڑھیں ہیں اس کے بعد گفتگو کے دوران جمال عبد الناصر کا ذکر آیا تو وہ جمال عبد الناصر کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرنے لگے۔

میں نے کہا کہ مجھے جمال عبد الناصر کے سوشلزم اور ان کے قوم پرستی کے نظریات سے اتفاق نہیں ، تا ہم یہ جمال عبد الناصر ہی کی ” برکت “ ہے کہ ان شخصیتوں کو عرب دنیا میں وہ مقبولیت حاصل ہوئی جن کا آپ نے ذکر کیا۔ یہ گویا ناصرازم کا بالواسطہ نتیجہ تھا۔

جمال عبد الناصر نے سوشلزم کا نعرہ لگایا اور روس سے اپنا رشتہ جوڑا۔ وہ عالم عرب کا لیڈر بننے کا خواب دیکھنے لگے۔ اپنے اس جوش کے تحت انھوں نے یہ حماقت کی کہ انھوں نے کمیونسٹ یمن کی تائید کی اور یمن کے راستہ سے اپنی فوجیں سعودی عرب میں داخل کر دیں۔ ناصر کی ان پالیسیوں کے نتیجہ میں ناصر اور سعودی حکمرانوں کے درمیان شدید رقابت قائم ہو گئی۔ مشہور ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ چونکہ کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی فکری حیثیت سے اور

سید قطب سیاسی رقیب کی حیثیت سے ناصر کے مخالفین میں تھے، اس لئے ان دونوں اور بعض دوسرے افراد کو سعودی عرب میں پذیرائی حاصل ہوگئی۔ ان کی کتابیں سعودی عرب کی قیمت پر ہر زبان میں بڑی تعداد میں پھیلائی جانے لگیں۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب کی کتابوں کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خاص سبب یہی سعودی تعاون ہے۔ حالانکہ استدلالی اعتبار سے دونوں صاحبان کی کتابیں سطحی تھیں۔ اہمیت زیادہ تر ان کی انشاء پردازی میں تھی نہ کہ ان کی علمی حیثیت میں۔ خرید ارسی کی بنیاد پر یہ کتابیں بھی نہ پھیلتیں۔ مگر مفت تقسیم کی بنا پر وہ ہر جگہ پہنچ گئیں۔

ایک عرب عالم اخوان سے تعلق رکھتے تھے اور مولانا ابو الاعلٰی مودودی کی تحریروں سے کافی متاثر تھے۔ انھوں نے میرے بارے میں کہا کہ آپ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ اسلام دعوت کا نام ہے۔ اسلام کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر انھوں نے مولانا مودودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مودودی سے پہلے اسلام صرف نماز اور عبادت کا نام تھا۔ بتایا کہ اسلام ایک کامل اور شامل نظام ہے۔

میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ دین کو ایک ڈھانچہ کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ آپ نماز کو بھی ایک ظاہری ڈھانچہ سمجھتے ہیں اور نظام حکومت کو بھی ایک ظاہری ڈھانچہ۔ اس لئے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ نماز دین کا جزئی ڈھانچہ ہے اور نظام حکومت دین کا مکمل ڈھانچہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دین ایک معنوی حقیقت کا نام ہے نہ کہ ظاہری ڈھانچہ کا۔ یہ ایک ہی معنوی حقیقت ہے جو مسجد میں نماز کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور سیاست میں اسلامی نظام حکومت کی صورت میں۔

میرے فکر اور دوسروں کے فکر میں آپ کا یہ تقابل صحیح نہیں۔ دونوں میں اصل فرق یہ ہے کہ ہم دین کو ایک معنوی حقیقت سمجھتے ہیں جس کو شریعت میں تقویٰ کہا گیا ہے۔ اور آپ نے دین کو ایک ظاہری ڈھانچہ سمجھ رکھا ہے۔ ہم دین کے احیاء کے لئے اس کی معنویت کے احیاء کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسرے لوگ دین کے احیاء کے لئے اس کے خارجی نظام کا احیاء کرنا

