Islam in 21st century
Al-Risala, January 1990, pp. 33–42
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مقالہ انشاء اللہ انگریزی اور اردو رسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ یہاں سفر کی روداد درج کی جاتی ہے۔
۲۳ ستمبر ۱۹۸۹ کی شام کو دہلی سے پی آئی اے کی فلائٹ ۴۹۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ سروس انٹر نیشنل اسٹینڈرڈ کے مطابق تھی۔ کراچی تک ایک گھنٹہ ۴۵ منٹ کی پوری پرواز نہایت ہموار جہاز کے اندر مطالعہ کے لئے پاکستان کے اردو اور انگریزی اخبار موجود تھے۔ اخبارات کا مطالعہ میرے لئے کچھ زیادہ خوشی کا باعث نہ ہوسکا۔ اخبارات میں لفظی کشتی کا منظر دکھائی دیا۔ پنجاب کے ریاستی وزیر کی تقریر اسلام آباد کے مرکزی وزیر کے خلاف۔ وزیر کی تقریر پنجاب کے ریاستی وزیر کے خلاف۔ جماعت اسلامی کے لیڈر کا بیان مہاجر لیڈر کے خلاف اور مہاجر لیڈر کا بیان جماعت اسلامی کے لیڈر کے خلاف۔ اسی قسم کی خبریں اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ اس سے یہ تو اندازہ ہوا کہ موجودہ پاکستان میں جمہوریت ہے مگر اہل پاکستان شعوری اعتبار سے شاید ابھی اس درجہ کو نہیں پہنچے کہ وہ جمہوریت کا تحمل کرسکیں۔ پاکستان ہندواور مسلم اختلاف سے بچنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ "خدا داد ملک" میں مسلم اور مسلم اختلاف اس سے بھی شدید صورت میں موجود ہے۔ ہوائی جہاز میں میری سیٹ کے قریب ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ ہوابازی کے انجینئر ہیں اور انھوں نے پائلٹ کی ٹریننگ لی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جنوری ۱۹۹۰ المیلاف 35
یہ بتائیے کہ جہاز کیسے اڑتا ہے۔ انہوں نے اس کی کچھ تشریح کی ۔ اس کے بعد کہا کہ جہاز کے اڑنے کا اصول اگر چہ بے حد سادہ ہے مگر اس کو قطعی صورت میں صرف ریاضیاتی زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے، غیر ریاضیاتی زبان میں اس کو قطعیّت کے ساتھ بیان کرنا ممکن نہیں۔
یہی اصول دوسرے معاملات کے لئے بھی ہے۔ مثلاً قومی تعمیر یا اسلامی احیاء کے معاملہ کو بھی صحیح طور پر شعر وخطابت کی زبان میں یا چٹپٹا چر ٹے کی کہانی کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو لازماً علمی زبان میں بیان کرنا پڑے گا۔
آجکل یہ حالت ہے کہ ملی تعمیر یا اسلامی احیاء کے کام کو اگر زیادہ گہرائی کے ساتھ بتایا جائے تو بعض لوگ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو فلسفہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے ایک معاملہ کو صحیح طور پر "فلسفہ" ہی کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اس کو فلسفہ کی زبان میں سمجھنا نہ چاہیں وہ ہمیشہ کے لئے اس کی حقیقی معرفت سے محروم رہیں گے۔
جہاز میں ایک رفیق سفر نے کہا کہ قرآن میں صرف دو سفروں کا ذکر ہے۔ خشکی کا اور سمندر کار وحملناھم في البر والبحر، مگر موجودہ زمانہ میں ہوائی سفر بھی ایک مستقل سفر بن گیا ہے۔ اس کا مطلب کیا یہ لیا جاسکتا ہے کہ قرآن "دوسفروں" کے دور کی کتاب ہے، وہ "تین سفروں" کے دور کی کتاب نہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں سفر کی قسمیں تین ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ مثلاً انڈر گرائونڈ ریلووں کا تحت زمین سفر ، یاراکٹ کا بالائے خلاسفر۔ اصل یہ ہے کہ یہ ایک عام اسلوب کلام ہے کہ ایک معروف چیز کا ذکر کر کے اس کے ذیل کی دوسری چیزوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، کیوں کہ وہ اس کے تابع ہونے کی بنا پر خود بخود سمجھ میں آجاتی ہیں۔ مثلاً آپ کہیں کہ " جمہوری نظام میں حکمراں کو اپوزیشن کی طرف سے بہت سی تلخ باتیں سننی پڑتی ہیں۔ اس فقرہ میں بظاہر صرف "سننے" کا ذکر ہے مگر تبعیّت کے اصول کے تحت اس میں "پڑھنا" بھی اپنے آپ شامل ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی تلخ باتیں سننا اور پڑھنا پڑتا
یہی معاملہ قرآن کی مذکورہ آیت کا ہے۔ اس میں بظاہر اگر چہ صرف بر اور بحر میں سفر کا ذکر ہے مگر سفر کے ذیل کے دوسرے تابع مفہوم بھی اس میں اپنے آپ شامل ہیں۔ مثلاً بر کی تابعیت میں تحت زمین سفر، اور بحر کی تابعیت میں فوق زمین (ہوائی اور خلائی) سفر۔
اس سے پہلے ایک سفر کے دوران میں نے کراچی ایئر پورٹ کی مسجد میں نماز ادا کی تھی (رسالہ مئی ۱۹۸۷ء، صفحہ (۲۲) اس سفر میں دو بارہ کچھ وقت اس خوب صورت مسجد میں گزارنے کا اتفاق ہوا۔ کو دیکھ کر خیال ہوا کہ ایئر پورٹ کے اندر مسجد کا ہونا شاید اسی وقت ممکن ہے جب کہ وہ ایئر پورٹ کسی مسلم ملک میں واقع ہو۔ مگر پھر یاد آیا کہ اب زمانہ غیر معمولی طور پر بدل چکا ہے چنانچہ اب اٹلی اور اسپین جیسے ملکوں میں بھی شاندار مسجدیں بن رہی ہیں۔ اللہ تعالی نے دنیا کے حالات میں ایسی تبدیلی کی ہے کہ اب خود سیکو لر ملک محسوس کر رہے ہیں کہ مسجد" ان کے سیکولرزم پر دھبہ نہیں۔ بلکہ مسجدان کی سیکولرزم کی تپا پر ایک تصدیقی تمغہ ہے۔ چنانچہ فرانس میں پاکستان کا واقعہ دہرایا جا رہا ہے۔ راجدھانی پیرس میں اورلی ہوائی اڈہ (Orly International Airport) ہے۔ کے ان ۲۴ بڑے ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ مسافر چڑھتے اور تازہ خبر یہ ہے کہ اس فرانسیسی ہوائی اڈہ پر ایک مسجد بنائی گئی ہے تاکہ یہاں سے گزرنے والے مسلمان مسافروں کو عبادت گزاری کی سہولت حاصل ہو سکے۔
کراچی ایئر پورٹ پر کئی گھنٹے انتظار میں گزرے۔ میں ایک سیٹ پر بیٹھا ہوا کچھ یاد داشتیں نوٹ کرنے میں مشغول تھا۔ میرے پاس کی سیٹ پر ایک مسلمان لڑکی آکر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر تک دیکھتے رہنے کے بعد وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولی۔ انکل، آپ شاعر ہیں۔ میں نے سرہلا کر نفی میں جواب دیا۔ میں نے اس سے مزید کچھ نہ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ تاہم میں سوچتا رہا کہ اس نے ایسا سوال کیوں کیا۔ وجہ غالب یہ تھی کہ لوگ لکھنے کے نام سے صرف تفریحی لکھنے کو جانتے ہیں، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ کوئی شخص کسی سنجیدہ مقصد کے لئے بھی قلم کاغذ میں مشغول ہوگا۔
کراچی ایئر پورٹ کے اندر داخل ہوتے ہوئے میں امیگریشن کی کھڑکی پر کھڑا تھا۔ میں کئی آدمیوں کے پولیس کے آدمی نے مجھے آگے کر دیا۔ ایک مسافر نے کہا کہ یہ تو پیچھے تھے ۔ یہ بزرگ ہیں" اس نے جواب دیا۔ اس نے فورا میرے پاسپورٹ پر ضروری اندارج کرایا اور مجھے دیتے ہوئے کہا، ہمارے لئے دعا کیجیے گا۔ یہ میرے بڑھاپے کی قیمت تھی۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں اگر طاقت ور" ہونا اپنے اندر کچھ ایڈوانٹیج رکھتا ہے تو یہاں کمزور" ہونے کے بھی کچھ ایڈوانٹیج ہیں۔ مگر اس کا فائدہ اسی شخص کو ملتا ہے جو فطرت کو اپنا عمل کرنے کا موقع دے اور عاجلانہ مداخلت کر کے فطرت کا نقشہ بگاڑ