طرابلس کے ہندوستانی سفارت خانہ میں کبھی جانے کا اتفاق ہوا۔ جناب ذکر الرحمن صاحب

وہاں سکنڈ سکریٹری کے طور پر ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ مسٹر رحمن کو سفارت خانہ میں بہت با عزت مقام حاصل ہے۔ ہر ایک ان کا احترام کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا کام نہایت مستعدی کے ساتھ انجام دیتے ہیں ۔ اور اکثر اپنی واقعی ڈیوٹی سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ شاید یہی و ہ حقیقت ہے جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لفظوں میں بیان کیا : إن قيمة المرء ما يحسنه ۔ آدمی جب کوئی برا کام کرے تو لوگوں کو صرف اس کی برائی یاد رہتی ہے۔ ہر آدمی اس کو بری نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس آدمی جب کوئی اچھا کام کرے تو وہ صرف اس اچھے کام کے واسطے سے جانا جانے لگتا ہے۔ اس کا اچھا کام ہی اس کی تصویر بن جاتا ہے۔ اس کی زندگی میں اگر کچھ کمتر پہلو ہیں ، تو وہ سب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

ایک عرب عالم سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ہمارے مشن سے پوری طرح واقف ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے نہایت تاثر کے ساتھ کہا کہ آپ کا یہ مشن عربوں کے لئے رحمت ہے ۔ کیوں کہ اگر وہ اس فکر کو اختیار کر لیں تو ان کے لئے ممکن ہو جائے گا کہ وہ انسگریٹی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں نے عالم عربی میں جو حالات پیدا کر دئے ہیں ، اس کے بعد ان کے لئے دو برائیوں میں سے ایک برائی کو اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ یا قید یا نفاق ۔ اگر وہ چاہیں کہ وہ اپنے موجودہ دینی خیالات کے ساتھ زندہ رہیں تو انہیں عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور اگر وہ سیاسی النِّظَام کے ساتھ موافقت کر کے زندہ رہیں تو یہ ان کے لئے منافقت ہوگی، کیونکہ ان کے دل میں کچھ ہوگا اور عمل میں کچھ :

إن رسالتك هذه رحمة للعرب لان بهذه الرسالة هم يستطيعون أن يعيشوا بشخصية انسجامية ، ففي الأحوال القائمة التي توجد في العالم العربي اليوم بسبب الحركات الإسلامية المعاصرة ، لم يبق لهم إلا الاختيار بين الشرين ، أما السجن وإما النفاق ۔ بحيث انهم اذا ارادوا ان يعيشوا طبقاً لمشاعرهم الدينية عذبوا ، وان ارادوا ان يعيشوا وفق نظام ينافقوا ایک عرب ملک کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ وہاں ایک اسلامی جماعت کے افراد گھریلو انداز پر اپنا اجتماع کیا کرتے تھے ۔ اس پر حکومت کی طرف سے پابندی لگا دی گئی۔ بعد کو ان لوگوں نے ذمہ داروں