کراچی سے طرابلس کے لئے لیبین ائیرویز کی فلائٹ نمبر ۲۶۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ دروازہ پر پہنچاتو مسافروں کے کاغذات اور سامان کی زبردست چیکنگ ہو رہی تھی۔ میرا حلیہ دیکھ کر جہاز کے عملہ کے ایک عرب رکن نے پوچھا کہ آپ کانفرنس میں جا رہے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد اس نے کسی قسم کی چیکنگ کے بغیر اندر داخل کر دیا۔
دل سے دعا نکلی کہ کاش آخرت میں بھی ایسا ہی معاملہ ہو۔ صرف نام پوچھ کر آگے بڑھا دیا جائے۔ رحمتوں کے دروازہ میں بلا حساب کتاب داخلہ مل جائے۔ اور بلا شبہ یہ اللہ کے لئے مشکل نہیں۔ کراچی سے طرابلس کا سفر متواتر سات گھنٹہ کا تھا۔ شروع میں خیال آیا کہ یہ بڑا تکلیف دہ سفر ہوگا۔ مگر دوران پرواز نیند آتی رہی۔ اس لئے اس کا بڑا حصہ سونے میں گزر گیا۔ صبح کو ہمارے پیچھے کی طرف شفق کا اجالا ظاہر ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد پور اجالا ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر جہاز گھنٹوں تک اسی حالت میں پرواز کرتا رہا۔ جب بھی میں باہر کی طرف دیکھتا تو محسوس ہوتا کہ اجالا بے حد سست رفتار کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارا یہ سفر مشرق سے مغرب کی طرف ہو رہا تھا۔ یعنی طلوع آفتاب کے الٹی یہی ”سمت سفر“ کا معاملہ تھا جس نے اجالا ہونے میں اتنی تاخیر کر دی۔ زمین کی گردش اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اگر آپ اپنے مقام پر صبح کے وقت کسی ٹیلہ پر کھڑے ہوں تو سورج آپ کی طرف ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آ رہا ہوگا۔ چنانچہ بہت جلد اجالا ظاہر ہو جائے گا۔ لیکن ہوائی جہاز کے ذریعہ جب آپ مشرق سے مغرب کی طرف آٹھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ رہے ہوں تو اس وقت آپ کے لئے سورج کے سفر کی رفتار گھٹ کر صرف دو سو میل فی گھنٹہ رہ جاتی ہے۔ ہے کہ ایسی حالت میں اجالے کے ظہور میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
واپسی کے وقت ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ء کو اس کے برعکس صورت پیش آئی۔ یہ سفر مغرب سے مشرق کی طرف تھا۔ صبح کو شفق کی سرخی ظاہر ہوئی۔ اور نہایت تیزی کے ساتھ اجالا ہونے لگا۔ ایسے وقت میں اگر آپ ہوائی جہاز کے ذریعہ آٹھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مغرب سے مشرق کی طرف اڑ رہے ہوں تو صبح کا اجالا آپ کی طرف ۱۸ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آتا ہوا دکھائی دینے لگے گا۔
وقت کی سمت کے خلاف چلنا بھی سفر ہے، اور وقت کی سمت کی طرف چلنا بھی سفر۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دونوں میں اتنا فرق ہو جاتا ہے کہ ایک شخص اگر " ۲۰۰ میل " فی گھنٹہ کی رفتارسے چل رہا ہو تو دوسرے کے سفر کی رفتار " ۸۰۰ میل " فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی۔
لیبین ایرویز کا مخفف ایل اے (L.A) ہے۔ اس سلسلہ میں بعض لیبیوں کے درمیان ایک لطیفہ مشہور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایل اے کا مطلب ہے Late Always ان کا کہنا ہے کہ لیبین ایئر لائنز کے جہاز اکثر شکانی لیسٹ رہتے ہیں۔ مگر موجودہ سفر میں وہ تقریباً صحیح وقت پر پہنچا۔ میں ہر عموم میں استثناء ہے اور ہر استثناء میں عموم۔
لیبیا کے پاس دولت کی افراط ہے، اس کے باوجود لیبین ایر لائنز خستہ حالت میں اس کے پاس جہازوں کی بے حد کمی ہے۔ موجودہ جہاز پرانے ہو چکے ہیں۔ فاضل پرزے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مرمت سخت مشکل ہو رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ نے لیبیا کو جہازوں کی سپلائی بند کر دی ہے۔ دوسری طرف خلیج کی ہوائی کمپنیاں نہایت اچھی حالت میں ہیں۔ امریکا ان کے اوپر اپنی مشینی عنایتیں جاری کئے ہوئے ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے جو مسائل ہیں، ان کا سبب اغیار کا ظلم و تعصب نہیں ۔ اس کا اصل سبب مسلمانوں کی یہی پس ماندگی ہے۔ موجودہ مسلمان ہر جگہ پانے کی حد (Receiving end) اور جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے ان کا انجام وہی ہو گا جو اس وقت ساری دنیا میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔
موجودہ حالت یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ نے ہتھیار دیا تو اس کی مدد سے افغانی مجاہدین نے روسیوں کو ملک سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ فلسطین میں امریکہ مدد نہیں کر رہا ہے تو وہاں عرب مجاہدین اور سارا عالم اسلام نصف صدی سے بالکل عاجز ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کو امریکہ نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے تو وہاں خوش حالی ہے۔ بنگلہ دیش کو امریکہ نے نظر انداز کر دیا تو وہ بد ترین بد حالی کی تصویر بن رہا ہے۔ مسلمان اس وقت ساری دنیا میں " حبل من الناس " کے تحت جی رہے ہیں نہ کہ " حبل من الله " کے تحت (آل عمران ۱۱۲)
۲۴ ستمبر ۱۹۸۹ کو میں طرابلس پہنچا۔ یہاں میرا قیام فندق باب البحر (کمرہ ۹۳۰) میں تھا۔
ہوٹل میں سب سے پہلی چیز جو پڑھنے کو ملی وہ اخبار الدعوة اللامیہ (۲۰ ستمبر ۱۹۸۹) تھا۔ میں پہلے صفحہ پر ایک خبر تھی۔ یہ خبر فنانشل ٹائمنز سے نقل کی گئی تھی۔ لندن کے اس اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ انڈونیشیا میں بڑی تعداد میں غیر مسلم افراد اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مسیحی مبلغین کی زبردست مخالفانہ کوشش کے باوجود وہاں اس اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی فنانشل ٹائمنز نے لکھا تھا کہ وہاں اس طرح اسلام کی اشاعت کی وجہ یہ ہے کہ اسلام زندگی کی تمام مانگوں کی تکمیل کرتا ہے:
The reason for such increase, is that Islam fulfills all requirements of life. ہر سچا مذہب ابتدا از انھیں صفات کا حامل تھا جو آج اسلام میں پائی جاتی ہیں۔ اور تبدیلی کے نتیجہ میں اب یہ تمام صفات صرف اسلام میں رہ گئی ہیں۔ دوسرے مذاہب کو انسان کی تحریفات نے ان صفات سے محروم کر دیا۔ لوگوں پر اگر یہ بات واضح ہو جائے تو وہ اسلام کی طرف آنے کو تبد یلیٔ مذہب نہ سمجھیں ۔ بلکہ اس کو خود اپنے ہی اصل مذہب کی طرف واپسی کے ہم معنی