سے مل کر اس کی اجازت حاصل کرلی۔ مگر یہ اجازت انہیں صرف اس وقت ملی جب کہ انہوں نے اقرار کیا کہ ان کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں ہے۔ یہ اقرار ان کے تصور دین کے مطابق سراسر خلاف واقعہ کیوں کہ ان کا جو تصور اسلام ہے اس کی بنیاد ہی سیاست پر قائم ہے۔ ۲۱ مارچ ۱۹۹۰ کی شام کو عربوں کی یک مجلس میں میں نے کہا کہ امت مسلمہ کا اصل مقصد شہادت علی الناس ہے۔ یعنی خالص دعوتی انداز میں وہ کام کرنا جس کو قرآن میں انذار و تبشیر کہا گیا یہ از اول تا آخر ایک فکری مہم ہے، اس کا کوئی تعلق جنگ اور قتال سے نہیں۔ حتی کہ فریق ثانی اگر اشتعال انگیزی کرے تب بھی ہمیں فکر او سے ایک طرفہ اعراض کرنا ہے تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا باقی رہے۔ مسلمان اگر اس کام کو نہ کریں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اس سلسلہ میں میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۶۲ میں چین نے آسام کی سرحد پر ہندوستان کے علاقے میں اپنی فوجیں داخل کردیں۔ اس وقت تیز پور (آسام) کا کمشنر اپنے دفتر سے بھاگ کر اپنے گھر آگیا۔ گھر پر اپنے بچوں کے ساتھ قیام کرنا عام لوگوں کے لئے کوئی جرم نہیں ۔ مگر مذکورہ کمشنر کے لئے یہ چیز جرم بن گئی۔ کیوں کہ اس نے اپنی ڈیوٹی چھوڑ دی تھی۔ جب کسی آدمی کو کسی خاص ڈیوٹی پر مقرر کیا جائے تو اس کی ساری قیمت اس ڈیوٹی کے مقام پر ہوتی ہے۔ کسی اور مقام پر بظاہر وہ کوئی درست کام کر رہا ہو تب بھی اس کے کام کی کوئی قیمت نہیں۔ اس پر ایک عرب نوجوان نے کہا کہ آپ کی مثال سے قتال کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ تیز پور کے کمشنر کی غلطی یہی تھی کہ اس نے قتال کے محاذ کو چھوڑ دیا اور غیر قتال کے میدان میں واپس آگیا۔ میں نے کہا کہ مثال کا یہ مطلب نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مثال کی دو قسمیں ہیں، ایک مثال برائے دوسری مثال برائے توضیح ۔ آپ کا اعتراض اس وقت صحیح ہوسکتا تھا جب کہ میں نے یہ مثال برائے استدلال دی ہو ، حالاں کہ میں نے یہ مثال برائے توضیح دی ہے۔ جب آپ ایک نقطۂ نظر کو قرآن وحدیث سے ثابت کر دیں اور اس کے بعد ایک مثال بطور توضیح نقل کریں تو اس مثال کا صرف وہ جزو وہاں چسپاں ہوگا جو آپ کی بات سے متعلق دوسرے پہلو جو غیر متعلق (irrelevant) ہیں وہ اپنے آپ حذف ہو جائیں گے۔

میں نے اپنے نقطہ نظر کو اولاً قرآن و حدیث سے ثابت کیا۔ اس کے بعد توضیح کے لئے تیز پور کے کمشنر کی مثال دی ۔ اس مثال میں صرف ڈیوٹی کا پہلو میری گفتگو سے تعلق رکھتا ہے۔ لئے اس کا ڈیوٹی کا پہلو لیا جائے گا، اور قتال کا پہلو اپنے آپ حذف ہو جائے گا۔ میری بات کی تردید کے لئے آپ کو قرآن و حدیث سے دلیل لانی ہوگی ، کیونکہ میرا بنائے استدلال قرآن و حدیث ہے نہ کہ کمشنر کی مثال ۔

ایک عرب ملک کے کچھ عرب نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملک وہ ہے جو عام طور پر بد نام ہے کہ وہاں جبر ہے۔ وہاں کے حکمران بے دین ہیں۔ وہاں اسلامی کام کے مواقع نہیں ہیں۔ مگر ان نوجوانوں کا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کام کرنے والوں کے لئے ہر جگہ کام کے مواقع ہیں ۔ ان عرب نوجوانوں نے راقم الحروف کی عربی مطبوعات پڑھیں اور انگریزی الرسالہ کا اس سے ان کے اندر دعوتی کام کا ذہن پیدا ہوا۔ ان کے ملک میں باہر کے ملکوں کے بہت سے غیر مسلم لوگ کام کرتے ہیں۔ ان کار کن غیر مسلموں کے درمیان انہوں نے دعوتی کام کرنا شروع اب تک وہ بہت سے لوگوں کو اسلام میں داخل کر چکے ہیں۔