سفر کے لئے روانگی سے ایک دن پہلے دہلی میں ہفت روزہ الجمعیۃ (۲۲ ستمبر ۱۹۸۹) دیکھا۔ کی ایک سرخی تھی : قذافی کے رویہ میں حیرت ناک تبدیلی ۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اب ایک سال سے معمر قذافی اپنی پالیسیوں میں زبردست تغیر کرتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اب امن اور مصالحت اور دوستی کی راہ اپنائی ہے۔ اس قسم کی باتوں کی وجہ سے عرب ملکوں کے ساتھ قذافی کے تعلقات میں سدھار آیا ہے۔ اور لوگوں کی طرف سے عام طور پر مثبت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے (صفحہ ۲)۔ یہ ”تبدیلی“ لیبیا کے سفر میں مختلف اعتبار سے محسوس ہوئی۔ اس کو جوش سے ہوش کی طرف واپسی کہا جا سکتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ تک ترکی عالم عرب کا قائد تھا۔ عثمانی خلافت کے خاتمہ کے بعد کچھ لوگوں نے ناکام طور پر اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔ جمال عبدالناصر کا عالم عرب کا قائد بننے کا خواب نہ صرف بے تعبیر رہا بلکہ انھوں نے عرب دنیا کی بربادی میں مزید اضافہ کیا۔ اس کے بعد آیات اللہ خمینی اسی خوش فہمی میں مبتلا ہوئے۔ گر انھوں نے بھی اپنے پیچھے بربادی کے سوا کوئی تاریخ نہیں چھوڑی۔
کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو عملی طور پر اس کی صرف ایک ہی ممکن صورت ہے۔ وہ یہ کہ تمام ملک سعودی عرب کی علامتی قیادت کو تسلیم کر لیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے پاس مکہ مدینہ" مسلمانوں کے پاس عالمی اتحاد کی یہی ابدی بنیاد ہے۔ مذہبی سطح پر آج بھی یہی چیز ان کو متحدہ ملت کا شعور دیے ہوئے ہے ، اسی طرح یہی وہ چیز ہے جو سیاسی سطح پر ان کے لئے اتحاد کی ممکن بنیاد بن سکتی ہے ۔ اٹلی نے ۱۹۱۱ میں طرابلس پر حملہ کیا۔ وہ ۱۹۴۳ تک اس پر قابض رہے۔ اس وقت یہاں ترکوں کی حکومت تھی۔ ایچ جی ویلز (H.G. Wells) نے اپنی کتاب "آؤٹ لائن آف ہسٹری" میں لکھا ہے کہ اٹلی کے سامراجیوں نے اپنے ہم وطنوں کو ابھار اکه وہ مزینی کو بھول جائیں اور جولیس سیزر کو یاد رکھیں :
The Italian imperialists exhorted their countrymen to forget Mazzini and remember Julius Caesar (p. 1058). جی مزینی (Giuseppe Mazzini) ۱۸۰۵ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۷۲ میں اس کی وفات وہ اٹلی کا مشہور قومی ریفارمر تھا۔ وہ ہرل نیشنلزم کا علم بردار تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ قوموں کے درمیان ہتھیار کا استعمال بند ہو جانا چاہئے اور ہمشیری اقوام (Sisterhood of nations) کے اصول پر باہمی تعلق قائم ہونا چاہئے (14/692)
مگر اٹلی کے پرجوش حکمراں اپنے حال کے لیڈر کو بھول گئے۔ انھوں نے دو ہزار سال پہلے کے حکمراں جولیس سیزر (Julius Caesar) کی سنت پر چلنا چاہا۔ جولیس سیزر ۱۰۰ ق م میں روم میں پیدا ہوا ، اور ۴۴ ق م میں اس کو قتل کر دیا گیا۔ اس نے رومی سلطنت کی توسیع کے لئے مختلف ملکوں پر اور بالآخر ایک کمزور روم چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا۔
یہی اکثر قوموں کا حال ہے۔ انھیں اپنے جنگ جو ہیرو زیادہ پسند آتے ہیں ۔ اصلاحی اور تعمیری
بات کرنے والوں کو وہ اکثر غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ خواہ جنگ جو افراد نے انھیں ہر بادی کے سوا کچھ اور نہ دیا ہو۔
ہندوستان جیسے ملکوں میں یہ مسئلہ ہے کہ ملک کی معیشت کو چلانے کے لیے پیسہ کہاں سے لایا لیبیا میں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں، لیبیا کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تیل سے ملنے والی بے پناہ دولت کو کس طرح بہتر طور پر قوم کی ترقی کے لیے خرچ کیا جائے: The main problem of the oil boom is how best to use the large sums of money available to promote the well-being of the nation as a whole رابطہ عالم اسلامی کے تحت مکہ مکرمہ سے ایک انگریزی پرچہ نکلتا ہے جس کا نام مسلم ورلڈ لیگ اس کے شمارہ مارچ ۔ اپریل ۱۹۸۹ میں چار صفحہ کا ایک با تصویر مضمون چھپا ہے ۔ اس کا عنوان ہے: Libya's New Oil Era اس مضمون میں ایک بڑی سبق آموز بات کہی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے لیبیا پر تجارتی پابندیاں لگائیں اور اس کے تیل کے کارخانوں سے اپنے آدمیوں کو واپس بلایا۔ کا مقصد یہ تھا کہ لیبیا کی اقتصادیات تباہ ہو جائیں۔ مگر نتیجہ برعکس صورت میں برآمد ہوا۔ خود امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا سے امریکی کمپنیوں کی واپسی کا انھیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلکہ ان کی آمدنی میں اور اضافہ ہو گیا۔ مشکل آسانی میں تبدیل ہو گئی۔
مسلم ورلڈ لیگ جرنل کے مذکورہ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کمپنیوں کی واپسی سے لیبیا کو مختلف فائدے پہنچے ۔ اس سے انھیں موقع ملا کہ وہ ضروری ٹکنالوجی کو خود حاصل کریں، اس سے ان کی حب الوطنی اور محنت میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے لیبیا کی تیل کی صنعت کو مکمل طور پر لیبی بنالیا۔ اس کے ذریعہ سے لیبیا میں تیل کی صنعت کا ایک نیا دور آگیا (صفحہ ۶۱)
سعودی عرب کے ”فیصل انعام“ کی طرح لیبیا میں سالانہ "قذافی انعام ۱۹۸۹ سے شروع کیا گیا ہے ۔ لیبی حکومت نے اس مقصد کے لیے دس ملین ڈالر کا فنڈ سوئزرلینڈ کے ایک بینک میں جمع کیا ہے۔ میں اس کے پہلے انعام کا اعلان کیا گیا۔ یہ انعام ساؤتھ افریقہ کے نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela)
کوان کی آزادی کی کوششوں (Liberation struggles) کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ ساتھ 250,000 ڈالر کی رقم شامل ہے۔ ٹائم میگزین (۸ مئی (۱۹۸۹) نے اس واقعہ کی خبر دیتے ہوئے معنی خیز طور پر اس کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی ہے ۔ اور انعام پانے والا ہے ... And the winner is .... (p. 21). سعودی عرب کا فیصل انعام کسی شخص کی اسلامی خدمات" کے اعتراف کے طور پر کسی مسلمان کو دیا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں لیبیا اگر سعودی عرب کی تقلید کرے تو وہ اس کے لئے زیادہ اچھا ہوگا۔ یہاں میں نے اپنی گھڑی میں مقامی وقت کے مطابق تبدیلی نہیں کی تھی۔ جب مجھے وقت معلوم کرنا ہوتا تو میں ایسا کرتا کہ اپنی گھڑی میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق کر لیتا تھا۔ اس طرح مجھے مقامی وقت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ ہندوستان کے مقابلہ میں لیبیا کا وقت ساڑھے تین گھنٹہ پیچھے ہے۔ وقت کے آگے پیچھے ہونے کا مطلب کیا اصل یہ ہے کہ انسان نے اپنی سہولت کے لئے رات اور دن کی مدت کو ۲۴ گھنٹے میں تقسیم کیا ہے۔ مان لیا گیا ہے کہ ہر ملک میں دوپہر کا وقت ۱۲ بجے کا وقت ہوگا۔ اب چونکہ زمین کی محوری گردش کی بنا پر دوپہر" کا لمحہ ہر ملک میں الگ الگ وقت پر آتا ہے، ہر ملک کا وقت الگ الگ ہو گیا ہے۔ ہندوستان میں جس وقت دوپہر ہوگا، اس وقت لیبیا میں ابھی دو پہر کا وقت آنے میں تقریبا ساڑھے تین گھنٹہ باقی ہوں گے۔ ہر ملک دوپہر کے وقت کو ۱۲ بجے کا وقت مان کر اپنی گھڑی کا آغاز کرتا ہے، اس لئے ہر ملک کا وقت نسبتی طور پر الگ الگ ہو جاتا ہے۔