انہوں نے مجھے کچھ عربی کے فارم دکھائے۔ یہ فل اسکیپ سائز میں عمدہ کاغذ پر عمدہ چھپے ہوئے فارم تھے۔ ان میں ایک تصویر کا خانہ تھا جہاں نو مسلم کی تصویر لگائی جاتی تھی ۔ اسی کے ساتھ فارم میں مختلف خانے تھے جن کو نو مسلم بھر کر اپنا دستخط کرتا تھا۔ یہ فارم اس ملک کی حکومت نے نومسلموں کے لئے چھپوا رکھے ہیں۔ مذکورہ نوجوانوں نے سرکاری دفتر سے ربط قائم کر کے یہ فارم حاصل کئے اور اسلام قبول کرنے والوں پر اس کو استعمال کرنا شروع کیا۔

اس طرح ایک بد نام ملک میں آزادانہ طور پر ایک دینی کام انجام پا رہا ہے۔ مزید یہ کہ یہ دینی کام وہ ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ایک عرب نوجوان عمر الہادی سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک عرب یونیورسٹی میں میڈیکل سائنس کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ انگریزی اور مرکز کی عربی مطبوعات کو پڑھ کر ان کے اندر دعوت کا جذبہ پیدا ہوا۔ اپنی یونیورسٹی کے غیر مسلم پروفیسروں سے انہوں نے ربط قائم کیا۔ کو انگریزی کتابیں، مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ، گائڈلائنس، پرافٹ آف ریوولیوشن وغیرہ۔

پڑھنے کے لئے دیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے بڑے حوصلہ افزا تجربات بتائے۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی میں فزیالوجی کے ایک پر وفیسر ڈاکٹر ”بی آر“ ہیں۔ انھوں نے پر وفیسر موصوف کو پڑھنے کے بعد ایک ملاقات میں انھوں نے عمر الہادی سے کہا کہ میرے بیٹے، یقین کرو، اگر تم نے اس حقیقت کو دنیا کے سامنے پہنچا دیا، تو تم دیکھو گے کہ دنیا کے ۹۰ فیصد لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے :

نائجیریا کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام نمدی (Namdi) بتایا۔ تعلیم بیرونی ملکوں میں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا خاندان مسلمان ہے۔ مگر مجھے مسلمانوں کی اس بات سے سخت اختلاف ہے کہ وہ لڑائی (جہاد) کو بہت زیادہ گلوریفائی کرتے ہیں۔ میں کسی بھی قسم کی لڑائی کے سخت خلاف ہوں۔ اسلام اگر سچا مذہب ہو تو وہ لڑائی کا مذہب نہیں ہو سکتا۔ اس معاملہ میں اپنے خاندان سے میرا اتنا اختلاف ہوا کہ میں نے خاندان کو چھوڑ دیا۔ یہی ہے تو میں اس کو نہیں مانتا۔

میں نے سوچا کہ انسان کی فطرت ایسا دین چاہتی ہے جس میں امن ہو۔ مگر موجودہ مسلمانوں کے ماحول میں اس کو ایسا اسلام نہیں ملتا۔ یہاں وہ دیکھتا ہے کہ اسلام جنگ کا مبلغ ہے۔ فطرت کی آواز پر چلے تو اس کو اپنے مسلم خاندان کو چھوڑنا پڑتا ہے، وہ اگر خاندان پر چلے تو اپنی

عرب اخبارات میں آجکل روز انہ دعوتِ اسلام اور قبولِ اسلام کی خبریں ہوتی ہیں۔ مثلاً طرابلس کے اخبار الدعوة الإسلاميہ کے صرف ایک شمارہ (۲۱ مارچ ۱۹۹۰) میں اس قسم کی کئی خبریں موجود تھیں۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے سات سال میں ہانگ کانگ کے سات ہزار باشندوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے ( 7 آلاف مواطن في هونج كونج يشهرون اسلامهم في سبعة اعوام )

Printed page