وقت کا یہ فرق قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ " فرق اس دنیا کی لازمی حقیقت اس دنیا میں ہیں فرق کے باوجود مل کر رہنا ہے۔ یہاں اختلاف کے باوجود اتحاد قائم کرنا ہے۔ اپنے عام طریقہ کے مطابق ، میں کانفرنس کے بارہ میں رپورٹ کے انداز میں کچھ نہیں لکھوں کانفرنس کے اندر اور کانفرنس کے باہر پیش آنے والی صرف کچھ باتوں کو یہاں نقل کروں گا۔ کویت کے شیخ راشد عبد اللہ الفرحان نے حقوق الانسان فی الاسلام پر عربی میں تقریر کی۔ اس دوران انھوں نے غلامی کا ذکر کیا اور کہا کہ اسلام کے مخالفین اس پر سب سے زیادہ اعتراض مگر قرآن وحدیث میں کہیں بھی یہ ہدایت نہیں کہ تم لوگوں کو غلام بناؤ۔ اسلام نے غلامی کو شروع نہیں کیا۔ وہ پہلے سے دنیا میں موجود تھی ۔ اسلام نے ایسے احکام دئے جن کے ذریعہ وہ کمیت وکیفیت
کے اعتبار سے ختم ہو سکے۔ غلامی کے بارہ میں اسلام نے جو احکام وضع کئے ہیں ، وہ دو مقصد کے تحت تھے۔ مزید غلام بنانے کو روکنا ، اور موجودہ غلاموں کو ختم کرنا (النوع الذي شُرعت له الاحكام كلها تدور حول مبدأين مُهمين هما : تضييق المدخل وتوسيع المخرج)
غلامی کے مسئلہ کی یہ تشریح نہایت صحیح اور عین شریعت کے مطابق ہے۔ اور توسيع المخرج کا یہی اصول اسلام نے دوسری برائیوں کے استیصال کے لئے بھی اختیار کیا ہے۔
کانفرنس کی تقریریں اور مقالے زیادہ تر اصل موضوع سے غیر متعلق تھے۔ اس لئے ان کی کوئی تفصیل یہاں درج نہیں کی جارہی ہے۔ ایک صاحب نے ان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا : صرف آپ کا مقالہ مقررہ موضوع کے پوری طرح مطابق تھا۔ یہی اکثر کانفرنسوں کا حال ہوتا ہے۔
۲۸ ستمبر کی نشست میں فلپائن کی مور و لبریشن فرنٹ کے نوجوان چیئر مین مسٹر نوری مسواری (NUR MISVARI) نے تقریر کی۔ ان کی انگریزی تقریر انتہائی جوشیلے انداز میں تھی۔ انھوں نے بتایا کہ فلپائن کی مسلم آبادی کے علاقے میں آزادی کی جو لڑائی ہو رہی ہے ، اس میں اب تک کم از کم ۱۳۵ ہزار مسلمان اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فلپائن کے سابق صدر مارکوس کے ساتھ ہماری میٹنگ انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو میں ہر چیز دینے کے لئے تیار ہوں مگر میں آپ کو آزادی دینے کے لئے تیار
I am ready to give you anything except independence. مگر مسلم لیڈروں نے جواب دیا کہ ہماری لڑائی جہاد فی سبيل اللہ ہے۔ ہم کو صرف آزادی چاہئے ، اس کے سوا کوئی اور چیز ہم کو منظور نہیں۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی جد و جہد ہر مقام پر اسی صورت حال کا شکار ہے۔ مسلمان ہر جگہ بے فائدہ قومی جنگ لڑ رہے ہیں ، جس کا نام انھوں نے غلط طور پر جہاد فی سبيل اللہ رکھ لیا ہے۔ سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کو دوسرے لوگ انھیں دینے کے لئے تیار نہیں۔ اور دوسرے لوگ جو کچھ انھیں دے رہے ہیں وہ مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں۔ اس قسم کی جنگ سراسر بے فائدہ ہے۔ اس کا تعلق عقل سے بھی نہیں ، اسلام سے اس کا تعلق ہونا تو درکنار ۔